اسٹیٹ بینک کی نئی اصلاحات، فری لانسرز کے لیے کتنی بڑی سہولت ہے؟

بدھ 8 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے فری لانس گرافک ڈیزائنر العابدین گزشتہ 7 برس سے بین الاقوامی کلائنٹس کے لیے کام کر رہے ہیں، جن میں زیادہ تر یوکے اور کینیڈا کے کلائنٹس شامل ہیں۔ ان کے بقول، فری لانس کا یہ سفر آسان نہیں تھا۔ گریجوایشن کے بعد جاب نہ ملنے اور کئی مشکلات سے گزرنے کے بعد انہیں بیرون ملک فری لانسنگ کے ذریعے روزگار ملا، لیکن محنت کا حق وصول کرنا کہیں زیادہ مشکل ثابت ہوا۔

مزید پڑھیں:آئی ٹی برآمدات بڑھانے کے لیے نئی پالیسی، فری لانسرز کو بڑا ریلیف

زین العابدین کے مطابق سب سے بڑا چیلنج کام کرنے سے زیادہ پاکستان میں پیمنٹ وصول کرنا اور اسے بینک میں ٹرانسفر کرنا تھا۔ ہر لین دین کے لیے فارم ’آر‘ جمع کروانا ضروری تھا، جبکہ بینک کی پراسیسنگ سست اور غیر یقینی تھی۔ چھوٹی ادائیگیاں بھی اکثر رک جاتی یا تاخیر کا شکار ہو جاتی تھیں، جس سے کیش فلو متاثر ہوتا اور ایجنسیز پر اضافی انتظامی بوجھ پڑتا۔ اس وجہ سے کچھ کلائنٹس بھی کام کرنے میں ہچکچاتے تھے۔

زین العابدین نے کہا کہ نئی پالیسی کے تحت اب فارم ’آر‘ کے لیے صرف ایک مرتبہ معلومات دینا کافی ہوگا اور ہر لین دین ایک کاروباری دن میں مکمل ہو جائے گا۔ اس سے رقم جلد حاصل ہوگی، بینک کے بار بار فون یا وزٹ کی ضرورت ختم ہو جائے گی، اور غیر ملکی کرنسی میں کام کرنے والے فری لانسرز کے لیے کام کرنا زیادہ آسان اور ہموار ہو جائے گا۔ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ ذہنی دباؤ اور الجھن، جو ہر ٹرانزیکشن کے ساتھ لاحق ہوتی تھی، ختم ہو جائے گی۔

مزید پڑھیں:عالمی سیاسی صورتِ حال میں پاکستانی فری لانسرز کے لیے کیا نئے مواقع ہیں؟

انہوں نے مزید کہا کہ اگر یہ اصلاحات تمام بینکوں میں مؤثر طریقے سے نافذ ہوں تو نہ صرف فری لانسرز کے اعتماد میں اضافہ ہوگا بلکہ پاکستان کی آئی ٹی برآمدات میں بھی مدد ملے گی، خاص طور پر چھوٹے اور درمیانے درجے کے ڈیجیٹل کاروباروں کے لیے۔ تاہم، یہ اصلاحات پے پال جیسی عالمی ادائیگی کی سہولت تک رسائی کو حل نہیں کرتیں، جو غیر ملکی کلائنٹس کے ساتھ کام کرنے کے لیے اکثر ضروری ہوتی ہے۔

آئی ٹی ایکسپرٹ اور فری لانسر طاہر عمر، جو پچھلے 15 برس سے بیرون ممالک آئی ٹی خدمات فراہم کر رہے ہیں، نے کہا کہ پہلے بینک ہر ٹرانزیکشن پر بار بار معلومات طلب کرتے اور اکثر یہ کہہ کر عمل روک دیتے کہ یہ اسٹیٹ بینک کی پالیسی ہے۔ فارم بھرنے، پاکستان سافٹ ویئر ایکسپورٹ بورڈ کا سرٹیفکیٹ لگانے اور مختلف جگہوں پر جمع کروانے کی ضرورت سے پیمنٹ کئی دن تک رکی رہتی تھی، جو ذہنی طور پر بھی تھکا دینے والا عمل تھا۔ نئی پالیسی سے اب صرف ایک مرتبہ معلومات جمع کروانا کافی ہوگا، اور ہر ٹرانزیکشن پر بار بار یہی عمل دہرانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔

صدر پاکستان فری لانسر ایسوسی ایشن طفیل احمد خان نے کہا کہ یہ اصلاحات فری لانسرز اور آئی ٹی ایکسپورٹرز کے لیے بہت بڑی سہولت ہیں، خاص طور پر بینکنگ میں تاخیر، بار بار دستاویزات جمع کروانے کی ضرورت اور غیر واضح طریقۂ کار کے مسائل حل کرتی ہیں۔ فارم ’آر‘ کو آسان بنانا، ایک مرتبہ معلومات دینے کی سہولت، اور لین دین کو ایک کاروباری دن میں مکمل کرنے کا وعدہ فری لانسرز کے لیے کام کرنا تیز اور آسان کرے گا۔

مزید پڑھیں:اسٹیٹ بینک نے آئی ٹی ایکسپورٹرز اور فری لانسرز کے لیے نئی سہولیات کا اعلان کردیا

مزید بتایا گیا کہ فارم ’آر‘ اور اندرونی ترسیلاتی واؤچر کے لیے 25 ہزار امریکی ڈالر کی نئی حد، معیاری دستاویزات، 30 جون 2026 تک ڈیجیٹلائزیشن کے اہداف اور ذمہ داری کے واضح ڈھانچے ایک ترقی پسند اور عالمی معیار کے مطابق سوچ کی عکاسی کرتے ہیں۔ یہ اصلاحات پابندیوں کو ختم نہیں کرتیں بلکہ انہیں زیادہ مؤثر، شفاف اور فری لانسر دوست بناتی ہیں، جس سے پاکستان کی عالمی ڈیجیٹل معیشت میں پوزیشن مضبوط ہوگی اور بڑھتی ہوئی فری لانسر ورک فورس کو سہولت اور طاقت ملے گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

سیاسی و عسکری قیادت کی ہم آہنگی سے پاکستان کا وقار بلند، پروپیگنڈا کرنے والوں کے لیے بھی ایک سبق

فخر ہے کہ پاکستان نے دانشمندی سے ایران جنگ بندی و امن کے لیے کردار ادا کیا، صدر مملکت

جنگ بندی کے بعد عالمی مارکیٹ بہتر، پاکستان میں پیٹرول کی قیمت میں کتنی کمی کا امکان ہے؟

ایران جنگ بندی میں وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کوششوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، قطر

پاکستان میں سونے کی قیمت میں ایک بار پھر بڑا اضافہ

ویڈیو

مری میں شدید بارش، لینڈ سلائیڈ اور سیلاب کا خطرہ، ہائی الرٹ جاری

اورنج لائن ٹرین میں مفت سفر کرنے کا آسان طریقہ

اسکردو میں سانحہ گیاری کے شہدا کی برسی عقیدت و احترام سے منائی گئی

کالم / تجزیہ

نوبل امن انعام تو بنتا ہے

پاکستان نے جنگ بندی کیسے کرائی؟ کیا، کیسے اور کیونکر ممکن ہوا؟

فیصلہ کن موڑ: امن جیتے گا یا کشیدگی؟