جنگ بندی میں کردار ادا کر کے پاکستان نے دنیا کو بڑی تباہی سے بچایا، سفارتی ماہرین

بدھ 8 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی میں پاکستان کے کردار کو ایک تاریخی اور بڑی سفارتی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔ سابق سفیروں کا کہنا ہے کہ جنگ بندی کرا کے پاکستان نے دنیا کو بڑی تباہی سے بچایا ہے۔

سابق وزیر خارجہ مشاہد حسین سید نے کہا کہ سب سے پہلے تو پوری پاکستانی قوم مبارک باد کی مستحق ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے فیورٹ فیلڈ مارشل نے بہترین کردار ادا کیا اور جنگ بندی میں کلیدی حصہ ڈالا۔ اس وقت پاکستان پوری دنیا کی سفارتی ڈپلومیسی کا مرکز بن چکا ہے اور اس میں پاکستان نے ایک تاریخی کردار ادا کیا ہے۔ ایک بڑی جنگ جو بھڑک رہی تھی اسے پاکستان نے رکوا دیا ہے اور اس کردار کے باعث مستقبل میں پاکستان کا نام مزید روشن ہوگا۔

یہ بھی پڑھیے: امریکا ایران جنگ بندی پاکستان کی کامیاب سفارت کاری پنجاب اسمبلی کی تائیدی قرارداد منظور

مشاہد حسین سید نے کہا کہ پاکستان نے اس جنگ میں ایک اصولی مؤقف اپنایا، جہاں جارحیت ہوئی اس کی مذمت کی اور مظلوم کا ساتھ دیا۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں بھی پاکستان نے بہترین کردار ادا کیا، جہاں ایران کے حملوں کی مذمت کی گئی لیکن امریکا اور اسرائیل کے حملوں پر خاموشی اختیار کی گئی تو پاکستان نے اس کی مخالفت کی۔

ان کے مطابق اس سے پاکستان کے وقار میں اضافہ ہوا اور دنیا پر واضح ہوا کہ پاکستان قانونی اور اخلاقی مؤقف رکھتا ہے۔ پاکستان کی ثالثی پر امریکا اور ایران دونوں رضامند ہوئے اور اس جنگ بندی سے نہ صرف دونوں ممالک بلکہ پوری دنیا کو فائدہ ہوگا جبکہ عالمی معیشت بھی بہتر ہوگی۔

سابق سفیر سردار مسعود خان نے کہا کہ پاکستان نے امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی میں کلیدی کردار ادا کیا ہے جو کہ ایک بڑا اعزاز ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس اقدام کو عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے اور پاکستان کی سفارتی تاریخ میں یہ ایک نمایاں سنگ میل ہے۔ اگرچہ پاکستان کی سفارتی تاریخ ہمیشہ سے مضبوط رہی ہے، تاہم حالیہ کامیابی کو ماضی کی تمام کوششوں کا نقطۂ عروج قرار دیا جا سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: علاقائی صورتحال پر پاکستان اور یورپی یونین کا رابطہ، امن کے لیے سفارتی کوششوں پر اتفاق

انہوں نے کہا کہ اس سے نہ صرف خطے میں امن کے امکانات روشن ہوئے ہیں بلکہ پاکستان پر پڑنے والے معاشی دباؤ میں بھی کمی کا امکان ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ جنگ ماضی کی جنگوں سے مختلف تھی کیونکہ اس کے اثرات مشرق وسطیٰ سے نکل کر دنیا بھر تک پھیل رہے تھے اور جاپان، جنوبی کوریا اور امریکا سمیت کئی ممالک اس سے متاثر ہو رہے تھے۔ تاہم پاکستان نے بروقت کردار ادا کر کے جنگ بندی ممکن بنائی اور عالمی سطح پر اپنا قد بلند کیا۔

سابق سفیر نغمانہ ہاشمی نے کہا کہ اگر گزشتہ دنوں کے بیانات دیکھے جائیں تو ایسا لگ رہا تھا کہ دنیا ایک بڑی تباہی کی طرف جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی صدر کی جانب سے ایران کے خلاف سخت بیانات نے صورتحال کو مزید کشیدہ کر دیا تھا، تاہم پاکستان کی کوششوں سے جنگ بندی ممکن ہوئی۔ انہوں نے اس پیش رفت کو پاکستان کی سب سے بڑی سفارتی کامیابی قرار دیا۔

نغمانہ ہاشمی نے کہا کہ یہ کامیابی کسی ایک دن یا رات کی محنت کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک طویل عمل کا حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے پہلے مصر اور ترکیہ جیسے ممالک کو اعتماد میں لیا، پھر امریکا اور ایران کے ساتھ بات چیت کی جو کہ ایک مشکل مرحلہ تھا۔ ان کے مطابق اس کامیابی کا سہرا اسلام آباد کو جاتا ہے جہاں ملٹری ڈپلومیسی اور حکومت نے اہم کردار ادا کیا۔

انہوں نے کہا کہ اب پاکستان کے لیے اگلا مرحلہ مزید اہم ہے جس میں باقاعدہ مذاکرات کا انعقاد شامل ہوگا، اور اس میں امریکا، ایران کے ساتھ ساتھ چین جیسے بڑے ممالک بھی شامل ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ پاکستان کی میزبانی میں ہونے والے مذاکرات پائیدار ثابت ہوں گے اور اس کے مثبت اثرات نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا پر مرتب ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیے: مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے سفارتی رابطوں میں تیزی، اسحاق ڈار کی اہم ممالک کے وزرائے خارجہ سے بات چیت

سینیئر سفارت کار اعزاز چوہدری نے کہا کہ پاکستان کا آغاز سے ہی مؤقف یہی تھا کہ امن قائم ہو اور وہ ہمیشہ امن کے لیے کوشاں رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بعض حلقوں کی جانب سے کہا جا رہا تھا کہ سعودی عرب کے ساتھ معاہدے کے باعث پاکستان مشکل میں پھنس جائے گا اور کچھ لوگ یہ بھی کہتے تھے کہ اگلا نمبر پاکستان کا ہو سکتا ہے، تاہم حالیہ پیش رفت نے ان خدشات کو غلط ثابت کر دیا۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ پاکستان نے ماضی میں بھی بڑے چیلنجز کا مقابلہ کیا ہے اور حالیہ کامیابی سے یہ ثابت ہوا ہے کہ مذاکرات ہی امن کا واحد راستہ ہیں۔

ماہر بین الاقوامی امور ہما بقائی نے کہا کہ پاکستان نے جنگ بندی کرا کے ایک انتہائی اہم اور بڑا کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہ جنگ بندی نہ ہوتی تو یہ تنازع خطے سے باہر نکل کر عالمی سطح پر پھیل سکتا تھا۔ ان کے مطابق اس دوران روزانہ اہم بیانات سامنے آ رہے تھے اور عالمی سطح پر خوف و ہراس پایا جا رہا تھا۔ اگر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایران کو فیس سیونگ نہ ملتی تو دنیا کو بڑا نقصان ہو سکتا تھا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے متوازن سفارت کاری کا مظاہرہ کیا، کسی ایک فریق کا ساتھ دینے کے بجائے جہاں غلطی ہوئی وہاں اس کی نشاندہی کی۔

ہما بقائی نے کہا کہ اس وقت پوری دنیا میں پاکستان کا نام لیا جا رہا ہے اور وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کو اس کامیابی کا کریڈٹ دیا جا رہا ہے، جنہوں نے دنیا کو بڑی تباہی سے بچایا۔ ان کے مطابق پاکستان کے ایران کے ساتھ قریبی تعلقات اور امریکا کے ساتھ بہتر انڈرسٹینڈنگ نے اس عمل کو ممکن بنایا اور پاکستان نے دو ہفتوں کے لیے جنگ بندی کرانے میں کامیابی حاصل کی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

امریکا اور ایران کے وفود جمعے کو پاکستان آرہے ہیں، اللہ کو منظور ہوا تو جنگ کے شعلے ہمیشہ کے لیے بجھ جائیں گے، وزیراعظم

امریکا ایران کے ساتھ قریبی تعاون کرے گا، معاہدے کے کئی نکات طے پاچکے، ڈونلڈ ٹرمپ

جو کوئی نہ کر سکا پاکستان نے کر دکھایا، بھارت میں صف ماتم

ایران جنگ بندی پر بھارت میں بھی اعتراف کیا جارہا ہے کہ پاکستان کو سفارتی سطح پر کامیابی ملی، خواجہ آصف

سرمایہ کاروں کا پاکستان اسٹاک مارکیٹ پر اعتماد، مستقبل میں کون سے ریکارڈ بن سکتے ہیں؟

ویڈیو

جو کوئی نہ کر سکا پاکستان نے کر دکھایا، بھارت میں صف ماتم

پاکستان کی عالمی سطح پر پذیرائی، گرین پاسپورٹ کو دنیا بھر میں عزت مل گئی

امریکا ایران جنگ بندی: پاکستان کی سفارتکاری پر اسلام آباد کے عوام کیا کہتے ہیں؟

کالم / تجزیہ

نوبل امن انعام تو بنتا ہے

پاکستان نے جنگ بندی کیسے کرائی؟ کیا، کیسے اور کیونکر ممکن ہوا؟

فیصلہ کن موڑ: امن جیتے گا یا کشیدگی؟