وزن کم کرنے والی ادویات لینے سے پہلے کیا جاننا ضروری ہے؟

جمعرات 2 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وزن کم کرنے والی ادویات کوئی فوری حل نہیں ہیں جیسا کہ بہت سے لوگ سمجھتے ہیں اور خصوصاً اگر کوئی طویل مدت تک وزن کم رکھنا چاہتا ہو تو اس کو چند ضروری باتیں مدنظر رکھنی ہوں گی۔

یہ بھی پڑھیں: وزن کم کرنے اور پٹھے مضبوط کرنے کے لیے پروٹین کا استعمال کب کرنا چاہیے؟

بی بی سی کے مطابق سارہ لی بروک کو ان ادویات کے اثرات کا براہ راست تجربہ ہے۔ وہ اپنی بالغ زندگی کا بیشتر حصہ موٹاپے کے ساتھ گزار چکی ہیں اور کئی قسم کی ڈائٹس آزما چکی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جو بھی نیا طریقہ آتا میں سوچتی شاید یہ میرے لیے کام کرے گا مگر بدقسمتی سے وزن دوبارہ بڑھ جاتا تھا۔

2 سال سے زیادہ عرصہ وزن کم کرنے والی ادویات استعمال کرنے کے بعد انہوں نے تقریباً 51 کلو وزن کم کیا۔ وہ کہتی ہیں کہ اب میں ہر وقت کھانے کے بارے میں نہیں سوچتی اب میرے اندر زیادہ توانائی ہے اور میں وہ کام کر سکتی ہوں جو پہلے ممکن نہیں تھے۔ انہوں نے کہا کہ ایسا لگتا ہے جیسے مجھے زندگی میں نئی آزادی مل گئی ہو۔

آج لاکھوں لوگ سیمیگلوٹائڈ اور ٹرزیپیٹائڈ جیسی ادویات استعمال کر رہے ہیں جو عام طور پر اوزیمپک اور ماؤن جارو کے نام سے جانی جاتی ہیں۔ توقع ہے کہ مستقبل میں ان ادویات کا استعمال مزید بڑھے گا خاص طور پر جب انجیکشن کے بجائے گولیوں کی شکل میں ادویات دستیاب ہوں گی۔

یہ ادویات موٹاپے کے علاج میں ایک نئے دور کا آغاز کر رہی ہیں۔ بعض ماہرین کے مطابق یہ معجزاتی ادویات کے قریب ترین ہیں۔ تاہم کچھ ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ صرف ادویات پر انحصار کرنا درست نہیں کیونکہ ادویات چھوڑنے کے بعد وزن تیزی سے واپس آ سکتا ہے۔

یہ ادویات کیسے کام کرتی ہیں؟

یہ ادویات بھوک کو کم کرتی ہیں اور جسم میں ایسے ہارمونز کی نقل کرتی ہیں جو دماغ کو بتاتے ہیں کہ پیٹ بھر گیا ہے۔

مزید پڑھیے: کیا کچھ وقفوں کے لیے کھانا چھوڑنا وزن کم کرنے میں مؤثر ہے؟

ان میں GLP-1 اور GIP شامل ہیں جو جسم میں خوراک کی مقدار کو کنٹرول کرتے ہیں۔

زیادہ تر افراد چند ہفتوں میں وزن کم کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ اگرچہ یہ ادویات خاص طور پر موٹاپے کے مریضوں کے لیے منظور شدہ ہیں لیکن اب عام افراد بھی نجی طور پر ان کا استعمال کر رہے ہیں۔

تحقیقات کے مطابق 72 ہفتوں میں 14 سے 20 فیصد تک وزن کم ہو سکتا ہے تاہم تقریباً 10 سے 15 فیصد افراد پر یہ ادویات کم اثر کرتی ہیں۔

ادویات چھوڑنے پر وزن واپس بڑھ سکتا ہے

ماہرین کے مطابق اگر کوئی شخص یہ ادویات شروع کرتا ہے تو اسے طویل عرصے تک استعمال کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ اکثر لوگ تقریباً ایک سال بعد ادویات چھوڑ دیتے ہیں لیکن تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ اس کے بعد وزن دوبارہ تیزی سے بڑھ جاتا ہے۔

مزید پڑھیں: 3 ماہ میں 20 کلو وزن کیسے کم کیا جا سکتا ہے؟

ایک تحقیق کے مطابق ادویات چھوڑنے کے بعد وزن 4 گنا زیادہ تیزی سے بڑھ سکتا ہے۔ کچھ افراد 8 ہفتوں میں ہی دوبارہ وزن بڑھانا شروع کر دیتے ہیں اور ایک سال کے اندر کھویا ہوا 60 فیصد وزن واپس آ سکتا ہے۔

اس کی ایک وجہ ’فوڈ نوائز‘ ہے یعنی کھانے کے بارے میں مسلسل سوچنا۔ اس کے علاوہ ہارمونز بھی وزن بڑھانے میں کردار ادا کرتے ہیں۔

طرز زندگی میں تبدیلی ضروری ہے

ماہرین کے مطابق کچھ افراد طرز زندگی میں تبدیلی لا کر ادویات کی مقدار کم کر سکتے ہیں مگر زیادہ تر افراد کو کسی نہ کسی حد تک ادویات جاری رکھنا پڑتی ہیں۔

یہ بھی تشویش پائی جاتی ہے کہ کچھ لوگ ادویات کو طرز زندگی بدلنے کے متبادل کے طور پر استعمال کر رہے ہیں حالانکہ تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ بہتر نتائج کے لیے ادویات کے ساتھ صحت مند عادات اپنانا ضروری ہے۔

یہ بھی پڑھیے: وزن میں کمی کے لیے ’آف لیبل‘ دواؤں یا انجیکشنز کا استعمال کن مسائل کا باعث بن سکتا ہے؟

ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ مناسب غذا نہ لینے کی صورت میں جسم میں غذائی کمی، کمزوری اور پٹھوں کے ضیاع جیسے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔

یہ کوئی فوری حل نہیں

عالمی ادارہ صحت کے مطابق صرف ادویات موٹاپے کا مکمل حل نہیں ہیں اور بہتر نتائج کے لیے صحت مند ماحول، ابتدائی تشخیص اور طرز زندگی میں تبدیلی ضروری ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ موٹاپا ایک دائمی بیماری ہے جسے صرف دوا سے ختم نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے لیے مکمل نگہداشت اور مسلسل سپورٹ ضروری ہے۔

چھوٹی تبدیلیاں بھی مددگار

تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ چھوٹی چھوٹی عادات جیسے میٹھے مشروبات کی جگہ پانی پینا، تھوڑی واک کرنا یا ذہنی دباؤ کم کرنا بھی طویل مدت میں بڑا فرق ڈال سکتی ہیں۔

مضر اثرات بھی موجود ہیں

ان ادویات کے کچھ سائیڈ ایفیکٹس بھی ہیں جیسے معدے کے مسائل، لبلبے کی سوزش اور پتھری و پٹھوں کی کمزوری۔ بعض تحقیقات میں ہڈیوں اور جوڑوں کے مسائل کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں: ہلدی اور کالی مرچ کی چائے وزن گھٹائے

تاہم ماہرین کے مطابق موٹاپے سے جڑے خطرات جیسے دل کی بیماری، کینسر اور فالج کے مقابلے میں یہ مضر اثرات نسبتاً کم ہیں۔

مستقبل کی صورتحال

وزن کم کرنے والی ادویات کا میدان تیزی سے ترقی کر رہا ہے۔ نئی ادویات جیسے ریٹاٹروٹائڈ بھی سامنے آ رہی ہیں جو مزید مؤثر ثابت ہو سکتی ہیں۔

تحقیقات سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ یہ ادویات دل کی صحت بہتر بنانے، انفیکشن کم کرنے اور دیگر بیماریوں کے خطرات گھٹانے میں بھی مددگار ہو سکتی ہیں۔

الغرض ماہرین کے مطابق یہ ادویات موٹاپے کے علاج کا صرف ایک حصہ ہیں اور اصل ضرورت اس بات کی ہے کہ لوگ صحت مند عادات اپنائیں اور معاشرے میں ایسے ماحول کو فروغ دیا جائے جہاں صحت مند انتخاب آسان ہو۔

مزید پڑھیے: سلمنگ انجیکشن چھوڑنے والوں کا وزن کتنے عرصے میں دوبارہ پہلے جتنا ہوجاتا ہے؟

وہ اس بات پر بھی زور دیتے ہیں کہ مستقبل میں ہمیں ایسی پالیسیاں بنانی چاہییں تاکہ آنے والی نسلوں کو ان ادویات کی ضرورت ہی نہ پڑے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp