امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کے خلاف سخت دھمکیوں کے بعد درجنوں ڈیموکریٹ ارکانِ کانگریس نے انہیں عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ کر دیا، یہاں تک کہ جنگ بندی کے اعلان کے بعد بھی یہ مطالبات برقرار رہے۔
امریکی میڈیا کے مطابق 70 سے زائد ڈیموکریٹ قانون سازوں نے سوشل میڈیا پر بیانات جاری کرتے ہوئے کہا کہ صدر کو ہٹانے کے لیے یا تو مواخذہ (امپیچمنٹ) کیا جائے یا آئین کی 25ویں ترمیم کے تحت انہیں نااہل قرار دیا جائے۔
یہ بھی پڑھیں:ایک رات میں ایران کو تباہ کر دیں گے، جو کل بھی آ سکتی ہے، ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکی
بعض سینیٹرز نے بھی ان مطالبات کی حمایت کی اور کہا کہ کسی بھی صدر کی جانب سے ’ایک پوری تہذیب کو مٹانے‘ جیسی دھمکی ناقابلِ قبول ہے۔
Over 30 congressional Democrats are calling on the Cabinet to remove President Donald Trump from office over his threats to escalate the war in Iran and target civilian infrastructure. https://t.co/cS6MIrIFtU
— Washington Examiner (@dcexaminer) April 7, 2026
ڈیموکریٹ رہنما ایڈ مارکی نے کہا کہ کانگریس کو فوری اجلاس بلا کر صدر کے خلاف مواخذے کی کارروائی شروع کرنی چاہیے، جبکہ کرس مرفی نے بیان دیا کہ کوئی بھی ہوش مند صدر ایسی زبان استعمال نہیں کر سکتا۔ اسی طرح رکنِ کانگریس رو کھنہ نے بھی 25ویں ترمیم کے نفاذ کا مطالبہ کیا۔
یہ ردعمل اس وقت سامنے آیا جب صدر ٹرمپ نے ایران کو ڈیڈ لائن دیتے ہوئے خبردار کیا تھا کہ معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں ’ایک پوری تہذیب ختم ہو سکتی ہے‘۔ اس بیان پر عالمی سطح پر بھی تشویش ظاہر کی گئی اور اقوام متحدہ نے یاد دہانی کرائی کہ جنگوں کے بھی اصول ہوتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:معاہدہ کرنے کے لیے 48 گھنٹے باقی، اس کے بعد قیامت ٹوٹ پڑے گی، ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کو پھر دھمکی
بعد ازاں مقررہ وقت سے کچھ دیر قبل امریکا اور ایران کے درمیان 2 ہفتوں کی جنگ بندی کا اعلان کیا گیا، تاہم اس کے باوجود ڈیموکریٹس کی بڑی تعداد اپنے مطالبے پر قائم رہی اور مؤقف اختیار کیا کہ صدر کے بیانات خود ایک قابلِ مواخذہ اقدام ہیں۔
یاد رہے کہ صدر ٹرمپ اپنے پہلے دورِ صدارت میں 2 مرتبہ مواخذے کا سامنا کر چکے ہیں، تاہم دونوں بار سینیٹ نے انہیں بری کر دیا تھا۔













