بنگلہ دیش میں اہم قانونی پیشرفت کے تحت استغاثہ نے انٹرنیشنل کرائمز ٹریبونل کے ٹریبونل2 میں درخواست دائر کرتے ہوئے 2 ریٹائرڈ سینئر فوجی افسران کی گرفتاری باضابطہ طور پر ریکارڈ پر لانے کی استدعا کردی۔
یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش: شیخ حسینہ کو 3 کرپشن کیسز میں مجموعی طور پر 21 سال قید کی سزا
استغاثہ کی جانب سے جمع کرائی گئی درخواست میں ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل مامون خالد اور ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل مسعود الدین چوہدری کو نامزد کیا گیا ہے۔ مامون خالد پر جبری گمشدگیوں سے متعلق الزامات عائد ہیں، جبکہ مسعود الدین چوہدری جولائی میں پیش آنے والے اجتماعی ہلاکتوں کے واقعات کے حوالے سے زیرِ تفتیش ہیں۔ دونوں سابق جرنیلوں کو گزشتہ ہفتے مختلف مقدمات میں گرفتار کیا گیا تھا۔
میں ٹریبونل سے استدعا کی گئی ہے کہ جاری مقدمات میں ملزمان کی گرفتاری کو باضابطہ طور پر شامل کیا جائے، جو عدالتی کارروائی میں ایک اہم مرحلہ تصور کیا جارہا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ابتدائی شواہد اس حد تک موجود ہیں کہ ملزمان کے خلاف قانونی کارروائی کو آگے بڑھایا جاسکے۔
یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش: شیخ حسینہ دور کے عہدیداروں کیخلاف مقدمے کی کارروائی کا آغاز
انٹرنیشنل کرائمز ٹریبونل، جو انسانیت کے خلاف جرائم اور دیگر سنگین خلاف ورزیوں کی سماعت کے لیے قائم کیا گیا تھا، اس وقت ماضی میں مبینہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے متعلق متعدد مقدمات کی سماعت کررہا ہے۔
قانونی ماہرین کے مطابق اگر ٹریبونل استغاثہ کی درخواست منظور کر لیتا ہے تو اس کے بعد فردِ جرم عائد ہونے اور باقاعدہ ٹرائل کی راہ ہموار ہو سکتی ہے، تاہم ملزمان کو قانون کے مطابق اپنا دفاع پیش کرنے کا مکمل حق حاصل ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: شیخ حسینہ کو اپنی ہی قائم کردہ عدالت نے سزائے موت کا فیصلہ سنا دیا
یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب بنگلہ دیش میں جبری گمشدگیوں اور اجتماعی تشدد کے ماضی کے واقعات ایک بار پھر سیاسی اور قانونی بحث کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔ ٹریبونل کی جانب سے درخواست پر فیصلے کے بعد مزید پیشرفت متوقع ہے۔













