امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے برطانیہ کے ساتھ تجارتی معاہدے سے دستبردار ہونے کی دھمکی دے دی ہے، جس کے نتیجے میں امریکی ٹیرف کے اثرات محدود ہو سکتے ہیں۔
یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب انہوں نے ایک بار پھر ایران سے امریکا کی جنگ کے معاملے پر برطانیہ کی حمایت نہ کرنے پر تنقید کی ہے۔
تاہم ٹرمپ نے کہا کہ امریکا اور اس کے نیٹو اتحادی کے درمیان کشیدگی اس ماہ کے آخر میں کنگ چارلس کے مجوزہ دورۂ امریکا پر بالکل بھی منفی اثر نہیں ڈالے گی۔
یہ بھی پڑھیں:امریکا اب کسی ملک کی مدد کے لیے موجود نہیں ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ برطانیہ اور فرانس پر برس پڑے
اسکائی نیوز کو دیے گئے ایک ٹیلیفونک انٹرویو میں ٹرمپ کا کہنا تھا کہ انہوں نے برطانیہ کو ایک اچھا تجارتی معاہدہ دیا، شاید ضرورت سے بھی بہتر، جسے کسی بھی وقت تبدیل کیا جا سکتا ہے۔
گزشتہ سال لندن اور واشنگٹن کے درمیان ہونے والے معاہدے کے تحت زیادہ تر برطانوی تیار کردہ اشیا پر امریکی ٹیرف کی حد 10 فیصد مقرر کی گئی تھی۔
اس کے بدلے برطانیہ نے امریکی ایتھنول اور بیف کے لیے اپنی منڈی مزید کھولنے پر رضامندی ظاہر کی تھی، جس پر ملک میں تشویش بھی پیدا ہوئی۔
Donald Trump has threatened to rip up the trade deal the United States signed with the UK last year, in his sharpest economic warning yet to Keir Starmer’s government over its refusal to join the Iran war. pic.twitter.com/liT9DuvZVD
— The Daily Britain (@dailybritainonx) April 15, 2026
ابتدائی طور پر یہ معاہدہ لندن کے لیے فائدہ مند تھا کیونکہ اسے امریکا کی جانب سے کم ترین ٹیرف کی سہولت حاصل ہوئی۔
تاہم بعد میں امریکی سپریم کورٹ کی جانب سے کچھ ٹیرف کالعدم قرار دینے اور واشنگٹن کی جانب سے نئی پالیسی تک تقریباً تمام درآمدات پر عارضی 10 فیصد ٹیرف نافذ کرنے کے بعد یہ برتری کمزور پڑ گئی۔
اگرچہ معاہدے کے وقت ٹرمپ نے اسٹارمر کے ساتھ اچھے تعلقات کی تعریف کی تھی، مگر مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے باعث ٹرانس اٹلانٹک تعلقات میں کشیدگی بڑھ گئی ہے۔
مزید پڑھیں: برطانیہ اور چین نے طویل المدتی شراکت داری پر اتفاق کرلیا، ٹرمپ کی ٹیرف دھمکیاں بے اثر
گزشتہ ماہ ایران پر امریکی حملوں کے لیے برطانوی اڈے استعمال کرنے کی اجازت نہ دینے پر صدر ٹرمپ برطانوی وزیر اعظم سے ناراض ہوئے۔
تاہم بعد میں انہوں نے محدود دفاعی مقاصد کے لیے 2 فوجی اڈوں کے استعمال کی اجازت دے دی۔
ٹرمپ کے مطابق یہ ایسا تعلق ہے کہ جب ہمیں ان کی مدد درکار تھی، وہ موجود نہیں تھے۔ ’جب ہمیں ان کی ضرورت تھی، وہ وہاں نہیں تھے، اور اب بھی نہیں ہیں۔‘
مزید پڑھیں: ٹرمپ کے افغان جنگ سے متعلق بیان پر برطانیہ میں شدید ردعمل کا طوفان
دوسری جانب، جنوری 2025 میں صدر ٹرمپ کی وائٹ ہاؤس واپسی کے بعد سے تعلقات بہتر بنانے کی کوشش کرنے والی لیبر حکومت نے حالیہ دنوں میں سخت مؤقف اختیار کر لیا ہے۔
برطانوی وزیرِ خزانہ ریچیل ریوز نے ایران کے خلاف جنگ شروع کرنے کو بغیر واضح حکمتِ عملی کے ایک حماقت قرار دیا، جبکہ وزیرِ صحت ویس اسٹریٹنگ نے ٹرمپ کے بیانات کو اشتعال انگیز اور غیر ذمہ دارانہ قرار دیا تھا۔
اسی تناظر میں ریچل ریوز کی ملاقات بدھ کو امریکی وزیرِ خزانہ اسکاٹ بیسنٹ سے متوقع ہے، جو عالمی مالیاتی فنڈ کے اجلاس کے موقع پر ہوگی، جہاں جنگ کے معاشی اثرات پر بھی بات چیت متوقع ہے۔














