پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا جس میں مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان اور چین کی مشترکہ 5 نکاتی تجویز پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
اسحاق ڈار اور سعودی ہم منصب کے درمیان گفتگو میں خطے کی تازہ صورتحال، جنگ کے اثرات اور امن و استحکام کی بحالی کی ضرورت پر زور دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیے: اسحاق ڈار اور سعودی وزیر خارجہ کا رابطہ، خطے میں کشیدگی کم کرنے پر زور
یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب چین اور پاکستان کی جانب سے ایک مشترکہ 5 نکاتی امن منصوبہ پیش کیا گیا، جو حالیہ دورہ چین کے دوران اسحاق ڈار کی ملاقاتوں کے بعد سامنے آیا۔ اس منصوبے میں فوری جنگ بندی، امن مذاکرات کا آغاز، شہری و تجارتی انفراسٹرکچر اور بحری راستوں کے تحفظ سمیت اقوام متحدہ کے چارٹر کی پاسداری پر زور دیا گیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ تجویز ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان نے سعودی عرب، ترکیہ اور مصر سمیت علاقائی طاقتوں کے ساتھ کواڈری لیٹرل مذاکرات کی میزبانی کی تاکہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کیا جا سکے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ اور اس کے بعد ایران کے جوابی اقدامات نے عالمی توانائی منڈیوں کو شدید متاثر کیا ہے، جبکہ آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل میں رکاوٹ کے باعث عالمی سطح پر قیمتوں میں اتار چڑھاؤ دیکھا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: آبنائے ہرمز ٹول فیس یوآن میں ادا کیے جانے کی خبر، چینی کمپنیوں کے شیئرز میں اضافہ
دونوں وزرائے خارجہ نے اس بات پر اتفاق کیا کہ خطے میں فوری ڈی اسکیلیشن اور مذاکرات ہی واحد قابل عمل راستہ ہیں۔ پاکستان نے ایک بار پھر خود کو ‘امن کے لیے پل کا کردار ادا کرنے والا ملک’ قرار دیا ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ سال پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ایک اہم دفاعی معاہدہ بھی ہوا تھا جس کے تحت کسی ایک ملک پر حملہ دونوں پر حملہ تصور کیا جائے گا۔














