سب سے پہلے تو پاکستان اور دنیا بھر کو جنگ بندی مبارک، امن کو موقع ملا، یہ خطہ جنگ کی آگ میں جھلسنے سے سردست تو بچ گیا۔ ان شااللہ آگے بھی امن قائم ہوگا۔ یہ سب کیوں، کیسے اور کیونکر ہو پایا، اس پر بات کرتے ہیں۔
پاکستان کا کردار مرکزی رہا
یہ بات اب انڈین میڈیا یا کسی حد تک اسرائیلی میڈیا کے سوا باقی پوری دنیا تسلیم کر رہی ہے کہ پاکستان کا کردار بہت مثبت، نمایاں، مرکزی اور اہم رہا۔ پاکستان کے کردار کے بغیر یہ جنگ بندی ممکن نہیں تھی۔ پاکستان نے ایران کے لیے بھی فیس سیونگ پیدا کی اور امریکیوں کو بھی ایک قدم پیچھے ہٹنے اور امن کو کچھ مزید وقت دینے پر آمادہ کیا۔ اس کی دو تین وجوہات ہیں۔
پاکستان واحد غیر جانبدار ثالث تھا
اس بحران میں چین ایران کا معاشی پارٹنر تھا اور خلیجی ممالک امریکا کے اتحادی، لیکن پاکستان وہ واحد ملک رہا جس کے روابط واشنگٹن (ٹرمپ انتظامیہ) اور تہران (ایرانی قیادت) دونوں کے ساتھ ہموار رہے۔ پاکستان نے کسی کا ’فریق‘ بننے کے بجائے ’پل‘ بننے کو ترجیح دی، جس کی وجہ سے دونوں ممالک نے اسلام آباد کو ایک قابلِ بھروسہ پیغام رساں تسلیم کیا۔
پاکستان نے دونوں اطراف سے دباؤ کے باوجود اپنی غیر جانبداری برقرار رکھی۔ پاکستان نے ایران پر امریکی، اسرائیلی حملوں کی مذمت کی اور ساتھ ہی خلیجی ممالک پر ایرانی حملوں کی بھی مذمت کی۔ یہ اتنا آسان نہیں تھا جتنا لگ رہا ہے۔ اس لیے کہ دونوں سائیڈز سے پاکستان پر بہت پریشر تھا کہ صرف ان کے حق میں بات کی جائے، ان کے خلاف مذمتی بیان نہ آئے۔ ہماری سول ملٹری قیادت نے مگر یہ دباؤ برداشت کیا اور غیر جانبدارانہ مؤقف اپنایا، آخری تجزیے میں یہی کام آیا۔
فریقین کے اندر سول، عسکری سطحوں پر گہری رسائی
یہ بھی اہم نکتہ ہے کیونکہ بعض اوقات حکومت کے سول عہدے دار کچھ اور سوچ رہے ہوتے ہیں، جبکہ عسکری حلقے یا خفیہ ایجنسوں کی سوچ مختلف۔ خاص کر ایران میں تو آج کل یہ تقسیم بہت نمایاں ہے۔ اس حوالے سے اسلام آباد کو تہران تک بھی رسائی حاصل تھی اور واشنگٹن کے ساتھ بھی ادارہ جاتی سطح پر رابطہ موجود تھا۔ پاکستان سٹیو وٹکاف، جیراڈ کشنر اور نائب صدر جے ڈی وینس کے ذریعے وائٹ ہاؤس تک رسائی رکھتا تھا، اسٹیٹ آفس اور پینٹاگون تک بھی۔
دوسری طرف الجزیرہ کے مطابق پاکستان ایران کے مذہبی علما، سفارتکاروں اور فوجی قیادت تینوں سے براہِ راست رابطے میں تھا۔ یہ اعتماد برسوں کے تعلق سے بنا تھا، کوئی بھی دوسرا ملک یہ نہیں کر سکتا تھا۔
پاکستان نے عملی طور پر ثابت کیا کہ وہ ایران کا دوست بھی ہے اور امریکا، سعودی سیکیورٹی فریم ورک کا حصہ بھی۔ یہ دوہری پوزیشن اسے منفرد ثالث بناتی تھی۔ پاکستان نے ایران کے ساتھ اعلیٰ ترین سطح پر براہِ راست رابطے کی کوشش بھی کی۔ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر خود تہران جا کر سپریم لیڈر سے ملنے کو تیار تھے۔ سیکیورٹی معاملات کی وجہ سے ایسا نہ ہوسکا مگر اس سے ایرانی ٹاپ لیڈرشپ میں بہت اچھا اور مثبت اثر پڑا۔
پھر جب اسرائیل پاکستان مذاکرات کے لیے آنے والے ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی اور اسپیکر باقر قالین باف کو نشانہ بنانا چاہتا تھا، تو پاکستان نے فوری طور پر امریکیوں کو یہ اطلاع دے کر انہیں ٹارگٹ لسٹ سے نکلوایا۔ اس کا بھی ایرانیوں نے اچھا اثر قبول کیا۔
خاموش، پرسکون مگر مؤثر سفارت کاری
پاکستانی سیاست دان عام طور سے بڑبولے اور شورمچانے والے ثابت ہوتے ہیں، جلد کریڈٹ لینے والے۔ ماضی میں ہم نے بہت بار ایسا دیکھا۔ ماضی کی عمران خان حکومت کے بعض وزرا فواد چودھری وغیرہ تھے یا موجودہ کابینہ کے خواجہ آصف وغیرہ، یہ کچھ زیادہ بول جاتے ہیں۔ اس بار مگر نہایت خاموشی سے، میڈیا کے شور شرابے سے دور سفارت کاری ہوئی۔ بیک چینل رابطے جاری رکھے گئے، کشیدگی کے عروج پر بھی کمیونیکیشن لائنز منقطع نہیں ہونے دی گئیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ایک عملی اور قابلِ عمل فریم ورک پیش کیا گیا۔ فوری جنگ بندی، محدود مدت کا وقفہ، اور اس کے بعد مذاکرات کا آغاز۔ یہ کوئی محض کتابی یا نظریاتی تجویز نہیں تھی بلکہ ایک حقیقت پسندانہ راستہ تھا۔
ممکن ہے یہ خاموش مگر بھرپور سفارت کاری عسکری قیادت کی انوالمنٹ سے ممکن ہوئی ہو۔ مگر وزیر خارجہ اسحاق ڈار کو بھی کریڈٹ دینا چاہیے۔ وہ وزارت خزانہ کے آدمی ہیں، خارجہ امور ان کا شعبہ نہیں، مگر اسحاق ڈار نے بڑی پختگی، سمجھداری اور عمدگی سے کام کیا، ایک پیشہ ور سفارت کار جیسا۔ وہ اس دوران حادثاتی طور پر نیچے گرنے سے زخمی بھی ہوئے، کندھے میں ہئیرلائن فریکچر آیا، مگر اس کے باوجود نہایت متحرک رہے۔ آخری تجزیے میں پاکستانی اینڈ پر یہ پوری ٹیم کی مشترکہ کوشش تھی جو ثمربار ہوئی۔
چین اور امریکا کے درمیان ’متوازن توازن‘
اس پورے منظرنامہ میں سب سے اہم نکتہ یہ ہے کہ پاکستان نے یہ سب کچھ امریکا کے قریب رہتے ہوئے کیا، لیکن چین کو ناراض کیے بغیر۔ چین خود ایران کا بڑا حمایتی ہے، اور پاکستان نے چینی قیادت کو اعتماد میں لے کر یہ ثابت کر دیا کہ پاکستان وہ واحد ملک ہے جو بیجنگ اور واشنگٹن دونوں کے مفادات کو ایک ہی میز پر لا سکتا ہے۔ یہ توازن برقرار رکھنا کسی بھی ملک کے لیے سفارتی معجزے سے کم نہیں ہوتا، مگر پاکستان نے کر دکھایا۔
عالمی سطح پر پاکستان کو کیسے دیکھا گیا؟
دنیا بھر میں پاکستانی کردار کو سراہا گیا۔ کسی نے بہت کھل کر اور بعض نے قدرے محتاط انداز میں مگر بہرحال پاکستانی سفارتی کردار نمایاں رہا۔ اہم امریکی، یورپی، عرب، چینی، روسی، ایرانی اخبارات اور میڈیا ہاؤسز نے یہ لکھا اور کہا کہ پاکستان کی ثالثی کے بغیر یہ جنگ بندی ممکن نہیں تھی۔
فارن پالیسی جیسے اہم میگزین نے کہا کہ جنگ بندی پاکستان کی ان تھک سفارتی کوششوں کا نتیجہ ہے۔ پی بی ایس نیوز نے صدرٹرمپ کو کوٹ کیا کہ انہوں نے جنرل عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف کی درخواست پر ایسا کیا۔ ایکسوس جیسی اہم جنگی، سفارتی ویب سائٹ کے مطابق پاکستان کئی ہفتوں سے امریکا اور ایران کے درمیان بنیادی ثالث رہا ہے۔
اٹلانٹک کونسل، آئرش ٹائمز، بی بی سی، رائٹر، الجزیرہ، عرب میڈیا، روسی، چینی میڈیا ہاؤسز سب پاکستان کو سراہ رہے ہیں۔ اسے ایمرجنگ میڈئیٹر کہہ رہے ہیں۔ کئی بڑے میڈیا ہاؤسز اور تجزیہ کاروں نے اسے پاکستان کی عالمی دنیا میں بھرپور واپسی کا نام بھی دیا ہے کہ پاکستان ایک بار پھر دنیا بھر میں اہم ہوگیا ہے وغیرہ وغیرہ۔
شہباز شریف کے ٹوئیٹ کا ایشو
اس پورے معاملے میں انڈین میڈیا، تجزیہ کار خاص کر پرو بی جے پی حلقے شدید تلملائے اور جھنجھلائے ہوئے ہیں۔ انہیں تکلیف ہے کہ بھارت جو خود کو مہاگرو اور عالمی استاد کہتا تھا، وہ دیوار سے لگا ہوا ہے اور پاکستان ہی مرکزی سٹیج پر ہے۔ انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف کے اس ٹوئیٹ کا مذاق اڑایا ہے جس میں صدر ٹرمپ اور ایران دونوں سے جنگ بندی کی اپیل کی گئی۔ جب یہ ٹوئٹ پہلی بار کیا گیا تو اس میں اوپر ڈرافٹ برائے پاکستانی وزیراعظم کے الفاظ لکھے رہ گئے جنہیں بعد میں ایڈٹ کر دیا گیا۔
انڈین میڈیا جیسے این ڈی ٹی وی، اکنامک ٹائمز، انڈیا ٹو ڈے وغیرہ اور ان کا سوشل میڈیا شور مچا رہا ہے کہ یہ ٹوئیٹ دراصل امریکیوں نے ڈرافٹ کرکے شہباز شریف کو بھیجا تھا جو اس نے کر دیا اور پاکستان نے محض ایک پیغام کنندہ کا کردار ادا کیا، پاکستان کٹھ پتلی ہے وغیرہ وغیرہ۔
یہ سب نہایت فضول باتیں ہیں۔ اس لیے کہ اس پورے معاملے میں ثالثی کر ہی پاکستان رہا تھا۔ کیا پاکستان نے اسلام آباد میں ترک، سعودی عرب، مصری اور ایرانی وزرا خارجہ کو جمع کرکے مذاکرات نہیں کرائے؟ کیا پاکستان ہی پچھلے تین چار ہفتوں سے مسلسل امریکا اور ایران کے درمیان واحد رابطے کا کام نہیں کر رہا؟ کیا پاکستان مسلسل ایرانیوں سے رابطے میں نہیں رہا اور انہیں مختلف امن تجاویز نہیں دیتا رہا؟
کیا پاکستانی قیادت ہی بار بار سعودیوں سے ان ٹچ نہیں رہی، انہں مسلسل تحمل سے کام لینے کا نہیں کہتی رہی؟ کیا پاکستانی وزیرخارجہ چین جا کر نہیں ملے تھے اور اس کے بعد پاک چینی مشترکہ اعلامیہ میں وہی باتیں کہی گئی ہیں جن کی بنیاد پر اب صلح ہوئی یعنی جنگ بندی اور آبنائے ہرمز کو فوری طور پر کھولنا۔ کیا ایسا نہیں ہوتا رہا؟ اگر یہ سب درست ہے تو ظاہر ہے پاکستان ہی ثالث، سفارت کار، رابطہ کار تھا، پاکستان ہی سے ہر چیز ڈسکس ہونی تھی۔
دنیا بھر میں ایسے باضابطہ ٹوئیٹ اور اپیل سے پہلے بہت کچھ پس پردہ ہوتا ہے۔ کئی جگہوں پر رابطے ہوئے ہوں گے، ابتدائی ڈرافٹ وہاں گئے ہوں گے، امریکیوں سے بھی اور ایرانیوں سے بھی مسلسل رابطہ رہا ہوگا، چینیوں کو آن بورڈ رکھا گیا ہوگا۔ جو ٹیم یہ سب کام کر رہی ہوگی، اس نے مختلف ڈرافٹ لکھے ہوں گے، بار بار انہیں تبدیل بھی کیا ہوگا۔
چاہے وہ اسلام آباد میں فارن آفس کی ٹیم ہو، اس نے بھی ایک ڈرافٹ پاکستانی وزیراعظم کے لیے، ایک امریکیوں کے لیے، ایک ایرانیوں کے لیے اور ممکن ہے ایک سعودی عرب کے لیے اور یقینی طور پر ایک چینیوں کے لیے بھی لکھا ہوگا۔
ایسا نہیں کہ یہ ٹوئیٹ امریکیوں سے آ گیا اور شہباز شریف نے بس اسے پوسٹ کر دیا۔ ایسا نہیں ہوتا بھائی۔ یہ ماڈرن ڈپلومیٹک ورلڈ ہے، یہاں پر کمیونکیشن کی جہت میں اور مسلسل اور بار بار ہوتی ہے۔
اس لیے انڈین میڈیا کا یہ طنز، مذاق اور جگتیں پھیکی، گھٹیا اور فضول ہیں۔ دراصل اس پر کھیسیانی بلی کھمبا نوچے والا اردو محاورہ فٹ ہوتا ہے۔ اس ٹوئیٹ کو دنیا بھر میں مثبت انداز میں لیا گیا اور کسی نے بھی انڈین درفنطنی کو اہمیت نہیں دی۔ ہر کوئی جانتا ہے کہ اس قسم کے کاموں میں کیا کچھ پیچھے چلتا رہتا ہے اور یہ اہم نہیں۔
اہم یہ ہے کہ پاکستان نے امریکا اور ایران دونوں کی فیس سیونگ کرائی، جنگ بندی بھی ہوگئی، آبنائے ہرمز بھی کھل گئی اور اب امن کو ایک بڑا موقع مل گیا۔ البتہ جو پاکستانی حلقے اس حوالے سے انڈین میڈیا کی آواز بول رہے ہیں، وہ پاکستانی وزیراعظم کا مذاق اڑانے میں شامل ہیں، انہیں اپنے طرزعمل پر غور کرنا چاہیے۔ سیاسی اختلاف کا مطلب یہ نہیں کہ اپنے ملک کو بے توقیر کیا جائے۔ شہباز شریف سے لاکھ کسی کو سیاسی اختلاف ہو، مگر یہ پاکستانی وزیراعظم اور خود پاکستان کی کامیابی ہے۔
اب آگے کیا ہوگا؟
یہ ملین ڈالر سوال ہے۔ ایران نے کہا ہے کہ وہ 10 اپریل کو اسلام آباد میں مذاکرات کریں گے، ظاہر ہے امریکیوں سے اِن ڈائریکٹ مذاکرات ہی ہوں گے۔ صدر ٹرمپ نے 10 نکاتی ایرانی فارمولے کو قابل عمل کہا ہے، قابل غور بھی۔ امید ہے کہ اب جزئیات پر بات ہوگی۔ امکانات ہیں کہ آگے جا کر بریک تھرو ہوجائے، یہ بھی کہ شاید جنگ بندی مزید طویل ہوجائے۔ یوں محسوس ہو رہا ہے کہ ایران میں بھی فیصلہ سازی اب صرف پاسداران کے ہاتھ میں نہیں بلکہ تجربہ کار، پختہ کار سفارتکار اور سول حکومت کا کردار بھی ہوگا۔
ہاں یہ خطرہ ضرور رہے گا کہ اس جنگ بندی کو سبوتاژ کرنے کی کوشش ہوتی رہے۔ فالس فلیگ آپریشن اسرائیل بھی کرسکتا ہے، کوئی اور بھی۔ ایران کے اندر بھی ہارڈ لائنرز ہیں، سعودی عرب میں الجبیل پر حملہ بھی انہوں نے کرایا۔ آئندہ بھی ممکن ہے کوئی ایسا کر گزرے۔ اس سے ہوشیار رہنا چاہیے۔ الحمدللہ اب خیر ہوئی ہے، اللہ نے چاہا تو آئندہ بھی خیر ہو گی۔
سب پاکستانیوں کو، سب دنیا والوں کو جنگ بندی مبارک۔ امن کو موقع ملا، ان شااللہ اب خطے میں امن قائم ہوگا۔ اس بات پر البتہ غور کرنا چاہئیے کہ پوری دنیا میں صرف انڈینز کو اس پر تکلیف ہے کہ پاکستان کو اس جنگ بندی کا کریڈٹ کیوں ملا ہے، پاکستانی جھنڈا کیوں بلند ہوا؟ دنیا بھر میں بڑے میڈیا ہاؤسز، دنیا کے نامور اخبار، چینلز پاکستان کے کردار کو سراہ رہے ہیں، کریڈٹ دے رہے ہیں۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔












