جی میل میں تاریخی تبدیلی، گوگل کا نیا فیچر کیا کچھ بدل سکتا ہے؟

پیر 6 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

22 سال بعد گوگل نے جی میل میں ایک تاریخی تبدیلی کر دی ہے صارفین اب اپنے پرانے اور غیر موزوں ای میل ایڈریس تبدیل کر سکتے ہیں۔ مگر ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ یہ اپڈیٹ صرف نام بدلنے تک محدود ہے اور ای میل کی اصل سیکیورٹی اور پرائیویسی کے مسائل برقرار ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا یہ فیچر واقعی صارفین کے ڈیجیٹل تحفظ میں مددگار ثابت ہوگا، یا صرف ایک ظاہری تبدیلی ہے؟

گوگل نے نے اپنی ای میل سروس جی میل میں طویل عرصے بعد ایک نمایاں تبدیلی متعارف کرا دی ہے جس کے تحت صارفین اب اپنے پرانے ای میل ایڈریس کو تبدیل کر سکتے ہیں۔ تاہم ماہرین کے مطابق یہ اقدام بنیادی مسائل کے حل کے لیے ناکافی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ماہرین کا گوگل پر زور: بچوں کے لیے یوٹیوب پر اے آئی ویڈیوز بند کریں

اس نئی سہولت کے تحت صارفین اپنے ایسے پرانے ای میل ایڈریس تبدیل کر سکتے ہیں جو غیر پیشہ ورانہ یا پرانے زمانے کے محسوس ہوتے ہیں۔ اس فیچر کو خاص طور پر امریکہ میں متعارف کرایا گیا، جہاں اسے خاصی توجہ حاصل ہوئی۔

تاہم سائبر سیکیورٹی ماہرین اس پیش رفت کو محدود اہمیت کا حامل قرار دے رہے ہیں۔ ان کے مطابق مسئلہ صرف ای میل ایڈریس کے نام کا نہیں بلکہ اس کے وسیع پیمانے پر مختلف ڈیٹا بیسز میں شامل ہو جانے کا ہے جہاں سے مارکیٹنگ کمپنیوں اور سائبر جرائم پیشہ افراد کو رسائی حاصل ہو جاتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: گوگل نے جی میل ایڈریس تبدیل کرنے کی سہولت متعارف کرا دی

ماہرین کا کہنا ہے کہ چاہے ای میل ایڈریس پرانا ہو یا نیا، جیسے ہی اسے مختلف ویب سائٹس یا سروسز پر استعمال کیا جاتا ہے، وہ مختلف فہرستوں کا حصہ بن جاتا ہے، جس کے بعد اسپام اور فشنگ حملوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

اس تناظر میں Apple کی جانب سے فراہم کردہ “Hide My Email” جیسے فیچر کو زیادہ مؤثر قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ فیچر صارفین کو عارضی یا متبادل ای میل ایڈریس بنانے کی سہولت دیتا ہے، جو اصل ای میل پر پیغامات منتقل کرتے ہیں اور ضرورت پڑنے پر ختم بھی کیے جا سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: گوگل نے اے آئی ہیلتھ ایڈوائس فیچر ختم کردیا

ماہرین کا مزید کہنا ہے کہ جی میل میں ای میل ایڈریس تبدیل کرنے کے باوجود پرانا ایڈریس بطور alias فعال رہتا ہے جو سیکیورٹی خدشات کو بڑھا سکتا ہے خصوصاً جعلسازی اور فشنگ حملوں کے حوالے سے۔

اگرچہ گوگل کی جانب سے اسی نوعیت کے فیچر پر کام جاری ہونے کی اطلاعات ہیں، تاہم اس کی باقاعدہ دستیابی کے بارے میں ابھی کوئی حتمی اعلان سامنے نہیں آیا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اگر ای میل ایڈریس کی تبدیلی کے ساتھ ساتھ پرائیویسی کے مؤثر فیچرز بھی متعارف کرائے جاتے تو یہ ایک جامع حل ثابت ہو سکتا تھا۔ موجودہ صورتحال میں جی میل کے اربوں صارفین کو اب بھی اپنی ڈیجیٹل سیکیورٹی کے حوالے سے محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

امریکا اور ایران کے وفود جمعے کو پاکستان آرہے ہیں، اللہ کو منظور ہوا تو جنگ کے شعلے ہمیشہ کے لیے بجھ جائیں گے، وزیراعظم

امریکا ایران کے ساتھ قریبی تعاون کرے گا، معاہدے کے کئی نکات طے پاچکے، ڈونلڈ ٹرمپ

جو کوئی نہ کر سکا پاکستان نے کر دکھایا، بھارت میں صف ماتم

ایران جنگ بندی پر بھارت میں بھی اعتراف کیا جارہا ہے کہ پاکستان کو سفارتی سطح پر کامیابی ملی، خواجہ آصف

سرمایہ کاروں کا پاکستان اسٹاک مارکیٹ پر اعتماد، مستقبل میں کون سے ریکارڈ بن سکتے ہیں؟

ویڈیو

جو کوئی نہ کر سکا پاکستان نے کر دکھایا، بھارت میں صف ماتم

پاکستان کی عالمی سطح پر پذیرائی، گرین پاسپورٹ کو دنیا بھر میں عزت مل گئی

امریکا ایران جنگ بندی: پاکستان کی سفارتکاری پر اسلام آباد کے عوام کیا کہتے ہیں؟

کالم / تجزیہ

نوبل امن انعام تو بنتا ہے

پاکستان نے جنگ بندی کیسے کرائی؟ کیا، کیسے اور کیونکر ممکن ہوا؟

فیصلہ کن موڑ: امن جیتے گا یا کشیدگی؟