وزن کم کرنے والی ادویات جیسے اوزیمپک اور مونجارو کے استعمال سے متعلق ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ یہ ادویات مؤثر ضرور ہیں، لیکن مستقل نتائج کے لیے صرف دوا کافی نہیں ہوتی۔
یہ بھی پڑھیں:وزن کم کرنے والی ادویات لینے سے پہلے کیا جاننا ضروری ہے؟
ماہرین کے مطابق یہ ادویات جسم میں ایسے ہارمونز کی نقل کرتی ہیں جو پیٹ بھرنے کا احساس پیدا کرتے ہیں، جس سے کھانے کی مقدار کم ہو جاتی ہے اور وزن میں کمی آتی ہے۔ تاہم تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ اگر دوا بند کر دی جائے تو اکثر افراد کا وزن دوبارہ تیزی سے بڑھ جاتا ہے۔

ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ بہتر نتائج کے لیے ان ادویات کو صحت مند غذا، ورزش اور طرزِ زندگی میں تبدیلیوں کے ساتھ استعمال کرنا ضروری ہے۔ بصورت دیگر مریضوں کو پٹھوں کی کمی اور غذائی کمی جیسے مسائل کا سامنا ہو سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:کیا کچھ وقفوں کے لیے کھانا چھوڑنا وزن کم کرنے میں مؤثر ہے؟
ماہرین نے یہ بھی خبردار کیا ہے کہ ان ادویات کے کچھ مضر اثرات بھی ہو سکتے ہیں، جن میں ہاضمے کے مسائل، پتھری اور دیگر پیچیدگیاں شامل ہیں۔
عالمی ادارہ صحت کے مطابق موٹاپے کا مستقل حل صرف دوا نہیں بلکہ بہتر طرزِ زندگی، مسلسل رہنمائی اور عادات میں تبدیلی سے ہی ممکن ہے۔














