وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے ابتدائی طور پر گوجرانوالہ، ملتان اور سیالکوٹ میں فری ٹرانسپورٹ کے پائلٹ منصوبے کی منظوری دے دی ہے۔
صوبے بھر میں صفائی کی صورتحال بہتر بنانے کے لیے 2 ہفتوں کی ڈیڈ لائن مقرر کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو فوری اور مؤثر اقدامات کی ہدایت کی ہے۔
مریم نواز کی زیر صدارت اجلاس میں ٹرانسپورٹ کے فی کلومیٹر کرایوں کے تعین کے لیے 24 گھنٹوں میں رپورٹ طلب کی گئی۔
اجلاس میں پبلک ٹرانسپورٹ سے محروم 17 اضلاع میں مفت ٹرانسپورٹ سروس شروع کرنے کی تجویز پر غور کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا پنجاب بھر میں ٹرانسپورٹرز کے خلاف کریک ڈاؤن کا حکم
وزیراعلیٰ نے اشیائے خورونوش کے ڈپٹی کمشنر ریٹس کا ازسرنو جائزہ لے کر رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی، جبکہ ایل پی جی کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے لیے متعلقہ اداروں کو احکامات جاری کیے۔
اجلاس میں عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافے کے مقامی ٹرانسپورٹ کرایوں پر اثرات کا بھی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس کے دوران لاہور سمیت تمام اضلاع میں 23 بنیادی اشیائے خورونوش جیسے پیاز، ٹماٹر، آلو، کیلا اور دالوں کی قیمتوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ پنجاب میں آٹے کی قیمتیں سندھ، خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہیں، جبکہ دالوں اور دیگر اجناس کے وافر ذخائر بھی موجود ہیں۔
مزید پڑھیں: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ کو پریمیئر انوسٹی گیشن ایجنسی بنانے کا فیصلہ
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے عوام سے اپیل کی کہ وہ سرکاری نرخوں سے زائد قیمت پر اشیا فروخت کرنے والوں سے خریداری نہ کریں اور ذخیرہ اندوزی کے خلاف سخت اقدامات کی ہدایت بھی کی۔
انہوں نے اسسٹنٹ کمشنرز کو ہدایت دی کہ وہ گلی محلوں میں موجود جوہڑوں اور تالابوں کا سروے کریں اور انہیں محفوظ بنانے کے اقدامات کریں۔
کمشنرز کو روزانہ کی بنیاد پر تصاویر اور رپورٹس پیش کرنے کا بھی پابند کیا گیا۔
اجلاس میں شجرکاری، آوارہ کتوں کے کاٹنے کے واقعات، زیبرا کراسنگ، اسٹریٹ لائٹس اور گرین بیلٹس سمیت مختلف شہری اشاریوں پر خصوصی توجہ دینے کی ہدایت دی گئی۔
مزید پڑھیں: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے صوبے میں کون سی نئی اصلاحات متعارف کرانے کا فیصلہ کیا؟
وزیراعلیٰ نے جھنگ میں صفائی کی خراب صورتحال پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے 24 گھنٹوں میں ایک منتخب یونین کونسل کی مکمل صفائی یقینی بنانے کا حکم دیا۔
اجلاس میں صوبے بھر میں جاری بیوٹیفکیشن اور اپ گریڈیشن منصوبوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور ہدایت کی گئی کہ تمام منصوبے جون تک مکمل کیے جائیں اور ان کی خوبصورتی برقرار رکھنے کے لیے مؤثر حکمت عملی اپنائی جائے۔
اٹک میں بیوٹیفکیشن منصوبے کے معیاری کام پر وزیراعلیٰ نے اطمینان کا اظہار کیا، جبکہ فیصل آباد کے گھنٹہ گھر میں نکاسی آب کے نظام اور بجلی کے تار ہٹانے کے اقدامات کو بھی سراہا۔
تاہم اوپن ڈرینج کے باعث ہونے والی اموات پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے خبردار کیا کہ غیر محفوظ جوہڑ کسی بھی ڈپٹی کمشنر کی ناکامی تصور ہوگا۔
مزید پڑھیں: وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی تصویر والے جھنڈے کا معاملہ کیا ہے ؟
اجلاس میں صفائی کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے مصنوعی ذہانت کی مدد سے ہر یونین کونسل میں صفائی عملے کی ریئل ٹائم مانیٹرنگ کے لیے ڈیجیٹل میپنگ شروع کرنے اور ستھرا پنجاب کے تحت بیٹ سسٹم نافذ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
اس کے علاوہ ستھرا پنجاب ہیرو کے نام سے اے آئی کمپلینٹ ہیلپ لائن متعارف کرانے پر بھی اتفاق کیا گیا۔
کوڑا کرکٹ کی نشاندہی کے لیے اے آئی بیسڈ ویسٹ ڈیٹیکشن آٹو موبائل پائلٹ منصوبہ بھی پیش کیا گیا۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ مختلف شہروں میں جگہ جگہ کچرے کے ڈھیر نظر آنا افسوسناک ہے اور صفائی کے نظام میں فوری بہتری ناگزیر ہے۔













