جنگ نہیں، سفارتکاری: مشرقِ وسطیٰ کو تباہی سے بچانے کی ضرورت

پیر 6 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے تناظر میں بعض حلقوں کی جانب سے جنگ کو مزید بڑھانے اور ایران کے مکمل خاتمے کے مطالبات کو ماہرین نے جذباتی اور غیر حقیقت پسندانہ قرار دیا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق جنگیں نعروں سے نہیں بلکہ قابلِ عمل سیاسی حکمتِ عملی سے جیتی جاتی ہیں۔

مزید پڑھیں: مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے اثرات: برطانوی پیٹرول پمپس پر گاڑیوں کی طویل قطاریں

ماہرین کا کہنا ہے کہ طویل علاقائی عدم استحکام سے سب سے زیادہ فائدہ اسرائیل کو ہو سکتا ہے، کیونکہ اس سے اس کے مخالفین بیک وقت کمزور ہوتے ہیں اور توجہ اس کی اپنی اسٹریٹجک کمزوریوں سے ہٹ جاتی ہے۔

بعض حلقوں کی جانب سے کشیدگی بڑھانے کی حمایت پر یہ خدشات بھی ظاہر کیے جا رہے ہیں کہ اس سے غیر ارادی طور پر دیگر طاقتوں کے مفادات کو تقویت مل سکتی ہے۔

تجزیہ کاروں نے سوال اٹھایا ہے کہ اگر ایران میں نظام کی تبدیلی مقصود ہو تو اس کے بعد 9 کروڑ آبادی والے ملک کو کون سنبھالے گا؟ عراق جنگ کی مثال دیتے ہوئے کہا گیا کہ بغیر واضح منصوبہ بندی کے نظام کی تبدیلی طویل عدم استحکام، بدامنی اور ملیشیاؤں کے پھیلاؤ کا سبب بنتی ہے۔

مزید خدشات میں ممکنہ جوہری تصادم بھی شامل ہے، جو عالمی سطح پر تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے اور بڑی طاقتوں جیسے روس اور چین کو بھی تنازع میں کھینچ سکتا ہے۔ اسی طرح زمینی جنگ کے امکانات بھی محدود دکھائی دیتے ہیں، کیونکہ اس کے لیے درکار وسائل اور استعداد خطے میں دستیاب نہیں۔

دوسری جانب، طویل روایتی جنگ کی صورت میں خلیجی ممالک، خصوصاً متحدہ عرب امارات، براہِ راست نشانے پر آ سکتے ہیں، جہاں شہروں، بندرگاہوں اور توانائی کے مراکز پر حملوں کا خطرہ بڑھے گا، جس سے معیشت، سرمایہ کاری اور استحکام متاثر ہوگا۔

ماہرین کے مطابق ایران آبنائے ہرمز میں خلل ڈالنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جس سے عالمی تیل کی سپلائی متاثر ہو سکتی ہے اور عالمی معیشت کو شدید دھچکا لگ سکتا ہے۔

مزید پڑھیں: مشرقِ وسطیٰ امن معاہدے کی امیدیں، پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں تیزی

تاریخی شواہد، جیسے ویتنام جنگ اور افغانستان جنگ، یہ ظاہر کرتے ہیں کہ بالآخر تمام جنگیں مذاکرات پر ہی ختم ہوتی ہیں۔ اس لیے ایک باعزت اور متوازن سفارتی حل ہی دیرپا استحکام کی ضمانت دے سکتا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اصل انتخاب فتح یا شکست نہیں بلکہ کنٹرولڈ ڈی ایسکلیشن اور بے قابو جنگ کے درمیان ہے۔ ایسے میں پاکستان کی جانب سے ثالثی کی کوششیں خطے میں امن، معاشی استحکام اور متوازن حل کے لیے اہم قرار دی جا رہی ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

روسی ’شیڈو فلیٹ‘ کے خلاف برطانوی کارروائی، بھارتی کپتان کو 10 سال قید کا سامنا

جو روٹ ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے زیادہ کیچز پکڑنے والے فیلڈر بن گئے

نوجوانوں کی مزاحمت نے مودی کو ’جن زی‘ بننے پر مجبور کردیا، سوشل میڈیا مہم مذاق بن گئی،برطانوی میڈیاکی رپورٹ

ایلون مسک نے مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس کے ذریعے عالمی نظامِ صحت میں انقلابی تبدیلی کی پیش گوئی کردی

الاسکا میں امریکی فضائیہ کے ریڈار مرکز کے قریب طیارہ تباہ، 8 افراد ہلاک

ویڈیو

کرائے کے جوتے، 6 ہزار میٹر بلند چوٹی: 14 سالہ ملائکہ خلجی کی حیران کن کہانی

ایک سال تک مفت اے آئی سہولت، پاکستانی طلبہ اسے کیسے حاصل کرسکتے ہیں؟

عمران خان کا علاج الشفا انٹرنیشنل کے بجائے پمز سے، حقائق کیا؟ پمز منتقلی کے خلاف پی ٹی آئی کا بڑا اقدام، خان کا سہیل آفریدی کے لیے پیغام

کالم / تجزیہ

سفید جادو، مثبت اور مددگار

عینی آپا ’آگ کا دریا‘ پار کیوں نہ کرسکیں؟

’ايسا ابّا کہاں سے لبھّا تھا‘