ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو اعلان کیا کہ پیٹنٹ شدہ ادویات پر اب سے امریکا میں 100 فیصد محصول عائد ہوگا، تاہم کمپنیوں کو یہ ٹیکس انتظامیہ کے ساتھ معاہدے کے ذریعے بچانے کی سہولت بھی دی جائے گی۔
مزید پڑھیں:اوزیمپک اور مونجارو جیسی ادویات وزن کم کرنے کا حل یا وقتی سہارا؟
وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد امریکا میں اہم ادویات کی پیداوار کو فروغ دے کر قومی سلامتی کے خطرات کو کم کرنا ہے۔
یہ اقدام اس وقت زیادہ تر علامتی نوعیت کا ہے کیونکہ یہ عام استعمال کی جانے والی ادویات پر لاگو نہیں ہوتا۔ بڑی دوا ساز کمپنیوں میں سے کئی پہلے ہی ایسے معاہدے کر چکی ہیں جن سے وہ محصولات سے مستثنیٰ ہو جائیں گی، اور آئندہ ہفتوں میں مزید کمپنیاں ایسا کرنے کی توقع ہے۔
وائٹ ہاؤس کے مطابق، اگر کمپنیاں امریکا میں نئے پیداواری منصوبے شروع کرنے کا عہد کریں تو ان کی ادویات پر محصول صرف 20 فیصد ہوگا، اور اگر وہ حکومت کے ساتھ قیمتوں کے معاہدے کریں تو محصول صفر ہو جائے گا۔
مزید پڑھیں:وزن کم کرنے والی ادویات لینے سے پہلے کیا جاننا ضروری ہے؟
پہلے ہونے والے معاہدوں میں کمپنیاں حکومت کے صحت کے پروگراموں کے لیے اپنی ادویات بیرون ملک قیمتوں کے مطابق فروخت کرنے پر متفق ہو چکی ہیں۔
اس کے علاوہ، امریکا پچھلے سال اہم شراکت داروں جیسے یورپ، سوئٹزرلینڈ، برطانیہ، جنوبی کوریا اور جاپان کے ساتھ طے شدہ کم محصولات کو بھی برقرار رکھے گا۔











