اسلامی تنظیم تعاون نے امریکا اور ایران کے درمیان عارضی جنگ بندی معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے خطے میں کشیدگی کم کرنے کی جانب ایک مثبت اور اہم پیشرفت قرار دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایران جنگ بندی میں وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کوششوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، قطر
او آئی سی کے جنرل سیکریٹریٹ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ جنگ بندی کا یہ اعلان خطے میں سنجیدہ مذاکرات کے آغاز کا ایک اہم موقع فراہم کرتا ہے، جس سے بحران کی بنیادی وجوہات حل کرنے اور مستقل و جامع امن کی راہ ہموار کی جا سکتی ہے۔
The #OIC Welcomes the Announcement of a Temporary #Ceasefire Agreement between the United States of America and the Islamic Republic of #Iran. pic.twitter.com/bWEp77ny6l
— OIC (@OIC_OCI) April 8, 2026
بیان میں زور دیا گیا کہ تمام فریق بین الاقوامی قوانین، ریاستی خودمختاری، ہمسایہ ممالک کے باہمی احترام اور آزادانہ بحری آمدورفت کے اصولوں کی پاسداری یقینی بنائیں تاکہ دوبارہ کشیدگی پیدا نہ ہو اور علاقائی سلامتی و استحکام مضبوط ہو۔
او آئی سی نے رکن ممالک کی جانب سے کشیدگی کم کرنے کے لیے کی جانے والی سفارتی کوششوں کو سراہتے ہوئے خاص طور پر پاکستان کے مؤثر کردار کی تعریف کی۔ بیان میں وزیراعظم شہباز شریف کی کوششوں کو معاہدے تک پہنچنے میں اہم قرار دیا گیا اور ان کی سفارتی کاوشوں کو قابل قدر قرار دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان نے جنگ بندی کیسے کرائی؟ کیا، کیسے اور کیونکر ممکن ہوا؟
او آئی سی کے مطابق جنگ بندی معاہدہ خطے میں امن، استحکام اور تعاون کے فروغ کے لیے ایک اہم موقع ہے جسے مستقل امن کے قیام کے لیے مؤثر مذاکرات میں تبدیل کرنا ضروری ہے۔














