مشرقِ وسطیٰ کی سرزمین ایک بار پھر بارود کی بو سے بھر گئی تھی۔ فضا میں خوف تھا، زمین پر بے یقینی، اور سمندروں میں بھی کشیدگی کی لہریں اٹھ رہی تھیں۔ جنگ صرف گولیوں اور میزائلوں کا نام نہیں ہوتی، یہ انسانوں کے خوابوں، گھروں، اور مستقبل کو بھی نگل جاتی ہے۔ ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے دنیا کو ایک ایسے دہانے پر لا کھڑا کیا تھا جہاں ایک چنگاری پورے خطے کو آگ میں جھونک سکتی تھی۔
آبنائے ہرمز کی بندش نے اس بحران کو مزید سنگین بنا دیا۔ دنیا کی توانائی کی شہ رگ کہلانے والی اس گزرگاہ سے تیل اور گیس کی ترسیل رکنے سے عالمی منڈیوں میں بھونچال آ گیا۔ تیل کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگیں، اور مہنگائی کا ایک نیا طوفان دنیا بھر کے عام آدمی پر ٹوٹ پڑا۔ ترقی یافتہ ممالک ہوں یا ترقی پذیر، ہر معیشت اس دباؤ کو محسوس کر رہی تھی۔ یہ صرف ایک خطے کا مسئلہ نہیں رہا تھا، بلکہ پوری دنیا اس کے اثرات کی زد میں آ چکی تھی۔
ایسے نازک وقت میں پاکستان نے محض ایک تماشائی بننے کے بجائے ایک ذمہ دار اور فعال کردار ادا کیا۔ وزیرِ اعظم شہباز شریف کی قیادت میں پاکستان نے سفارتکاری کے وہ دروازے کھولے جو اکثر ایسے حالات میں بند ہو جاتے ہیں۔ پس پردہ رابطے، مسلسل مشاورت، اور تحمل و تدبر سے بھرپور حکمت عملی نے بالآخر وہ راستہ ہموار کیا جس سے جنگ کے بادل وقتی طور پر چھٹ گئے۔
ان کاوشوں میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا کردار بھی قابلِ فخر ہے، جن کی قیادت میں عسکری اور سفارتی ہم آہنگی نے پاکستان کے مؤقف کو مضبوط بنایا۔ یہ ایک ایسا لمحہ تھا جب قومی قیادت ایک صفحے پر نظر آئی، اور دنیا نے دیکھا کہ پاکستان نہ صرف اپنے مفادات بلکہ عالمی امن کے لیے بھی سنجیدہ ہے۔
دنیا کے مختلف رہنماؤں اور عالمی اداروں کی جانب سے پاکستان کی ان کاوشوں کو سراہا جانا اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ محض سفارتی کامیابی نہیں بلکہ ایک ذمہ دار ریاست کے کردار کا اعتراف ہے۔ جب بڑے ممالک طاقت کے اظہار میں مصروف تھے، پاکستان نے مکالمے، برداشت اور امن کا راستہ چنا۔
یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ اگر یہ جنگ بندی نہ ہوتی تو اس کے اثرات کہیں زیادہ تباہ کن ہو سکتے تھے۔ ہزاروں جانیں خطرے میں پڑتیں، معیشتیں مزید کمزور ہوتیں، اور دنیا ایک طویل عدم استحکام کے دور میں داخل ہو سکتی تھی۔ ایسے میں پاکستان کی بروقت مداخلت نے نہ صرف ایک ممکنہ انسانی المیے کو ٹالا بلکہ عالمی معیشت کو بھی ایک بڑے جھٹکے سے بچایا۔
ان تمام حقائق کی روشنی میں یہ مطالبہ شدت اختیار کرتا جا رہا ہے کہ جب امن کے لیے وزیرِاعظم شہباز شریف کی غیر معمولی کوششوں کو عالمی سطح پر تسلیم کیا جا رہا ہے تو انہیں نوبل امن انعام سے نوازا جانا چاہیئے۔ نوبل امن انعام جیسے اعزاز کا اصل حق دار وہی ہوتا ہے جو جنگ کے دہانے پر کھڑی دنیا کو پیچھے ہٹنے پر آمادہ کرے، اور اس معیار پر شہباز شریف کی حالیہ کاوشیں پوری اترتی ہیں۔
یہ ایک یاد دہانی بھی ہے کہ دنیا کو ہمیشہ طاقت نہیں، بلکہ تدبر، مکالمہ اور قیادت بچاتی ہے۔ اور شاید یہی وہ لمحہ ہے جب پاکستان نے دنیا کو یہ سبق ایک بار پھر یاد دلایا:
سبَق پھر پڑھ صداقت کا، عدالت کا، شجاعت کا
لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔











