بنگلہ دیش میں پارلیمنٹ کی سابق اسپیکر شرین شرمین چوہدری کو گزشتہ سال ہونے والے عوامی احتجاج کے دوران تشدد اور توڑ پھوڑ کے ایک مقدمے میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔
ڈھاکا میٹروپولیٹن ڈیٹیکٹو برانچ (ڈی بی) کے مطابق انہیں منگل کی صبح ڈھاکا کے علاقے دھن منڈی میں ایک رشتہ دار کے گھر سے حراست میں لیا گیا، جہاں وہ مبینہ طور پر مختلف مقامات پر روپوش رہنے کے بعد مقیم تھیں۔
یہ بھی پڑھیے: ڈھاکا میں اسٹیل مل کے بوائلر میں دھماکا، 8 مزدور جھلس کر زخمی
ڈی بی کے ایڈیشنل کمشنر شفیق الاسلام نے بتایا کہ سابق اسپیکر کے خلاف کم از کم 6 مقدمات درج ہیں، جن میں ایک قتل کا مقدمہ بھی شامل ہے۔ ان میں سے 3 مقدمات کے حتمی چالان عدالت میں پیش کیے جا چکے ہیں جبکہ باقی تین کی تحقیقات جاری ہیں۔
پولیس کے مطابق لال باغ تھانے کے مقدمے میں انہیں جلد عدالت میں پیش کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے، جبکہ احتجاج کے دوران پیش آنے والے مختلف واقعات میں ان کے مبینہ کردار کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق عوامی احتجاج کے بعد عوامی لیگ کے کئی رہنماؤں اور کارکنوں نے فوجی تنصیبات میں پناہ لی تھی۔ 22 مئی کو جاری کی گئی فہرست میں شرین شرمین چوہدری کا نام بھی شامل تھا۔
یہ بھی پڑھیے: بنگلہ دیش: سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد سمیت 22 افراد کے خلاف جبری گمشدگی کا مقدمہ دائر
واضح رہے کہ انہوں نے 2 ستمبر 2024 کو اس وقت اپنے عہدے سے استعفیٰ دیا تھا جب سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کی حکومت کا خاتمہ ہوا۔ وہ اپریل 2013 سے اسپیکر کے عہدے پر فائز تھیں۔
دوسری جانب ایک متعلقہ پیش رفت میں سابق ڈپٹی اسپیکر شمس الحق ٹکو کو بھی اگست 2024 میں ڈھاکا کے علاقے خلکھیت سے مبینہ طور پر روپوشی کے دوران گرفتار کیا گیا تھا۔













