بنگلہ دیش اور برطانیہ نے ایوی ایشن کے شعبے میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ سے متعلق مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے ہیں، جس کا مقصد سرمایہ کاری کو فروغ دینا، انفراسٹرکچر کو وسیع کرنا اور پرائیویٹ سیکٹر کی شرکت بڑھانا ہے۔
ڈھاکہ میں ہونیوالے اس معاہدے پر دستخط پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اتھارٹی کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر عاشق چوہدری اور برطانوی ہائی کمشنر سارہ کک نے کیے۔
سرکاری حکام کے مطابق یہ معاہدہ ہوائی اڈے کی ترقی، انفرا اسٹرکچر کی فائنانسنگ، تکنیکی تعاون اور استعداد سازی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کو ممکن بنائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش میں انسانی حقوق اور جبری گمشدگیوں کے خلاف قوانین میں تاخیر پر تشویش
اسٹیٹ منسٹر برائے سول ایوی ایشن اور ٹورازم ایم رشید الزمان ملت نے کہا کہ حکومت اس اقدام کی مکمل حمایت کرے گی تاکہ دونوں ممالک کے لیے باہمی فوائد یقینی بنائے جا سکیں۔
مشیر ہمایوں کبیر نے کہا کہ بنگلہ دیش غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے کھلا ہے اور برطانیہ میں مقیم بنگلہ دیشی شہری کاروباروں کے ساتھ اپنے نوجوان افرادی قوت کو فائدہ اٹھانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
برطانوی جانب سے ونٹرٹن نے معاہدے کو تجارتی اور سیاحتی ترقی سے ایوی ایشن کو جوڑنے کے لیے ایک اسٹریٹجک قدم قرار دیا۔
مزید پڑھیں: بنگلہ دیش کا قومی ایئرلائن بیڑا بڑھانے کے لیے بوئنگ طیارے لیز پر لینے کا منصوبہ
جبکہ سارہ کک نے بنگلہ دیش میں انفراسٹرکچر کی ترقی میں برطانیہ کی طویل مدتی اقتصادی شراکت کا اعادہ کیا۔
عاشق چوہدری نے اس معاہدے کو ایک اہم پیش رفت قرار دیا اور کہا کہ اگرچہ برطانیہ ماضی میں ایک کلیدی سرمایہ کار رہا ہے، مگر حالیہ برسوں میں نئی سرمایہ کاری محدود رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ معاہدہ ایک مضبوط پیغام دیتا ہے کہ بنگلہ دیش ایوی ایشن سے متعلق نئی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے لیے تیار ہے۔
مزید پڑھیں: بنگلہ دیش کے سخت کفایت شعاری اقدامات، عوامی فنڈز سے بیرونی دوروں پر پابندی عائد
حکام نے کہا کہ اس مفاہمتی یادداشت کا دائرہ وسیع ہے اور یہ ایوی ایشن کے مختلف شعبوں کو کور کرتا ہے، جن میں ڈھاکہ ہوائی اڈے پر گراؤنڈ ہینڈلنگ جیسی ممکنہ خدمات بھی شامل ہیں۔
یہ معاہدہ اس وقت سامنے آیا ہے جب بنگلہ دیش ہوائی اڈوں کی توسیع، طیارہ بیڑے کی جدید کاری اور خطے کے ایوی ایشن ہب بننے کے اپنے عزائم کو آگے بڑھا رہا ہے۔
اس ضمن میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ذریعے فائنانسنگ کے خلا کو پر کرنے اور شعبے کی ترقی میں تیزی لانے کے لیے ایک کلیدی ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔













