اوزیمپک اور مونجارو جیسی ادویات وزن کم کرنے کا حل یا وقتی سہارا؟

جمعہ 3 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وزن کم کرنے والی ادویات جیسے اوزیمپک  اور مونجارو  کے استعمال سے متعلق ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ یہ ادویات مؤثر ضرور ہیں، لیکن مستقل نتائج کے لیے صرف دوا کافی نہیں ہوتی۔

یہ بھی پڑھیں:وزن کم کرنے والی ادویات لینے سے پہلے کیا جاننا ضروری ہے؟

ماہرین کے مطابق یہ ادویات جسم میں ایسے ہارمونز کی نقل کرتی ہیں جو پیٹ بھرنے کا احساس پیدا کرتے ہیں، جس سے کھانے کی مقدار کم ہو جاتی ہے اور وزن میں کمی آتی ہے۔ تاہم تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ اگر دوا بند کر دی جائے تو اکثر افراد کا وزن دوبارہ تیزی سے بڑھ جاتا ہے۔

ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ بہتر نتائج کے لیے ان ادویات کو صحت مند غذا، ورزش اور طرزِ زندگی میں تبدیلیوں کے ساتھ استعمال کرنا ضروری ہے۔ بصورت دیگر مریضوں کو پٹھوں کی کمی اور غذائی کمی جیسے مسائل کا سامنا ہو سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:کیا کچھ وقفوں کے لیے کھانا چھوڑنا وزن کم کرنے میں مؤثر ہے؟

ماہرین نے یہ بھی خبردار کیا ہے کہ ان ادویات کے کچھ مضر اثرات بھی ہو سکتے ہیں، جن میں ہاضمے کے مسائل، پتھری اور دیگر پیچیدگیاں شامل ہیں۔

عالمی ادارہ صحت  کے مطابق موٹاپے کا مستقل حل صرف دوا نہیں بلکہ بہتر طرزِ زندگی، مسلسل رہنمائی اور عادات میں تبدیلی سے ہی ممکن ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ٹیلر سوئفٹ کے عروسی لباس کا راز برقرار، برائیڈل فیشن برانڈز نے تیاری شروع کردی

جوہانسبرگ میں پانی کا بحران سنگین، روزانہ 65 کروڑ 50 لاکھ لیٹر پانی ضائع

طالبان کی تعلیمی پابندیاں، پانچ برسوں میں 24 لاکھ افغان لڑکیوں کا مستقبل تاریک ہوا

اسٹار فٹبالر کرسٹیانو رونالڈو نے جارجینا سے شادی کرلی، سوشل میڈیا پر کیا پیغام دیا؟

27 سال بعد یورپ میں مکمل سورج گرہن، آج اسپین اور آئس لینڈ میں شاندار نظارہ ہوگا

ویڈیو

اوورسیز کشمیری نظام سے مایوس نہیں، حکومت میں کوئی کردار دیا گیا تو ڈیلیور کرکے دکھاؤں گا، احسان دانش

سندھ مدرسۃ الاسلام: تحریک پاکستان اور قائد اعظم کی فکری تربیت میں اہم کردار

پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کا دفاعی معاہدہ وسیع تر علاقائی اتحاد میں بدل سکتا ہے، ایمبیسیڈر اعزاز چوہدری

کالم / تجزیہ

13 برس بعد معلوم ہوا

کشمیر اب ایک ٹیسٹ کیس ہے

حویلی آزاد کشمیر میں لگنے والے نعرے