پاکستان کی بحری صنعت میں تیزی سے اضافہ، پورٹ قاسم اعلیٰ کارکردگی والا ٹرانس شپمنٹ مرکز بن گیا

پیر 30 مارچ 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان اپنی بحری صلاحیت کو خطے میں ایک طاقتور مرکز میں بدلنے کی رفتار تیز کررہا ہے، جہاں پورٹ قاسم اتھارٹی ٹرانس شپمنٹ آپریشنز کو مضبوط کررہی ہے، صلاحیت میں اضافہ کر رہی ہے اور سرمایہ کار دوست مراعات فراہم کررہی ہے۔

اس سے نہ صرف کارکردگی میں اضافہ ہوا ہے بلکہ لاگت کم ہوئی ہے اور عالمی شپنگ لائنز کی توجہ بھی پاکستان کی جانب مرکوز ہو رہی ہے۔

مزید پڑھیں: آبنائے ہرمز کی بندش کے بعد، کیا گوادر، پورٹ قاسم اور کراچی کی بندرگاہیں گیم چینجر ثابت ہو سکتی ہیں؟

عالمی تجارتی راستوں میں تبدیلی اور علاقائی بندرگاہوں کے درمیان بڑھتی ہوئی مسابقت کے پیش نظر پاکستان اپنے بحری انفراسٹرکچر اور پالیسی فریم ورک کو اپ گریڈ کررہا ہے تاکہ ٹرانس شپمنٹ ٹریفک کو مؤثر طریقے سے حاصل کیا جا سکے۔

قاسم انٹرنیشنل کنٹینر ٹرمینل کی مضبوط کارکردگی، یارڈ کی بڑھائی گئی گنجائش اور پرکشش نرخوں کے باعث پورٹ قاسم اور کراچی پورٹ جنوبِ ایشیا، مشرقِ وسطیٰ اور دیگر علاقوں سے منسلک ایک کم لاگت اور اعلیٰ کارکردگی والے گیٹ وے کے طور پر ابھر رہے ہیں۔

حالیہ اعداد و شمار سے پتا چلتا ہے کہ پورٹ قاسم نے 2 جہازوں پر مجموعی طور پر 3 ہزار 485 کنٹینرز ٹرانس شپمنٹ کارگو سنبھالا، جس سے آپریشنل کارکردگی اور عالمی اعتماد میں اضافہ ظاہر ہوتا ہے۔

Northern Guard نے 3 ہزار 180 کنٹینرز کی کامیاب پروسیسنگ کے ذریعے پاکستان کی اعلیٰ حجم کنٹینر ٹریفک کو درستگی کے ساتھ سنبھالنے کی صلاحیت ثابت کی، جبکہ Nagoya Express نے 305 اضافی کنٹینرز سنبھالے، جس سے بڑھتی ہوئی بحری سرگرمی اور ٹرانس شپمنٹ کے حجم کی مضبوطی واضح ہوئی۔

برآمدات میں 29 ہزار 497 کنٹینرز کے حجم کے ساتھ پاکستان کے عالمی تجارتی بازاروں میں پھیلاؤ کی عکاسی ہوئی، جبکہ درآمدات کا حجم ایک ہزار 537 کنٹینرز رہا، جو مقامی طلب اور سپلائی چین کی استحکام کو ظاہر کرتا ہے۔

پورٹ قاسم اتھارٹی کی بڑھائی گئی صلاحیت 8 ہزار کنٹینرز سے زیادہ ہے، جو بڑھتی ہوئی ٹرانس شپمنٹ والیومز کو سنبھالنے کے لیے تیار ہے، اور پورٹ پر مال اتارنے یا منتقل کرنے کے لیے کوئی اضافی فیس نہ لینے اور کم شدہ بندرگاہی چارجز کی وجہ سے پاکستان عالمی شپنگ لائنز کے لیے انتہائی مسابقتی مقام بن گیا ہے۔

مراعاتی پالیسیاں جن میں 50 فیصد تک رعایتیں شامل ہیں، بڑھتی ہوئی ٹرانس شپمنٹ ٹریفک اور سرمایہ کاری کے اعتماد کو فروغ دے رہی ہیں۔

مزید پڑھیں: مشرق وسطیٰ کشیدگی: پیٹرول کے بعد ایل پی جی کے 2 جہاز بھی پورٹ قاسم پر لنگر انداز

کراچی پورٹ کی متوازی کارکردگی ایک مربوط قومی کوشش کے طور پر بحری معیار میں اضافہ کو یقینی بنا رہی ہے۔

تیز رفتاری، مؤثر کارکردگی اور اسٹرٹیجک اصلاحات کے نتیجے میں پاکستان تیزی سے خطے میں ایک کلیدی ٹرانس شپمنٹ اور لاجسٹکس ہب کے طور پر ابھر رہا ہے، جو نہ صرف تجارتی روابط کو مضبوط کر رہا ہے بلکہ ملکی اور علاقائی معیشت میں بھی اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp