مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے تناظر میں بعض حلقوں کی جانب سے جنگ کو مزید بڑھانے اور ایران کے مکمل خاتمے کے مطالبات کو ماہرین نے جذباتی اور غیر حقیقت پسندانہ قرار دیا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق جنگیں نعروں سے نہیں بلکہ قابلِ عمل سیاسی حکمتِ عملی سے جیتی جاتی ہیں۔
مزید پڑھیں: مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے اثرات: برطانوی پیٹرول پمپس پر گاڑیوں کی طویل قطاریں
ماہرین کا کہنا ہے کہ طویل علاقائی عدم استحکام سے سب سے زیادہ فائدہ اسرائیل کو ہو سکتا ہے، کیونکہ اس سے اس کے مخالفین بیک وقت کمزور ہوتے ہیں اور توجہ اس کی اپنی اسٹریٹجک کمزوریوں سے ہٹ جاتی ہے۔
بعض حلقوں کی جانب سے کشیدگی بڑھانے کی حمایت پر یہ خدشات بھی ظاہر کیے جا رہے ہیں کہ اس سے غیر ارادی طور پر دیگر طاقتوں کے مفادات کو تقویت مل سکتی ہے۔
تجزیہ کاروں نے سوال اٹھایا ہے کہ اگر ایران میں نظام کی تبدیلی مقصود ہو تو اس کے بعد 9 کروڑ آبادی والے ملک کو کون سنبھالے گا؟ عراق جنگ کی مثال دیتے ہوئے کہا گیا کہ بغیر واضح منصوبہ بندی کے نظام کی تبدیلی طویل عدم استحکام، بدامنی اور ملیشیاؤں کے پھیلاؤ کا سبب بنتی ہے۔
مزید خدشات میں ممکنہ جوہری تصادم بھی شامل ہے، جو عالمی سطح پر تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے اور بڑی طاقتوں جیسے روس اور چین کو بھی تنازع میں کھینچ سکتا ہے۔ اسی طرح زمینی جنگ کے امکانات بھی محدود دکھائی دیتے ہیں، کیونکہ اس کے لیے درکار وسائل اور استعداد خطے میں دستیاب نہیں۔
دوسری جانب، طویل روایتی جنگ کی صورت میں خلیجی ممالک، خصوصاً متحدہ عرب امارات، براہِ راست نشانے پر آ سکتے ہیں، جہاں شہروں، بندرگاہوں اور توانائی کے مراکز پر حملوں کا خطرہ بڑھے گا، جس سے معیشت، سرمایہ کاری اور استحکام متاثر ہوگا۔
ماہرین کے مطابق ایران آبنائے ہرمز میں خلل ڈالنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جس سے عالمی تیل کی سپلائی متاثر ہو سکتی ہے اور عالمی معیشت کو شدید دھچکا لگ سکتا ہے۔
مزید پڑھیں: مشرقِ وسطیٰ امن معاہدے کی امیدیں، پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں تیزی
تاریخی شواہد، جیسے ویتنام جنگ اور افغانستان جنگ، یہ ظاہر کرتے ہیں کہ بالآخر تمام جنگیں مذاکرات پر ہی ختم ہوتی ہیں۔ اس لیے ایک باعزت اور متوازن سفارتی حل ہی دیرپا استحکام کی ضمانت دے سکتا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اصل انتخاب فتح یا شکست نہیں بلکہ کنٹرولڈ ڈی ایسکلیشن اور بے قابو جنگ کے درمیان ہے۔ ایسے میں پاکستان کی جانب سے ثالثی کی کوششیں خطے میں امن، معاشی استحکام اور متوازن حل کے لیے اہم قرار دی جا رہی ہیں۔













