’والد نے نصیحت کی تھی کہ بیج بوتے رہو، کبھی نہ کبھی کوئی پیڑ بن ہی جائے گا، اور اگر سالن میں نمک نہ ہو تب بھی خاموشی سے کھا لینا، پڑوسی کے گھر نمک مانگنے مت جانا۔ میں نے ساری زندگی اسی نصب العین پر گزاری ہے۔‘آشا بھوسلے
برصغیر کی موسیقی ایک عہد کے خاتمے پر نوحہ کناں ہے۔ آشا بھوسلے کے ساتھ وہ آواز خاموش ہو گئی جس نے دہائیوں تک محبت، جدائی، شوخی اور زندگی کے بے شمار رنگوں کو سُروں میں ڈھالا۔ لیکن بعض آوازیں خاموش ہو کر بھی ختم نہیں ہوتیں، وہ وقت کے حافظے میں ہمیشہ گونجتی رہتی ہیں۔
آشا بھوسلے 8 ستمبر 1933 کو بھارتی ریاست مہاراشٹر کے علاقے سانگلی میں پیدا ہوئیں۔ ان کا تعلق فنکار گھرانے سے تھا، والد دینا ناتھ منگیشکر کلاسیکل گلوکار اور تھیٹر آرٹسٹ تھے۔ ان کی دیدی (بڑی بہن) لتا منگیشکر عالمی شہرت یافتہ گلوکار تھیں مگر زندگی نے آشا کو آسان راستہ نہیں دیا۔ کم عمری میں والد کے انتقال کے بعد انہوں نے نہ صرف گھر سنبھالا بلکہ گلوکاری کو ذریعۂ معاش بنایا اور پھر یہی مشقت ان کی پہچان بن گئی۔
ابتدائی دنوں میں انہیں وہ مقام نہ ملا جس کی وہ حقدار تھیں۔ چھوٹے موٹے گانے اور کم مواقع، یہی ان کا حصہ تھے۔ مگر آشا بھوسلے نے کبھی ہار نہیں مانی۔ انہوں نے اپنی ایک الگ راہ بنائی، ایک ایسا انداز تخلیق کیا جس میں شوخی بھی تھی، درد بھی اور زندگی کی حرارت بھی۔
پھر وقت نے کروٹ لی اور ان کی ملاقات آر ڈی برمن سے ہوئی۔ یہ محض ایک پیشہ ورانہ تعلق نہ تھا بلکہ موسیقی کی تاریخ کا ایک سنہری باب تھا۔ اس جوڑی نے ایسے نغمے تخلیق کیے جو آج بھی زندہ ہیں اور شاید ہمیشہ رہیں گے۔
آشا بھوسلے کی اصل پہچان ان کی ہمہ جہتی تھی۔ وہ غزل کی نزاکت بھی نبھا سکتی تھیں اور فلمی گیت کی شوخی بھی۔ ان کی آواز میں ایک عجب سی لچک تھی جو ہر دھن، ہر جذبے کے ساتھ خود کو ڈھال لیتی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا کیریئر سات دہائیوں سے زیادہ عرصے پر محیط رہا، جو کسی بھی فنکار کے لیے ایک غیر معمولی اعزاز ہے۔
1987 میں ریلیز ہوئی’گلزار‘ کی شہرہ آفاق فلم ’اجازت‘ کا گانا ’میرا کچھ سامان تمہارے پاس پڑا ہے‘، میرا پسندیدہ گانا ہے۔ آشا بھوسلے کی یاد میں آج اسی پر بات کرتے ہیں۔
’میرا کچھ سامان تمہارے پاس پڑا ہے‘ آشا کے فن کی معراج سمجھا جاتا ہے اور برصغیر کی موسیقی میں منفرد مقام رکھتا ہے۔ یہ محض ایک گانا نہیں بلکہ یادوں، تعلق اور بچھڑنے کے بعد رہ جانے والے جذبات کی ایک گہری داستان ہے۔ یہ گانا دراصل ایک نظم ہے۔ یادوں کا ایک ایسا بیانیہ جس میں محبت کی کسک کو نہایت سادگی مگر گہرائی کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔
یہ گانا ہمیں بتاتا ہے کہ محبت صرف وصل کا نام ہی نہیں، بلکہ ہجر کے بعد رہ جانے والی یادوں کا بھی اپنا وجود ہوتا ہے۔ یہ گانا نامور شاعر ’گلزار‘ نے تخلیق کیا تھا جبکہ ’آر ڈی برمن‘ اس کے موسیقار تھے۔ ’سامان‘ وہی لمحے ہیں جو کبھی لوٹائے نہیں جا سکتے، مگر دل میں ہمیشہ محفوظ رہتے ہیں:
میرا کچھ سامان تمہارے پاس پڑا ہے
اور ساون کے کچھ بھیگے بھیگے دن رکھے ہیں
اور مرے اِک خط میں لپٹی رات پڑی ہے
وہ رات بجھا دو میرا وہ سامان لوٹا دو
میرا کچھ سامان
پت جھڑ ہے کچھ ہے ناں
اور پت جھڑ میں کچھ پتوں کے گرنے کی آہٹ
کانوں میں اک بار پہن کے لوٹ آئی تھی
پت جھڑ کی وہ شاخ ابھی تک کانپ رہی ہے
وہ شاخ گرا دو میرا وہ سامان لوٹا دو
ایک اکیلی چھتری میں جب آدھے آدھے بھیگ رہے تھے
آدھے سوکھے آدھے گیلے سکھا تو میں لے آئی تھی
گیلا من شاید بستر کے پاس پڑا ہو
وہ بھجوا دو میرا وہ سامان لوٹا دو
ایک سو سولہ چاند کی راتیں ایک تمہارے کاندھے کا تل
گیلی مہندی کی خوشبو جھوٹ موٹ کے شکوہ کچھ
جھوٹ موٹ کے وعدے بھی سب یاد کرا دوں
سب بھجوا دو میرا وہ سامان لوٹا دو
ایک اجازت دے دو بس جب اس کو دفناؤں گی
میں بھی وہیں سو جاؤں گی
میں بھی وہیں سو جاؤں گی
اس گانے کی خاص بات یہ ہے کہ یہ روایتی گیت کے بجائے ایک داخلی مکالمہ محسوس ہوتا ہے۔ جیسے کوئی خود کلامی کر رہا ہو، یا کسی کو خط لکھ رہا ہو۔ یہی وجہ ہے کہ یہ گانا سننے والے کے دل میں اتر جاتا ہے، کیونکہ ہر کسی کے پاس کچھ نہ کچھ ایسا ’سامان‘ ہوتا ہے جو وہ کبھی واپس نہیں لے پاتا۔
آشا بھوسلے کی آواز میں اس نظم کی ادائی بھی غیر معمولی ہے۔ انہوں نے اسے گانے کے بجائے محسوس کرکے سنایا۔ نہ زیادہ سجاوٹ بناوٹ، نہ ہی غیر ضروری اتار چڑھاؤ، بس ایک سادہ، سچی اور دل سے نکلی ہوئی آہ و فریاد۔
یہ گانا اپنے وقت میں بھی منفرد تھا اور آج بھی اپنی تازگی برقرار رکھے ہوئے ہے۔ یہ ہمیں یقین دلاتا ہے کہ محبت ہمیشہ زندہ رہتی ہے۔ کبھی یادوں کی صورت، کبھی ادھورے سوالوں یا ان کہی باتوں کی شکل میں۔ یوں یہ صرف ایک گانا نہیں، بلکہ ایک احساس ہے جو وقت کے ساتھ مدھم تو ہو سکتا ہے، مگر ختم نہیں ہوپاتا۔
آشا بھوسلے کہتی تھیں کہ جب بھی وہ یہ گانا گاتی ہیں تو ایک الگ دنیا میں چلی جاتی ہیں۔ اس گانے کے بول لوگوں کے دلوں کو بہت آسانی سے چھو جاتے ہیں۔
گلزار صاحب کہتے ہیں کہ انہوں نے جب یہ گانا آر ڈی برمن کو سنایا تو انہوں نے کہا کہ یہ گانا نہیں بلکہ ایک سین لگتا ہے، کیونکہ اس میں روایتی میٹر (ردھم) نظر نہیں آ رہا۔ آشا بھوسلے بھی وہاں موجود تھیں۔ انہوں نے گانے کی ایک لائن گنگنائی اور اس کے سُر بتائے۔ یوں آر ڈی برمن نے دھن بنانا شروع کی اور گنگناتے ہوئے پورا گانا کمپوز کردیا۔
آشا بھوسلے کو ان کے فن کے اعتراف میں داد صاحب پھالکے اور پدما وبھوشن جیسے بڑے اعزازات سے بھی نوازا گیا۔ انہوں نے متعدد زبانوں میں ہزاروں گانے گائے اور ہر زبان و انداز میں اپنی شناخت قائم کی۔
ان کے گائے ہوئے نغمے سنائی دیتے ہیں تو یوں لگتا ہے جیسے وقت تھم گیا ہو۔ ان کی آواز میں ایک ایسا سحر تھا جو صرف کانوں تک نہیں بلکہ دل تک پہنچتا تھا۔ آشا بھوسلے ایک نام نہیں، احساس ہیں اور ایسے احساس کبھی ختم نہیں ہوتے۔ شاید اسی لیے آج بھی کہیں نہ کہیں یہ صدا گونجتی ہے:
’ابھی نہ جاؤ چھوڑ کر کہ دل ابھی بھرا نہیں‘۔۔۔۔۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔













