صدر مملکت آصف علی زرداری نے امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والی جنگ بندی کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسے خطے میں کشیدگی کم کرنے اور امن کی جانب اہم پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کو اس بات پر فخر ہے کہ اس نے دانشمندی، عزم اور امن کے پختہ مؤقف کے ساتھ کردار ادا کیا۔۔
ایوانِ صدر کے جاری بیان کے مطابق صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ نیک نیتی کے ساتھ کشیدگی کم کرنے کے لیے کردار ادا کیا اور ایسے وقت میں امن کی کوششیں کیں جب دنیا ایک بڑے بحران کے دہانے پر کھڑی تھی، امن خطے کی سلامتی، معاشی استحکام اور عوام کی فلاح کے لیے ناگزیر ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایران جنگ بندی میں وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کوششوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، قطر
صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان کو اس بات پر فخر ہے کہ اس نے دانشمندی، عزم اور امن کے پختہ مؤقف کے ساتھ کردار ادا کیا۔ انہوں نے امریکا اور ایران کی قیادت کو مذاکرات کا راستہ اختیار کرنے پر سراہتے ہوئے کہا کہ مکالمہ تباہی کے مقابلے میں بہتر راستہ ہے۔ انہوں نے واشنگٹن، تہران، اسلام آباد اور خلیجی ممالک خصوصاً سعودی عرب کی قیادت کی سفارتی کوششوں کو بھی قابلِ تحسین قرار دیا۔
صدر آصف علی زرداری نے وزیراعظم شہباز شریف، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی مسلسل سفارتی کاوشوں اور قیادت کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان اقدامات نے خطے میں امن کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا۔
انہوں نے چین، مصر، ترکیہ، سعودی عرب اور روس سمیت دوست ممالک کا بھی شکریہ ادا کیا جنہوں نے مشکل وقت میں تحمل اور مذاکرات کے فروغ کے لیے مثبت کردار ادا کیا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان نے جنگ بندی کیسے کرائی؟ کیا، کیسے اور کیونکر ممکن ہوا؟
صدر مملکت کا کہنا تھا کہ دنیا بھر کے عوام کی دعائیں اور نیک خواہشات اس بات کی عکاس ہیں کہ انسانیت امن چاہتی ہے، اور عالمی قیادت کو اسی اجتماعی آواز کی رہنمائی میں ذمہ دارانہ فیصلے کرنے چاہئیں۔
انہوں نے زور دیا کہ جنگ بندی خطے کو سانس لینے اور ممکنہ وسیع جنگ کے خطرے سے نکلنے کا موقع فراہم کرتی ہے، جسے مستقل امن میں تبدیل کرنے کے لیے مسلسل مذاکرات، اعتماد سازی اور پرامن حل کی کوششیں جاری رکھنا ہوں گی۔













