افغانستان میں قائم طالبان حکومت کے اقدامات خلاف شریعت، ملا ہیبت اللہ اخوندزادہ پر تنقید بھی جرم

جمعہ 17 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

افغانستان میں قائم طالبان کی حکومت کی پالیسیوں کی وجہ سے عالمی سطح پر اس پر تنقید ہو رہی ہے۔ ملا ہیبت اللہ اخوندزادہ خود کو امیر المومنین قرار دیتے ہیں، حالانکہ ان کی حکومت شریعت کے کسی بھی معیار کے مطابق جائز اسلامی حکومت نہیں۔

طالبان حکومت کے حوالے سے ایک رپورٹ کے مطابق 15 اگست 2021 کو طالبان نے افغانستان پر قبضہ کرتے ہوئے عبوری حکومت قائم کرنے کا اعلان کیا اور کہاکہ افغان روایات کے مطابق لویہ جرگہ منعقد کرکے باقاعدہ حکومت قائم کی جائے گی، لیکن نہ کوئی جرگہ ہوا اور نہ ہی عوامی بیعت لی گئی، بلکہ یکطرفہ طور پر اقتدار کو مستقل بنا کر ملا ہیبت اللہ اخوندزادہ کو امیر المومنین قرار دے دیا گیا۔ حالانکہ ان کی بیعت خود طالبان کے اندر بھی مکمل نہیں۔

مزید پڑھیں: دہشتگردی ختم کرنے کا دباؤ: افغان طالبان ٹی ٹی پی حمایت پر تقسیم؟

ایک ایسی حکومت جو بندوق کے زور پر قائم ہو، جس میں عوام کی رائے شامل نہ ہو، کسی صورت اسلامی امارت نہیں کہلا سکتی۔ یہ مذہب کے لبادے میں ایک مطلق العنان بادشاہت ہے جس میں تمام حقیقی طاقت قندھار میں مرتکز ہو چکی ہے اور ریاستی ڈھانچہ ایک شخصی نظام میں تبدیل ہو چکا ہے۔

اسلام میں خلافت اسلامیہ یا شرعی حکومت کے قیام کا واحد راستہ عوامی بیعت اور مشاورت ہے، نہ کہ غلبہ۔ سیدنا ابو بکرؓ کی خلافت اس کی واضح مثال ہے جہاں بیعت کے بغیر اقتدار قبول نہیں کیا گیا اور عوامی رضا کو بنیادی حیثیت دی گئی۔

انہوں نے واضح کیاکہ اگر عوام راضی نہ ہوں تو حکمرانی کا کوئی جواز نہیں۔ اس کے برعکس موجودہ نظام جبر، طاقت اور مسلط کردہ اقتدار پر قائم ہے۔

اسلامی فقہ بھی اس طرزِ حکمرانی کو رد کرتی ہے۔ امام ابن تیمیہؒ کے مطابق غاصب حکمران کی امامت اصولاً جائز نہیں، امام نوویؒ کے مطابق بیعت اور مشورے کے بغیر اقتدار ناجائز ہے، جبکہ ابن حجر عسقلانیؒ واضح کرتے ہیں کہ جو تلوار کے زور پر اقتدار حاصل کرے وہ امام نہیں بلکہ غاصب ہوتا ہے۔

یہ نظام مکمل جبر، خوف اور خاموشی پر قائم ہے۔ اقتدار طاقت کے ذریعے حاصل کیا گیا اور اسی کے ذریعے برقرار رکھا جا رہا ہے۔

عوام کی خاموشی رضامندی نہیں بلکہ خوف، دباؤ اور بقا کی مجبوری ہے۔ اختلاف رائے کو بغاوت قرار دیا جاتا ہے، تنقید کو جرم بنایا گیا ہے، حتیٰ کہ مذہبی حلقوں کے اندر بھی اختلاف کو دبایا جاتا ہے۔

افغانستان ایک کثیر النسلی ملک ہے جہاں پشتون 40 سے 45 فیصد، تاجک 25 سے 30 فیصد، ہزارہ 9 سے 15 فیصد اور ازبک و ترکمان 10 سے 13 فیصد ہیں، مگر طالبان کی رہبری شوریٰ جس کے قریباً 20 سے 25 ارکان ہیں، اس میں 85 سے 95 فیصد پشتون شامل ہیں۔

49 رکنی کابینہ میں صرف 2 تاجک، 2 ازبک، 2 بلوچ اور ایک نورستانی شامل ہیں، جبکہ ہزارہ برادری مکمل طور پر خارج ہے اور خواتین کی کوئی نمائندگی نہیں۔

85 فیصد سے زیادہ اہم وزارتیں پشتون قیادت کے پاس ہیں، جن میں داخلہ، دفاع، خزانہ اور انصاف جیسے کلیدی محکمے شامل ہیں۔ یہ واضح پشتون بالادستی اور اقتدار پر مکمل قبضہ ہے۔

قندھار شوریٰ میں اقلیتوں کی مکمل عدم موجودگی، کابینہ میں غیر پشتون کی محدود اور غیر مؤثر نمائندگی، اور سیکیورٹی اداروں پر مکمل پشتون کنٹرول اس بات کا ثبوت ہے کہ تاجک، ازبک، ہزارہ اور ترکمان قومیتوں کو مکمل طور پر اقتدار سے باہر رکھا گیا ہے۔ یہ قومی نمائندگی نہیں بلکہ ایک محدود نسلی و علاقائی گروہ کی اجارہ داری ہے۔

بدخشان میں طالبان کی جانب سے اسماعیلی مسلمانوں کو سنی اسلام قبول کرنے پر مالی مراعات، سیکیورٹی ضمانتیں اور سرکاری نوکریوں کی پیشکش اس بات کا ثبوت ہے کہ مذہب کو رضاکارانہ عقیدے کے بجائے ریاستی دباؤ کے ذریعے مسلط کیا جا رہا ہے۔

دھمکیوں، دباؤ اور مذہبی پولیس کے ذریعے تبدیلیٔ مذہب کروائی جا رہی ہے، جبکہ تعلیمی اداروں، مدارس اور مساجد کو بھی اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔

اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق 2025 کے ابتدائی مہینوں میں متعدد افراد کو زبردستی مسلک تبدیل کرنے پر مجبور کیا گیا، جو مذہبی آزادی کی واضح خلاف ورزی ہے۔

طالبان کی پالیسی کے تحت نہ صرف اسماعیلی بلکہ شیعہ طلبہ کو بھی حنفی مسلک اختیار کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے، اور انکار کی صورت میں انہیں جامعات سے نکالنے کی دھمکی دی گئی ہے۔ یہ جبری مذہبی یکسانیت ہے جس میں ریاست تعلیم، روزگار اور سیکیورٹی کو بطور دباؤ استعمال کر کے عقیدہ تبدیل کروانے کی کوشش کر رہی ہے، جو اسلامی اصولِ لا اکراہ فی الدین اور مذہبی آزادی کے منافی ہے۔

طالبان کے فوجداری ضابطے میں صرف حنفی مسلک کو درست قرار دے کر دیگر مسالک کو گمراہ کہنا اور ان کے پیروکاروں کو قانونی طور پر کم تر حیثیت دینا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ یہ نظام ایک مخصوص مذہبی تعبیر کو زبردستی نافذ کر رہا ہے۔

مذہبی اختلاف کو جرم اور بعض صورتوں میں قابلِ سزا قرار دینا واضح طور پر ایک جابرانہ اور نظریاتی کنٹرول پر مبنی ریاستی ڈھانچہ ہے۔

ملا ہیبت اللہ اخوندزادہ کی قیادت میں تنقید کو براہ راست جرم بنا دیا گیا ہے، جہاں طالبان پالیسیوں یا فیصلوں پر سوال اٹھانے کو شریعت کے خلاف قرار دے کر سزا دی جاتی ہے۔

2026 کے ضابطوں کے مطابق ناقدین کو بغاوت یا فساد کے زمرے میں ڈال کر قید، تشدد اور بعض صورتوں میں قتل تک کی اجازت دی گئی ہے۔

خواتین، کارکنان اور مخالفین کو دھمکیاں، ہراسانی اور تشدد کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جبکہ بیرونی عناصر یا مداخلت کار کا الزام لگا کر اندرونی اختلاف کو بھی کچلا جاتا ہے۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ نظام مکمل طور پر خوف، خاموشی اور جبر کے ذریعے قائم رکھا گیا ہے۔

عباس ستانکزئی، جو طالبان کے ایک سینیئر کمانڈر ہیں، نے خواتین کی تعلیم، آئین اور مشاورت کی ضرورت پر زور دیا اور نسبتاً معتدل مؤقف اختیار کیا، مگر اس پر انہیں شدید اندرونی دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔ 2025 میں انہوں نے لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی کو تنقید کا نشانہ بنایا تو قیادت نے ان کے خلاف کارروائی کی، انہیں محدود کیا گیا اور مبینہ طور پر گرفتاری کے احکامات بھی جاری کیے گئے، جو ظاہر کرتا ہے کہ طالبان نظام کے اندر بھی اختلاف رائے کی کوئی گنجائش نہیں۔

صرف یہی نہیں، عباس ستانکزئی کو مبینہ طور پر ہیبت اللہ اخوندزادہ کی قیادت میں گرفتاری کے احکامات اور سفری پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا، انہیں اپنے عہدے سے ہٹا دیا گیا اور بعد ازاں انہوں نے افغانستان چھوڑ دیا۔

وسیع پیمانے پر اطلاعات کے مطابق وہ اس وقت متحدہ عرب امارات میں عملاً جلاوطنی کی حالت میں مقیم ہیں اور طالبان کی فعال فیصلہ سازی سے باہر ہیں۔

یہ نظام الگ تھلگ اور بند دائرے میں چلنے والی حکمرانی کی مثال ہے۔ فیصلے قندھار میں ایک محدود حلقے میں کیے جاتے ہیں جبکہ عوام، میڈیا اور حتیٰ کہ ریاستی ادارے بھی اس عمل سے باہر ہیں۔

یہ ایک بند دائرے میں قائم طرزِ حکمرانی ہے جہاں حکمران عوام سے مکمل طور پر کٹا ہوا، غیر شفاف اور ہر قسم کی جوابدہی سے بالاتر ہے۔

طالبان حکمرانی صرف سیاسی نہیں بلکہ نظریاتی اور سماجی کنٹرول بھی ہے۔ قبائلی روایات کو سخت مذہبی تعبیر کے ساتھ ملا کر ایک ایسا نظام نافذ کیا گیا ہے جو خواتین کو تعلیم، روزگار اور عوامی زندگی سے باہر نکالتا ہے، اختلاف کو دباتا ہے اور جدید حکمرانی کو مسترد کرتا ہے۔ یہ قبائلی درجہ بندی اور سخت مذہبی تعبیر کو ریاستی طاقت کے طور پر استعمال کرنے کی مثال ہے۔

اسلام عدل و انصاف پر زور دیتا ہے جہاں قانون سب کے لیے برابر ہو، مگر موجودہ نظام میں مختلف طبقات کے لیے مختلف رویے اپنائے جاتے ہیں۔ ایک ہی جرم کے لیے مختلف سزائیں دی جاتی ہیں، جس سے واضح ہوتا ہے کہ قانون طاقتور کے تحفظ اور کمزور کے خلاف استعمال ہو رہا ہے۔ یہ اسلامی اصولِ مساوات اور عدل کی خلاف ورزی ہے۔

اس نظام میں نہ کوئی پارلیمان ہے، نہ آزاد عدلیہ اور نہ ہی آزاد میڈیا۔ تمام فیصلے ایک فرد اور اس کے محدود حلقے تک محدود ہیں۔ کوئی احتساب نہیں، کوئی شفافیت نہیں۔ اسلام میں حکمران جوابدہ ہوتا ہے، مگر یہاں حکمران خود کو قانون سے بالاتر سمجھتا ہے۔

طالبان اور ان کے حامی موجودہ صورتحال کو امن و استحکام قرار دیتے ہیں، مگر یہ دراصل قبرستان جیسا امن ہے۔ ایسا سکوت جو عوامی رضامندی کے بجائے خوف، جبر اور اختلاف رائے کی عدم موجودگی پر قائم ہے۔

اس طرح کی مطلق العنان حکمرانی اسلامی اصولِ حکمرانی سے بھی متصادم ہے، جہاں حکمران احتساب سے بالاتر نہیں ہوتا اور شہریوں کو پالیسیوں اور فیصلوں پر سوال اٹھانے کا حق حاصل ہوتا ہے۔ اختلاف اور مشاورت کو محدود کرنا اسلامی روایتِ شوریٰ اور ذمہ دار قیادت کے بنیادی اصولوں کو کمزور کرتا ہے۔

اقلیتیں خصوصاً ہزارہ برادری شدید سیاسی، سماجی اور مذہبی دباؤ کا شکار ہے۔ ہزارہ جو زیادہ تر شیعہ ہیں، نہ صرف سیاسی طور پر خارج ہیں بلکہ نسلی اور فرقہ وارانہ دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔

ان کے علاقوں، مساجد اور تعلیمی اداروں کو بارہا نشانہ بنایا گیا جبکہ ریاستی تحفظ کمزور ہے۔ تاجک اور ازبک برادری کو بھی صرف نمائشی کردار دیا گیا ہے۔

معیشت، تعلیم اور عوامی فلاح کے میدان میں یہ نظام ناکام ہے۔ غربت، بے روزگاری اور خوراک کا بحران بڑھ رہا ہے، جبکہ خواتین کی تعلیم پر پابندیاں اور جدید علوم کی مخالفت معاشرے کو پیچھے دھکیل رہی ہے۔

اسلام علم، ترقی اور فلاح کا دین ہے، مگر یہاں جمود اور پسماندگی کو فروغ دیا جا رہا ہے۔

مزید پڑھیں: افغان طالبان کی پروپیگنڈا مہم جاری، شہری علاقوں میں دہشتگردوں کو پناہ دینے لگے

مذہب کو اس نظام میں ایک سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ شریعت کو انصاف اور رہنمائی کے بجائے اقتدار کے تحفظ، کنٹرول اور اطاعت مسلط کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ یہ اسلام کی روح کے خلاف ہے جہاں دین رہنمائی اور عدل کا ذریعہ ہے، نہ کہ جبر کا۔

ان تمام حقائق کی روشنی میں یہ واضح ہوتا ہے کہ طالبان کی موجودہ امارات نہ شرعی اسلامی ریاست ہے اور نہ ہی نمائندہ حکومت، بلکہ ایک ایسا شخصی، جابرانہ بالادستی پر مبنی، عوام سے کٹا ہوا اور نظریاتی طور پر سخت اقتدار ہے جو شریعت کے نام پر دراصل ایک غاصبانہ بادشاہت کی شکل اختیار کر چکا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

آنگ سان سو چی کی سزا میں کمی، میانمار میں عام معافی کا اعلان

امریکا ایران مذاکرات میں ثالثی پاکستان کے لیے قابل فخر، دونوں ممالک کے درمیان چند نکات پر اتفاق ہونا باقی ہے، اسحاق ڈار

امریکا ایران مذاکرات کا فائنل راؤنڈ، اسلام آباد ایک بار پھر شاندار میزبانی کے لیے تیار

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اسلام آباد آمد متوقع، عوام کیا کہتے ہیں؟

وزیراعظم سے ترک صدر اور امیر قطر کی ملاقات، خطے میں امن کے لیے قریبی روابط پر اتفاق

ویڈیو

امریکا ایران مذاکرات کا فائنل راؤنڈ، اسلام آباد ایک بار پھر شاندار میزبانی کے لیے تیار

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اسلام آباد آمد متوقع، عوام کیا کہتے ہیں؟

ایران امریکا جنگ رکوانے کے لیے پاکستان کے 3 بڑوں نے کتنے ہزار کلومیٹر سفر کیا؟

کالم / تجزیہ

امریکا ایران مذاکرات: کیا ہونے جا رہا ہے؟

ہنساتے ببو برال کی اداس کہانی

جب پاکستان ہے تو کیا غم ہے؟