اسلام آباد ہائی کورٹ میں عدالتی حکم کے باوجود درختوں کی کٹائی کے معاملے پر توہینِ عدالت کی درخواست پر سماعت ہوئی، عدالت نے چیئرمین سی ڈی اے کے خلاف دائر درخواست پر نوٹس جاری کرتے ہوئے رپورٹ طلب کر لی۔
کیس کی سماعت جسٹس راجہ انعام امین منہاس نے محمد نوید احمد کی جانب سے دائر درخواست پر کی، جبکہ درخواست گزار کی نمائندگی ایڈووکیٹ مدثر لطیف عباسی اور عمیر اسد نے کی۔
یہ بھی پڑھیے: اسلام آباد ہائیکورٹ فوڈ کنٹرولر کے اختیارات پر برہم، تفصیلی رپورٹ طلب
سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ تکنیکی طور پر یہ کیس جسٹس خادم حسین سومرو کی عدالت میں مقرر ہونا چاہیے تھا کیونکہ مرکزی کیس وہی سن رہے تھے۔ اس پر عدالت نے ریمارکس دیے کہ ‘ہم نوٹس جاری کرکے رپورٹ طلب کر لیتے ہیں’۔
درخواست میں نئے چیئرمین سی ڈی اے لیفٹیننٹ ریٹائرڈ سہیل اشرف کو فریق بنایا گیا ہے اور مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ عدالت کے حکمِ امتناع کے باوجود اسلام آباد میں درختوں کی کٹائی جاری ہے۔
درخواست گزار کے مطابق عدالت نے 15 جنوری 2026 کو درختوں کی کٹائی روکنے کا حکم دیا تھا، تاہم اس کے باوجود ڈی چوک سے ایوب چوک تک اتاترک ایونیو کی توسیع کا کام شروع کر دیا گیا اور قدیم درخت کاٹے جا رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: اسلام آباد ہائیکورٹ: درختوں کی کٹائی روکنے سے متعلق کیس کی سماعت ملتوی
وکیل نے مؤقف اپنایا کہ سی ڈی اے کا درختوں کی منتقلی کا دعویٰ توہینِ عدالت کے زمرے سے مبرا نہیں کرتا کیونکہ شہری علاقوں میں درختوں کی منتقلی سے ان کے ضائع ہونے کا خدشہ زیادہ ہوتا ہے۔
درخواست میں اتاترک ایونیو کی توسیع کے منصوبے پر جاری کام فوری طور پر روکنے، چیئرمین سی ڈی اے کو ذاتی حیثیت میں طلب کرنے اور درختوں کی کٹائی کے ذمہ دار افسران کے خلاف کارروائی کی استدعا بھی کی گئی ہے۔
عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے تفصیلی رپورٹ طلب کر لی اور کیس کی سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دی۔













