بھارت کا صنعتی شہر لونی دنیا کا سب سے زیادہ فضائی آلودگی کا شکار شہر بن گیا ہے، جہاں رہنا شہریوں کے لیے صحت کے شدید خطرات کا باعث بن چکا ہے۔
سی این این کی رپورٹ کے مطابق دہلی کے قریب واقع اس شہر میں فیکٹریوں کے دھوئیں، گاڑیوں کے اخراج اور تعمیراتی دھول نے فضا کو زہریلا بنا دیا ہے۔ تقریباً 7 لاکھ آبادی ہر وقت آلودہ ہوا میں سانس لینے پر مجبور ہے۔
یہ بھی پڑھیے: لاہور: فضائی آلودگی میں ایک بار پھر اضافہ، اسموگ پر قابو پانے کے لیے اقدامات جاری
سوئس ادارے آئی کیو ایئر کے مطابق لونی میں پی ایم 2.5 ذرات کی اوسط سطح 112.5 رہی، جو عالمی ادارہ صحت کی مقررہ حد سے 22 گنا زیادہ ہے۔ یہ باریک ذرات پھیپھڑوں میں داخل ہو کر خون تک پہنچتے ہیں اور دمہ، دل اور سانس کی بیماریوں سمیت کینسر کا سبب بن سکتے ہیں۔
مقامی شہریوں کا کہنا ہے کہ صورتحال اس قدر خراب ہے کہ عام سانس لینا بھی مشکل ہو چکا ہے۔ لوگ گھروں سے باہر نکلتے وقت ماسک پہننے پر مجبور ہیں جبکہ گھروں کے اندر بھی گرد و غبار جمع ہو جاتا ہے۔
ماہرین کے مطابق بھارت میں فضائی آلودگی کی بڑی وجوہات میں صنعتی اخراج، ٹریفک، فصلوں کی باقیات جلانا اور تعمیراتی سرگرمیاں شامل ہیں۔ سردیوں میں درجہ حرارت کی خاص صورتحال آلودگی کو زمین کے قریب روک دیتی ہے، جس سے مسئلہ مزید سنگین ہو جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: فضائی آلودگی مردوں میں کون سے کینسر کا خطرہ بڑھاتی ہے؟
رپورٹ کے مطابق 2025 میں دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں بھارت اور پاکستان کے کئی شہر شامل رہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو صورتحال مزید خراب ہو سکتی ہے، جبکہ شہری صاف فضا کے لیے مؤثر حکومتی اقدامات کے منتظر ہیں۔













