بنگلہ دیش میں پارلیمانی خصوصی کمیٹی نے عبوری حکومت کے دوران جاری کیے گئے متعدد اہم آرڈیننسز کو موجودہ پارلیمانی اجلاس میں پیش نہ کرنے کی سفارش کر دی ہے، جس کے نتیجے میں یہ قوانین ازخود ختم ہو جائیں گے۔
پارلیمنٹ میں جمعرات کو پیش کی گئی کمیٹی رپورٹ کے مطابق مجوزہ ریفرنڈم، عدالتی اصلاحات، جبری گمشدگیوں کی روک تھام، اینٹی کرپشن کمیشن اور نیشنل ہیومن رائٹس کمیشن سے متعلق آرڈیننسز قانونی حیثیت کھو دیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: روسی پیٹرولیم مصنوعات درآمد کرنے کے لیے بنگلہ دیش کی امریکا سے خصوصی استثنیٰ کی اپیل
14 رکنی پارلیمانی کمیٹی نے عبوری دور حکومت میں جاری کیے گئے مجموعی طور پر 133 آرڈیننسز کا جائزہ لیا۔
ان میں سے 98 کو بغیر کسی تبدیلی کے منظور کرنے، جبکہ 15 کو ترامیم کے ساتھ پیش کرنے کی سفارش کی گئی۔
A nation does not get the chance to change its destiny repeatedly. It is concerning to see that the government-aligned members of the Parliamentary Committee have recommended the cancellation of 11 critical ordinances, including those concerning the Referendum, Prevention of… pic.twitter.com/DQCGAlmEuk
— Shadik Kayem (@MdAbuShadik) April 3, 2026
تاہم 16 آرڈیننسز کو موجودہ اجلاس میں پیش نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا، جس کے باعث وہ آئینی تقاضوں کے تحت خود بخود ختم ہو جائیں گے۔
آئین کے آرٹیکل 93 کے مطابق کسی بھی آرڈیننس کو 30 دن کے اندر پارلیمنٹ سے منظوری حاصل کرنا ضروری ہوتا ہے، بصورت دیگر وہ غیر مؤثر ہو جاتا ہے۔
اسی تناظر میں یہ آرڈیننسز 12 اپریل کے بعد ختم ہو جائیں گے۔
مزید پڑھیں: بنگلہ دیش: بی این پی رہنما الیاس علی کے لاپتا ہونے کے معاملے میں نئے انکشافات، سابق حکومت پر سنگین الزامات
کمیٹی نے 4 آرڈیننسز کو مکمل طور پر منسوخ کرنے کی بھی سفارش کی ہے، جن میں ججوں کی تقرری اور سپریم کورٹ سیکریٹریٹ کے قیام سے متعلق اقدامات شامل ہیں۔
ان اصلاحات کا مقصد عدالتی نظام میں ساختی تبدیلیاں لانا تھا، جن میں سپریم جوڈیشل اپائنٹمنٹ کونسل کا قیام بھی شامل تھا۔
اپوزیشن جماعت بنگلہ دیش جماعت اسلامی نے کمیٹی کی متعدد سفارشات پر اختلاف کیا ہے۔
https://Twitter.com/BanglaBrit1972/status/2039793632589307905
ان کا مؤقف ہے کہ ختم کیے جانے والے بعض آرڈیننسز، خاص طور پر عدالتی آزادی اور انسداد بدعنوانی سے متعلق اقدامات، ادارہ جاتی احتساب کو مضبوط بنانے کے لیے نہایت ضروری تھے۔
جبری گمشدگیوں سے متعلق مجوزہ آرڈیننس میں اس جرم کو مسلسل جاری رہنے والا جرم قرار دیا گیا تھا اور متاثرین کے لیے معاوضے اور قانونی چارہ جوئی کی شقیں شامل تھیں۔
تاہم حکومت نے سیکیورٹی اداروں کے خلاف تحقیقات سے قبل پیشگی منظوری اور قومی سلامتی سے متعلق بعض حراستوں کو اس تعریف سے خارج کرنے کی تجویز دی تھی۔
مزید پڑھیں: بنگلہ دیش کا پولیس اصلاحات کے لیے فرانس سے تعاون کا مطالبہ
اسی طرح اینٹی کرپشن کمیشن کے قانون میں مجوزہ ترامیم کے تحت تحقیقاتی اختیارات کو وسعت دینا شامل تھا، جن میں بیرون ملک مالی جرائم کی تحقیقات بھی شامل تھیں۔
اپوزیشن کا کہنا ہے کہ شفافیت اور احتساب کے لیے ایسے اختیارات ناگزیر ہیں۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بعض آرڈیننسز، جیسے ریونیو پالیسی کی تنظیمِ نو اور مائیکروفنانس بینکاری سے متعلق قوانین، کو مزید جائزے کے بعد مضبوط قانون سازی کی شکل میں دوبارہ پیش کیا جائے گا۔
مزید پڑھیں: بنگلہ دیش میں پولیس نظام کی تبدیلی، نوجوان افسران کو کلیدی کردار سونپ دیا گیا
دوسری جانب مقامی حکومت، مالیاتی ضوابط اور ادارہ جاتی اصلاحات سے متعلق کئی آرڈیننسز کو فوری طور پر منظور کرنے کی سفارش کی گئی ہے، جن میں سے بعض کے ذریعے مقامی سطح پر انتظامی تقرریاں پہلے ہی عمل میں لائی جا چکی ہیں۔
قانونی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اہم اصلاحات میں تاخیر عدالتی آزادی اور گورننس کے معیار پر سوالات کھڑے کر سکتی ہے۔













