سپریم کورٹ میں پلاسٹک سرجن کے طور پر غیرقانونی طور پر کڈنی ٹرانسپلانٹ کرنے والے ڈاکٹر کے خلاف کیس کی سماعت جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے کی۔
سماعت کے دوران ڈائریکٹر لیگل پنجاب عمران احمد اور وکیلِ صفائی عدالت میں پیش ہوئے، تاہم ملزم ڈاکٹر فواد ممتاز پیش نہیں ہوئے۔
یہ بھی پڑھیے: ’ایسا فیصلہ دیں گے جو پاکستان کو ہلا کر رکھ دے گا‘، باپ کے قاتل بیٹے کی اپیل پر سپریم کورٹ کے ریمارکس
ڈائریکٹر لیگل پنجاب نے عدالت کو بتایا کہ اسلام آباد کے سیکٹر بی-17 میں ایک پلاسٹک سرجن کو غیرقانونی طور پر کڈنی ٹرانسپلانٹ کرتے ہوئے گرفتار کیا گیا تھا۔ ان کے مطابق نہ تو وہاں کوئی باقاعدہ آپریشن تھیٹر موجود تھا اور نہ ہی ملزم اس سے قبل بھی ایسے ہی غیرقانونی ٹرانسپلانٹس میں پکڑا جا چکا ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے استفسار کیا کہ ڈاکٹر عدالت میں موجود ہے یا نہیں؟ جس پر وکیلِ صفائی نے بتایا کہ ملزم ضمانت پر ہے اور پیش نہیں ہوا۔
عدالت نے ریمارکس دیے کہ پلاسٹک سرجن کڈنی ٹرانسپلانٹ کیسے کر سکتا ہے، یہ انتہائی پیچیدہ عمل ہے اور ملزم کہاں ہے؟ جس پر ڈائریکٹر لیگل نے بتایا کہ ملزم کے متعدد کیسز ہیں اور کچھ مقدمات کا ٹرائل جاری ہے۔
اس پر جسٹس ہاشم کاکڑ نے سخت ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ شخص لوگوں کی کڈنیاں غائب کرتا ہے، اسے خوفِ خدا ہونا چاہیے اور ایسے شخص کو طویل سزا ملنی چاہیے۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ یہ غریب لوگوں کے ساتھ زیادتی کا سنگین کیس ہے۔
یہ بھی پڑھیے: سپریم کورٹ: گجرات قتل کیس میں سزائے موت عمر قید میں تبدیل
سماعت کے دوران عدالت نے سوال کیا کہ کیا متاثرہ مریض زندہ ہیں؟ جس پر بتایا گیا کہ وہ مریض زندہ ہیں جن کے ٹرانسپلانٹس کیے جا رہے تھے۔ جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اس معاملے کی نوعیت انتہائی سنگین ہے اور یہ پہلا ایسا کیس ہے جس میں اس نوعیت کے الزامات سامنے آئے ہیں۔
عدالت نے مزید ریمارکس دیے کہ ملزم کے لیے سخت کارروائی ہونی چاہیے، تاہم سماعت کے دوران عدالت نے کیس کی مزید سماعت 23 اپریل تک ملتوی کرتے ہوئے نوٹس جاری کر دیے۔
یاد رہے کہ ملزم ڈاکٹر فواد ممتاز کی سزا میں اضافے کے لیے پنجاب پراسیکیوشن نے اپیل دائر کر رکھی ہے، جبکہ ہائی کورٹ نے ان کی سزا پہلے سے گزاری گئی مدت تک محدود کر دی تھی۔ ڈاکٹر فواد ممتاز کو 2023 میں سات سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔













