ڈائریکٹوریٹ حج مدینہ میں بدھ کے روز ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں 18 اپریل سے پاکستانی حجاج کی آمد کے انتظامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں مختلف شعبوں کے اعلیٰ افسران نے شرکت کی اور حج آپریشن کی تیاریوں پر بریفنگ دی گئی۔
اجلاس میں ڈائریکٹر مدینہ زاہد سہیل، کوآرڈینیٹر مکہ ذوالفقار خان، ہیڈ آف میڈیکل مشن کرنل محمد توقیر ملک، کاشف حسین، کوآرڈینیٹر مدینہ اور مصباح الرحمان ڈپٹی کوآرڈینیٹر مدینہ سمیت دیگر افسران موجود تھے۔
یہ بھی پڑھیں:حج 2026 کے لیے پروازوں کا شیڈول جاری کردیا گیا
افسران نے رہائش، کھانے، ٹرانسپورٹ اور حجاج کے استقبال سمیت تمام اہم معاملات پر بات کی۔ ہر شعبے کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا تاکہ حجاج کو مدینہ پہنچتے ہی آسانی اور سہولت میسر آ سکے۔
حکام کے مطابق 18 اپریل کو 660 پاکستانی حجاج تین پروازوں کے ذریعے مدینہ پہنچیں گے جبکہ اس کے بعد مزید پروازیں بھی آئیں گی۔ یہ رواں سال کے حج آپریشن کا آغاز ہوگا جس میں شروع سے ہی بہتر اور منظم سہولیات فراہم کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔
ڈائریکٹر مدینہ زاہد سہیل نے بتایا کہ تمام انتظامات مکمل طور پر تیار ہیں اور زیادہ تر کام ڈیجیٹائز نظام کے تحت کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے آنے والے حجاج کے لیے رہائش پہلے ہی مختص کر دی گئی ہے تاکہ انہیں کسی قسم کی پریشانی نہ ہو۔

کوآرڈینیٹر مکہ ذوالفقار خان نے انتظامات کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ کوششیں حجاج کے لیے آسانی پیدا کریں گی اور انہیں بہتر سہولتیں ملیں گی۔
حکام کا کہنا ہے کہ تمام تیاریاں مکمل ہیں اور عملہ مختلف شعبوں میں تعینات کر دیا گیا ہے۔ ایئرپورٹ استقبال، رہائش، کھانے اور ٹرانسپورٹ کے نظام کو مربوط انداز میں چلانے کے لیے ٹیمیں تیار ہیں۔ نسک کارڈ اور سم کارڈ کی فراہمی کے لیے بھی متعلقہ اداروں کے ساتھ رابطہ جاری ہے تاکہ حجاج کو فوری سہولت مل سکے۔
یہ بھی پڑھیں:حج 2026 کی تیاریوں کا آغاز، پاکستان میں لازمی تربیتی پروگرام کا پہلا مرحلہ شروع
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حجاج کرام میں مختلف کارڈز کی تقسیم انتہائی احتیاط کے ساتھ کی جائے تاکہ کسی قسم کی پریشانی سے بچا جا سکے
کاشف حسین، کوآرڈینیٹر مدینہ، نے ڈائریکٹر کی تیاریوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ حکمتِ عملی کے مؤثر نفاذ کے لیے آپریشنل ٹیم اور مقامی ٹیم کے درمیان ہر سطح پر قریبی رابطہ ناگزیر ہے۔
حکام نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حجاج کا استقبال مکمل احترام کے ساتھ کیا جائے گا اور ان کے قیام کو ہر ممکن آرام دہ بنایا جائے گا تاکہ وہ اپنے روحانی سفر کا آغاز سکون اور اطمینان کے ساتھ کر سکیں۔













