ایران امریکا تصادم کس طرف جا رہا ہے؟

منگل 14 اپریل 2026
author image

عامر خاکوانی

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اس جنگ کے توسط سے ہم پاکستانیوں کا جغرافیہ کم از کم ہرمز کے حوالے سے خاصا اچھا ہوگیا ہے۔ ہم میں سے بہت سے یہ جانتے ہیں کہ یہ وہ آبنائے ہے جس سے دنیا کے تیل کی بیس فیصد سپلائی گزرتی ہے اور جو دو مارچ سے عملاً بند تھی۔ اب کل شام سات بجے سے یہ امریکی بحری ناکہ بندی کی زد میں بھی آ چکی ہے، ہرمز سے لگنے والی تمام ایرانی بندرگاہوں پر صدر ٹرمپ نے ناکہ بندی نافذ کی ہے۔

صدر ٹرمپ نے اس حوالے سے ایران کی تیز رفتار کشتیوں کو خبردار کیا کہ اگر وہ ناکہ بندی کے قریب آئیں تو فوری ختم کر دی جائیں گی۔ ایران کے قائم مقام وزیر دفاع نے اعلان کیا کہ ایرانی افواج زیادہ سے زیادہ جنگی تیاری کی حالت میں ہیں۔ ایرانی سائیڈ سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر ایران کی بندرگاہیں غیر محفوظ ہوئیں تو پورا خلیجی علاقہ غیر محفوظ ہو جائے گا۔ دو طاقتیں آمنے سامنے ہیں، دونوں کے لہجے سخت ہیں، مگر شاید اصل کھیل الفاظ کے پیچھے کہیں اور کھیلا جا رہا ہے۔

فلیش بیک اسلام آباد

فلم، ڈرامے میں ایک تکنیک فلیش بیک کی استعمال کی جاتی ہے، زمانہ حال سے پیچھے جا کر ماضی کے مناظر دکھائے جاتے ہیں تاکہ کہانی آگے بڑھ سکے۔ ہم بھی ذرا پیچھے چلتے ہیں۔ گیارہ اور بارہ اپریل کی وہ تاریخی رات یاد کریں جب اسلام آباد کے سرینا ہوٹل کے گرد دس ہزار سیکیورٹی اہلکار تعینات تھے، شہر کی سڑکیں بند تھیں اور امریکی نائب صدر جے ڈی وینس ایرانی پارلیمانی اسپیکر قالیباف کے ساتھ اکیس گھنٹے مذاکرات کی میز پر بیٹھے تھے۔ 1979 کے بعد یہ پہلا موقع تھا کہ امریکا اور ایران اس سطح پر آمنے سامنے بیٹھے۔ ایرانی وزیر خارجہ عراقچی نے بعد میں لکھا کہ وہ ’اسلام آباد یادداشت‘ کے ایک ایک لفظ کے قریب پہنچ گئے تھے، پھر امریکی طرف سے مطالبات بدلتے رہے، اہداف کھسکتے رہے اور ناکہ بندی کا اعلان آ گیا۔

وینس نے جاتے ہوئے کہا کہ یہ برا نتیجہ ایران کے لیے امریکا سے زیادہ برا ہے۔ یہ جملہ دیکھنے میں تکبر لگتا ہے مگر اس میں ایک سیاسی پیغام بھی ہے کہ امریکا مذاکرات کا دروازہ بند نہیں کر رہا، بس قیمت بڑھا رہا ہے۔

بازار کی روایتی بارگیننگ

معروف دفاعی، عسکری ویب سائٹ ایکسوز نے اپنے ایک علاقائی ذریعے کا اہم جملہ نقل کیا: ’ہم مکمل تعطل میں نہیں ہیں، دروازہ بند نہیں ہوا، دونوں طرف سودے بازی جاری ہے، یہ ایک بازار ہے۔‘ یہ بازار والی بات بہت گہری ہے۔ مشرق وسطیٰ کی سیاست میں حتمی فیصلہ اکثر اسی طرح ہوتا ہے، ظاہر میں غصہ، اندر سے حساب کتاب۔ اس حوالے سے بعض اشارے مل رہے ہیں، اہم نیوز رپورٹس بھی کسی نہ کسی حد تک اسے کنفرم کررہی ہیں۔

ممتاز اور بااثر برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز نے لکھا کہ فریقین نے خفیہ رابطوں کی لکیر بند نہیں کی جبکہ ابھی تک اسلام آباد میں موجود اطالوی صحافی گیبریلا کولارسو نے اسلام آباد کے ذرائع سے رپورٹ دی ہے کہ ترکی اور مصر بھی اکیس اپریل سے پہلے دونوں کو دوبارہ میز پر لانے کی کوشش میں ہیں۔ سی این این نے خبر دی کہ اگلی نشست کے لیے جنیوا اور اسلام آباد پھر زیر غور ہیں۔ پیر کو ایک ایرانی نژاد امریکی صحافی ، مصنف کا ٹوئٹ گردش کرتا رہا جسے کے مطابق جمعرات کو مذاکرات کا اگلا راؤنڈ پھر سے اسلام آباد میں ہوگا۔ تاہم یہ ٹوئیٹ بعد میں کنفرم نہ ہوسکا۔

بیس اپریل کا ٹائم بم

ایک بہت اہم پہلو کی طرف اپنے قارئین کی توجہ مبذول کرانا چاہتا ہوں۔ وہ وقت کی کمی ہے۔ معروف فنانشل ادارے جے پی مورگن کا حساب ہے کہ دو مارچ کو آبنائے ہرمز کی باضابطہ بندش کے بعد جو آخری تیل بردار جہاز گزرا، وہ بیس اپریل تک اپنی منزل پر پہنچ جائے گا۔ اس تاریخ کے بعد دنیا کے ذخائر سے جنگ سے پہلے کا تیل ختم ہو جائے گا۔ یعنی بیس اپریل کے بعد اصل بحران شروع ہوگا۔ پھر اکیس اپریل کو جنگ بندی بھی ختم ہوتی ہے۔ یہ دو تاریخیں ملا کر دیکھیں تو سمجھ آتا ہے کہ اگلے سات دن دراصل اگلے کئی مہینوں کا فیصلہ کریں گے۔

ٹرمپ کا اصل تضاد

کئی اہم عالمی تجزیہ کاروں اور ماہرین کی رائے میں صدر ٹرمپ ایک ایسی آگ میں پھنسے ہیں جو انہوں نے خود لگائی ہے۔ ایک طرف وہ ایران پر دباؤ بڑھانا چاہتے ہیں، دوسری طرف امریکی پیٹرول چار ڈالر بارہ سینٹ فی گیلن کے قریب پہنچ گیا ہے، امریکی صارف کا اعتماد تاریخ کی کم ترین سطح پر ہے اور نومبر میں وسط مدتی انتخابات ہیں۔ ان مڈ ٹرم الیکشن میں اگر ٹرمپ کی جماعت ہاؤس ہار گئی اور اگر زیادہ ماڑی قسمت ہوئی سینیٹ میں بھی ان کی اکثریت ختم ہوگئی تو پھر سمجھ لیں کہ صدر ٹرمپ کے برے دن شروع۔ اگلے دو سال وہ اگر صدر رہے تب بھی ان کا ہر روز مشکلات اور الجھنوں سے نمٹتے گزرے گا۔

اب ٹرمپ کے لیے چیلنج ایک طرف ایران کو دبانا اور دوسری طرف اپنے امریکی ووٹر کو مہنگائی سے بچانا ہے۔ یہ دونوں کام ایک ساتھ نہیں ہو سکتے۔ یہی تضاد آخرکار انہیں معاہدے کی طرف لے جائے گا، بشرطیکہ ایران بھی اتنی ہمت دکھائے۔

ٹرمپ مخالفین کا خیال ہے کہ ٹرمپ نے اپنے آپ کو ایک ایسی جنگ میں پھنسا لیا ہے جس سے نکلنا اب آسان نہیں، خاصا ٹِرکی ہوچکا۔ البتہ برطانوی جریدے اکنامسٹ کے مطابق ٹرمپ کو اندازہ ہوچکا کہ وہ غلط جنگ میں پھنسے ہیں، وہ اب دوبارہ سے بھرپور جنگ کی طرف نہیں جائیں گے اور ان کے سخت، جارحانہ بیانات محض ایران پر دباو ڈالنے کا حربہ ہے تاکہ مرضی اور پسند کی بارگیننگ مل جائے۔

چالیس ممالک کا اتحاد اور امریکا کی تنہائی

امریکا اور صدر ٹرمپ کے لئے ایک اور پریشانی بھی سر اٹھا رہی ہے۔ ناکہ بندی کے چند گھنٹوں میں ہی ایک اور خبر آئی۔ برطانیہ نے باضابطہ اعلان کیا کہ وہ امریکی ناکہ بندی میں شامل نہیں ہوگا۔ نیٹو کے ایک سینیئر عہدیدار نے سی بی ایس نیوز کو بتایا کہ برطانیہ چالیس سے زیادہ ممالک پر مشتمل ایک الگ اتحاد کی قیادت کر رہا ہے جو آبنائے ہرمز میں آزادانہ جہازرانی بحال کرنا چاہتا ہے، یہ اتحاد نہ ایران کی طرف ہے اور نہ امریکی ناکہ بندی کا حصہ ہے۔ فرانسیسی صدر میکرون نے اس مشن کو سختی سے دفاعی اور غیر جانبدار قرار دیا۔ یعنی امریکا کے قریبی اتحادی اس مرتبہ ساتھ نہیں ہیں۔ یہ امریکی تنہائی کی علامت ہے اور یہی وہ دباؤ ہے جو ٹرمپ کو آخرکار لچک دکھانے پر مجبور کر سکتا ہے۔

ایران کے اندرونی مسائل اور مجبوری

بعض ماہرین اس جانب توجہ دلا رہے ہیں کہ ایران میں بھی اس وقت اندرونی تقسیم ہے۔ ایران کے اندر پیچیدہ صورتحال ہے۔ پزشکیان یعنی صدر نسبتاً اعتدال پسند ہیں اور معاہدہ چاہتے ہیں۔ پاسداران انقلاب جنگ جاری رکھنا چاہتے ہیں۔ نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنائی ابھی مستحکم نہیں ہوئے، خبروں کے مطابق وہ ابھی تک زخمی ہیں، دوسرا سیکیورٹی کی وجہ سے انہیں علیحدہ بھی کسی خفیہ جگہ پر رکھا ہوا ہوگا۔ یعنی ایران کے اندر تین مختلف آوازیں ہیں اور یہ کشمکش بھی نتیجہ طے کرے گی۔

ایران کی بھی اپنی ریڈلائنز ہیں اور ان کے لیے پیچھے ہٹنا آسان نہیں۔ جیسے نیوکلیئر معاملے پر ایران مکمل دست بردار نہیں ہوسکتا۔ وہ کم از کم انرچمنٹ تک محدود رہناچاہے گا، یعنی میڈیکل معاملات کے لیے استعمال ہونے والی یورینئم تک۔ یہ بات صدر ٹرمپ اور ان کی مذاکراتی ٹیم کو شاید سمجھ نہیں آئی۔ وہ ایران کو اس حوالے سے بہت زیادہ پیچھے ہٹنے پر مجبور کر رہے ہیں۔

دراصل ٹرمپ ایرانی نیوکلیئر پروگرام کا خودساختہ بہانہ بنا کر حملہ آور ہوا تھا، اب وہ فخریہ اعلان کرنا چاہتا ہے کہ ایران کا نیوکلیئر پروگرام ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا گیا ہے۔ دوسری طرف یہی معاملہ ایرانی حکومت اور مقتدر قوتوں کا ہے۔ اگر انہوں نے دب کر ، بہت پیچھے ہٹ کر معاہدہ کیا تو ایرانی عوام ان سے سوال کر سکتے ہیں کہ یہی سب کچھ کرنا تھا تو جنگ سے پہلے ہی مان جاتے، اتنا نقصان، اتنی شہادتیں تو نہ ہوتیں۔

اسلام آباد مذاکرات ناکام ہونے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ دونوں فریق خود کو فاتح سمجھتے ہیں اور وہ مخالف کو رعایت دینے کے موڈ میں بالکل نہیں۔ عام طور سے ایسے پیچیدہ معاملات میں کسی ایک فریق کو تھوڑا پیچھے ہٹنا پڑتا ہے۔یہ بات ایران امریکا مذاکراتی ٹیموں کو سمجھنی چاہیے تھی۔

صدر ٹرمپ نے بحری ناکہ بندی اسی لیے کی ہے کہ ایران پر معاشی دباؤ بڑھے اور وہ پیچھے ہٹ کر معاہدہ کرنے پر مجبور ہوجائے۔ ایران نے اب تک جیسی مزاحمت اور مضبوطی دکھائی ہے، اس کے پیش نظر ایرانی یوں آسانی سے پسپا تو نہیں ہوں گے۔ یہ بات صورتحال پیچیدہ بنا دیتی ہے۔

پاکستان کا درد اور فخر

یہاں بیٹھ کر یہ سب دیکھتے ہوئے دل میں دو جذبے ایک ساتھ اٹھتے ہیں۔ ایک طرف فخر ہے۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف نے جو سفارتی کارنامہ انجام دیا، تاریخ اسے یاد رکھے گی۔ ایرانی وفد کو جے ایف سترہ اور ایف سولہ کی اسکارٹ دی گئی۔ اکیس گھنٹے مذاکرات کرائے گئے۔ 1979 کے بعد پہلی بار دونوں فریق ایک ہی کمرے میں بیٹھے۔ سفیر منیر اکرم نے درست کہا: ’ہم انہیں میز پر لے آئے، فیصلہ ان کا کام ہے۔‘ پاکستان نے اسلام آباد میں میڈیا سرکس نہیں لگنے دی، ہر قدم پر شائستگی اور وقار برقرار رہا۔

دوسری طرف اسلام آباد میں تشویش بھی ہے کہ بحران طویل ہوا تو پاکستانی معیشت بری طرح متاثر ہوگی۔ ہے۔ پاکستان کی اسی فیصد تیل ضروریات درآمد سے پوری ہوتی ہیں۔ سعودی عرب نے ینبو بندرگاہ کے ذریعے تیل دینے کی یقین دہانی کرائی، یہ احسان ہے۔ مگر گیس کا معاملہ الگ اور سنگین ہے۔

قطر سے ایل این جی دو مارچ سے بند ہے۔ مارچ میں آٹھ میں سے صرف دو جہاز آئے۔ سینیٹ کمیٹی کو بتایا گیا کہ چودہ اپریل کے بعد ایل این جی ختم ہو جائے گی، وہ تاریخ گزر چکی ہے۔ بجلی گھروں کو گیس کی فراہمی تین سو سے گھٹ کر ایک سو تیس ایم ایم سی ایف ڈی پر آ گئی ہے، کھاد کارخانے بند ہیں۔ کھاد نہیں ملی تو فصلیں متاثر ہوں گی، فصلیں متاثر ہوئیں تو خوراک مہنگی ہوگی، اور یہ سب اس آدمی کے گھر میں جا کر لگتا ہے جو پہلے ہی مہنگائی سے تھکا ہوا ہے۔

پاکستان میں گیس کا سب سے بڑا صارف بجلی گھر ہیں جو تیس فیصد گیس استعمال کرتے ہیں۔ پھر گھریلو صارفین اور کھاد کا شعبہ ہر ایک تیئس سے چوبیس فیصد لیتا ہے۔ صنعتی شعبہ بیس فیصد اور باقی سیمنٹ، ٹرانسپورٹ اور تجارتی شعبہ ہے۔

ایل این جی بند ہونے کا مطلب ہے: پہلی ضرب بجلی گھروں پر پڑے جس سے لوڈ شیڈنگ میں اضافہ ہوگا۔ دوسری مار کھاد کے کارخانوں پر۔ ایل این جی بندش کے بعد حکومت نے کھاد کے شعبے کو گیس کی فراہمی معطل کر دی ہے۔ کھاد نہیں بنے گی تو فصلیں متاثر ہوں گی۔ مہنگائی بڑھے گی۔ تیسری ضرب ٹیکسٹائل اور صنعتوں پرپڑتی ہے۔

ایل این جی کا نہ ملنا دراصل ایک زنجیر کی طرح ہے۔ گیس بند تو بجلی گھر بند، بجلی گھر بند تو لوڈشیڈنگ، لوڈشیڈنگ تو صنعتیں بند، صنعتیں بند تو برآمدات کم، ساتھ میں کھاد کارخانے بند تو فصلیں متاثر، فصلیں متاثر تو خوراک مہنگی۔ اور یہ سب ایک ہی وقت میں ہوتا ہے۔ یہ صرف توانائی کا بحران نہیں یہ پوری معیشت اور عام آدمی کی زندگی کا بحران ہے۔

ناکہ بندی سے پیدا ہونے والے خطرات

سب سے خطرناک منظرنامہ یہ ہے کہ امریکی ایرانی بندرگاہوں سے نکلنے والے جہازوں کو اپنے قابو میں کر لیں تو اس پر ردعمل شدید نہ ہوجائے۔ اگر ایران کسی جہاز پر حملہ کرتا ہے یا سمندر میں رکاوٹیں کھڑی کرتا ہے تو امریکا فوری فوجی کارروائی کرسکتا ہے۔ ایک اور بڑا خطرہ یہ بھی ہے کہ خلیج میں بہت زیادہ جنگی جہاز موجود ہیں جبکہ راستہ تنگ ہے۔ ایسے میں ایک معمولی غلطی بھی بڑی جنگ کا سبب بن سکتی ہے۔

تین ممکنہ منظرنامے بن سکتے ہیں۔ پہلی صورت : محدود کشیدگی، چھوٹے پیمانے پر جھڑپیں ،مگر جنگ نہ پھیلے۔ دوسری صورت: بڑی جنگ جس میں ایران خلیجی ممالک کو نشانہ بنائے۔ پھرامریکا ایران کے اندر حملے کرے یوں پورے خطے میں جنگ پھیل سکتی ہے۔ تیسری صورت: دباؤ کے بعد مذاکرات

چند دن کشیدگی پھر دوبارہ بات چیت

ہمیں تیسری آپشن کی توقع اور امید لگانی چاہیے۔ مذاکرات کا عمل پھر سے شروع ہو، جس کے لیے پس پردہ خاصی کوششیں ہو رہی ہیں۔ عین ممکن ہے یہ اسلام آباد میں ہو یا پھر کہیں اور ہو جائے، مگر مذاکرات کی انگیجمنٹ ہی کشیدگی اور تناؤ کم کرے گی۔
اکیس اپریل سے پہلے

تو اب نظریں اکیس اپریل پر ٹکی ہیں۔ یہ وہ تاریخ ہے جب جنگ بندی ختم ہونی ہے۔ پاکستان، مصر اور ترکی کے ثالث اس سے پہلے کچھ کر گزرنا چاہتے ہیں۔ دونوں فریق مذاکراتی عمل جاری رکھنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ خفیہ رابطوں کی تار ابھی ٹوٹی نہیں۔

ایرانی صدر پزشکیان نے کہا: ’اگر امریکا آمریت ترک کر دے تو معاہدے کا راستہ ضرور نکلے گا۔‘ یہ جملہ سخت لہجے میں ہے مگر اس میں ایک دروازہ بھی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ بڑی جنگوں کا خاتمہ بھی اکثر اسی طرح ہوتا ہے، عین اس وقت جب لگتا ہے کہ سب کچھ ٹوٹنے والا ہے، کوئی ایک خاموش لمحہ آتا ہے اور میز کے اوپر نہیں، نیچے سے ہاتھ ملتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ اس خطے کے مظلوم عوام کو امن نصیب فرمائے، پاکستان کو حکمت اور وسعت رزق عطا کرے اور ان مذاکرات میں خیر کا راستہ کھولے۔ آمین۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

نیچرل سائنسز میں گریجویشن، قانون کی تعلیم اور پھر کالم لکھنے کا شوق صحافت میں لے آیا۔ میگزین ایڈیٹر، کالم نگار ہونے کے ساتھ ساتھ 4 کتابوں کے مصنف ہیں۔ مختلف پلیٹ فارمز پر اب تک ان گنت تحریریں چھپ چکی ہیں۔

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

تونسہ میں ایچ آئی وی بحران، غیر تربیت یافتہ افراد سے انجیکشن لگوانے کا انکشاف

بحیرہ انڈمان میں کشتی ڈوبنے کا ہولناک واقعہ، 250 سے زائد افراد لاپتا ہونے کا خدشہ

امریکی سفارتکار زکری ہارکن رائیڈر کی مولانا فضل الرحمان سے ملاقات

خیبرپختونخوا: سرکاری ملازمین کی حکومتی اجازت کے بغیر غیرملکیوں سے شادی پر پابندی، نئے رولز جاری

ورلڈ کوانٹم ڈے: نئی ٹیکنالوجی کے چیلنج پر ادارے تیار، ڈیٹا کو لاحق خطرات میں اضافہ

ویڈیو

پاکستان، ایران اور امریکا کے درمیان امن معاہدے کے لیے مزید کیا سکتا ہے؟

پاکستان میں بھارتی مواد چلانے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے، عوام کی رائے

پچھلے 13 سالوں میں پی ٹی آئی نے خیبرپختونخوا میں کرپشن کے سوا کچھ نہیں کیا، آفتاب شیرپاؤ

کالم / تجزیہ

ایک تھی آشا

سمندری ناکہ بندی اور فیصلہ کن گھڑی میں پاکستان کا ثابت قدم کردار

کیا مذاکرات کے شور میں تحریک انصاف ختم ہو چکی ہے؟