ہنساتے ببو برال کی اداس کہانی

جمعرات 16 اپریل 2026
author image

مشکور علی

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

کچھ چہرے ایسے ہوتے ہیں جو زندگی بھر دوسروں کو ہنساتے ہیں، مگر خود خاموشی سے اپنے دکھوں کا بوجھ اٹھائے رکھتے ہیں۔ ببو برال بھی ایسا ہی ایک چہرہ تھے، قہقہوں کے بیچ چھپا ایک اداس انسان۔

2009 میں لیاقت ہال راولپنڈی میں ببو برال کے اعزاز میں منعقدہ ایک تقریب میں ان سے آخری ملاقات ہوئی۔ چہرے پر سجی مسکراہٹ اپنی جگہ، مگر وہ ان کے اندر چھپے کرب کو مکمل طور پر چھپا نہ سکی۔ جیو نیوز کے لیے ان کا مؤقف لیا تو سوال یہی تھا کہ حکومت ان کی صحت کے حوالے سے کیا کر رہی ہے؟ ببو برال نے مختصر مگر نہایت معنی خیز جواب دیا: ’کافی عرصے سے صرف ’گولیاں‘ دے رہی ہے۔‘

’دوست بچھڑ گئے، حکومت کے وعدے صرف باتیں بن کر رہ گئے، اب تو بس موت کے دن گن رہا ہوں۔‘

یہ الفاظ کسی عام انسان کے نہیں، اس فنکار کے تھے جس نے ساری عمر دوسروں کے چہروں پر ہنسی بکھیری۔ اپنی زندگی کے آخری دنوں میں ایک مقامی اخبار کو دیے گئے انٹرویو میں وہ یوں ٹوٹے ہوئے دکھائی دیے جیسے قہقہوں کا یہ شہنشاہ اندر سے مکمل طور پر ویران ہو چکا ہو۔

وہ کہا کرتے تھے، ’جو کمایا، خرچ ہو گیا۔ ۔ ۔ اب علاج کے لیے کچھ نہیں۔‘ یہ الفاظ محض ایک جملہ نہیں تھے، بلکہ ایک فنکار کی بے بسی کا نوحہ تھے۔ آنکھیں نم ہوتیں تو لبوں پر ایک کربناک مسکراہٹ آ جاتی، اور وہ گنگنا اٹھتے: ’کیسے کیسے لوگ ہمارے جی کو جلانے آ جاتے ہیں۔‘

ٹی وی اسکرین پر کبھی کبھار ان کی مسکراتی تصویر دکھائی دیتی، ساتھ یہ خبر بھی کہ صحت سنبھل رہی ہے۔ مگر وہ تصویر صرف ایک عکس تھی، اس کے پیچھے چھپے درد، کرب اور تنہائی کو کوئی نہ دیکھ سکا۔

زندگی نے انہیں پچاس بہاریں (2011-1964) بھی دیکھنے نہ دیں۔ جگر کے کینسر، گردوں کے عارضے اور شوگر جیسے مہلک امراض نے انہیں گھیر لیا۔ مگر حیرت یہ تھی کہ جب بھی انہیں موقع ملتا، وہ اسٹیج پر آ کھڑے ہوتے اور پھر وہی ببو برال، جو اپنے دکھ بھلا کر دوسروں کو ہنسانا جانتا تھا۔

گوجرانوالہ کے ایک چھوٹے سے قصبے گکھڑ منڈی سے نکلنے والا ایوب اختر، ببو برال بن کر اسٹیج کی دنیا میں ایسا چمکا کہ لوگ اس کے ایک ایک جملے پر لوٹ پوٹ ہو جاتے۔ ان کی حاضرجوابی، برجستہ مکالمہ بازی اور بے ساختہ اداکاری نے انہیں ایک الگ پہچان دی۔

1982 میں گوجرانوالہ سے شروع ہونے والا سفر لاہور اسٹیج تک پہنچا، جہاں قسمت نے ان کا ساتھ دیا اور جمیل فخری جیسے استاد سے ملاقات نے ان کے فن کو نئی راہیں دیں۔ پھر انہوں نے مستانہ، امان اللہ اور سہیل احمد جیسے بڑے ناموں کے درمیان اپنی جگہ خود بنائی اور ایسی بنائی کہ انٹری ہوتے ہی ہال تالیوں سے گونج اٹھتا۔

مستانہ کے ساتھ ان کی جوڑی تو گویا قہقہوں کی ضمانت تھی۔ دونوں کی جملے بازی اس قدر جاندار ہوتی کہ سامعین وقت کا ہوش کھو بیٹھتے۔ ببوبرال محض کامیڈین نہیں تھے، وہ گلوکار بھی تھے، ہدایتکار بھی اور لکھاری بھی۔ ’شرطیہ مٹھے‘ جیسے ڈرامے نے انہیں وہ شناخت دی جو ہمیشہ کے لیے امر ہو گئی، جبکہ ’ٹوپی ڈرامہ‘ نے ان کی مقبولیت کو بامِ عروج تک پہنچایا۔

اسٹیج سے فلم تک کا سفر بھی انہوں نے کامیابی سے طے کیا۔ درجنوں فلموں میں اپنی اداکاری کے جوہر دکھائے اور سرحد پار بھی اپنے فن کا لوہا منوایا۔ ان کی آواز میں ریکارڈ ہونے والی آڈیو البم ’بیتیاں رتاں‘ ان کے ہمہ جہت فن کی گواہی دیتی ہے۔

ببوبرال صرف مزاح تک محدود نہیں تھے، موسیقی اور گائیکی سے بھی ان کا رشتہ بے حد گہرا تھا۔ یہ شغف اس قدر رچا بسا تھا کہ وہ مہدی حسن، نورجہاں، نصرت فتح علی خان، طفیل نیازی، عالم لوہار اور عنایت حسین بھٹی جیسے نامور گلوکاروں کی نہ صرف نقل کرتے بلکہ انہی کے انداز میں دلنشیں گائیکی بھی پیش کرتے تھے۔

صرف آواز ہی نہیں، سازوں سے بھی ان کی خوب شناسائی تھی۔ طبلہ، ڈھولک اور ہارمونیم بجانے کی انہوں نے باقاعدہ تربیت حاصل کر رکھی تھی، جو ان کے فن کو مزید نکھار دیتی تھی۔

قسمت کو شاید یہ سفر منظور نہ تھا۔ 2009 کے بعد بیماریوں نے انہیں آہستہ آہستہ کمزور کر دیا۔ گینگرین کے باعث پاؤں کی انگلیاں کٹ گئیں، چلنا دشوار ہوگیا۔ علاج کے وعدے ہوتے رہے، مگر عملی مدد کہیں نظر نہ آئی۔ 16 اپریل 2011 کو قہقہوں کا یہ مسافر خاموشی سے رخصت ہو گیا۔

اکثر یہ اعتراض سننے کو ملتا ہے کہ معروف کامیڈینز خوب کماتے ہیں مگر اپنے آخری وقت کے لیے کچھ نہیں بچاتے لیکن یہ نقطۂ نظر ادھورا ہے۔ اسٹیج پر قہقہے بکھیرنے والا فنکار بھی ایک انسان ہوتا ہے، جس کے اپنے گھریلو اخراجات اور ذمہ داریاں ہوتی ہیں۔

مزید یہ کہ ماضی میں کئی فنکاروں کو معمولی معاوضے پر طویل عرصے کے لیے بک کر لیا جاتا تھا، جبکہ پروموٹرز بیرونِ ملک شوز سے بھاری منافع کماتے رہے اور فنکار مناسب معاوضے سے محروم رہے۔ ان تمام حقائق کے باوجود ذمہ داری کا بوجھ صرف فنکار پر ڈال دینا مناسب نہیں، حکومت کو بھی اپنا کردار ادا کرتے ہوئے ایسے نادر فنکاروں کی سرپرستی کا احساس دلانا چاہیے۔

مگر کہانی یہیں ختم نہیں ہوتی۔ ان کے جانے کے بعد ان کے اہلِ خانہ بھی آزمائشوں کی زد میں رہے۔ بیٹی کی زندگی مشکلات کا شکار ہوئی، جبکہ بیٹے نبیل برال نے مالی مدد کی اپیل کرکے معاشرے کی بے حسی کو کئی بار بے نقاب کیا۔ ببو برال اپنے پسماندگان میں دو بیوائیں، دو بیٹے اور دو بیٹیاں سوگوار چھوڑ گئے۔

ببو برال نے تیس برس تک سینکڑوں ڈراموں اور فلموں کے ذریعے لوگوں کو ہنسایا، اپنے دکھ چھپا کر دوسروں کے غم ہلکے کیے۔ مگر سوال اب بھی وہی ہے ۔ ۔ ۔ کیا ہم صرف فنکاروں سے ہنسی خریدنے کے عادی ہو چکے ہیں، یا کبھی ان کے دکھ بھی بانٹیں گے؟

کیونکہ سچ یہی ہے کچھ لوگ چلے ضرور جاتے ہیں، مگر ان کے بکھیرے ہوئے قہقہے، ایک خاموش سوال بن کر ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ایران کے ساتھ ڈیل ہو گئی تو ہو سکتا ہے میں اسلام آباد جاؤں، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ

پی ایس ایل 11: اسلام آباد یونائیٹڈ نے کراچی کنگز کو 8 وکٹوں سے شکست دیدی

امریکا کا شام سے فوجی انخلا مکمل، اڈے دمشق کے حوالے

اے آئی تصاویر کے ذریعے انشورنس فراڈ میں اضافہ، جعلی نقصان اور فرضی اشیا دکھائے جانے کا انکشاف

سابق کپتان قومی کرکٹ ٹیم عامر سہیل (ڈمی) کا ’وی ٹو‘ میں دلچسپ انٹرویو

ویڈیو

سابق کپتان قومی کرکٹ ٹیم عامر سہیل (ڈمی) کا ’وی ٹو‘ میں دلچسپ انٹرویو

فیلڈ مارشل کی جدوجہد: ایران میدان جنگ میں داخل، امریکا کے ساتھ اگلا مرحلہ کیا ہوگا؟

اسلام آباد امن مذاکرات نے پاکستان کو عروج بخشا، اگلا مرحلہ جلد منعقد ہوگا، عظمیٰ بخاری

کالم / تجزیہ

جب پاکستان ہے تو کیا غم ہے؟

محبت، کتابیں اور دستوئیفسکی کے ’بیچارے لوگ‘

ایران امریکا تصادم کس طرف جا رہا ہے؟