عرفان صدیقی نے آکسیجن لگی ہونے کے باوجود آخری کالم خود لکھا، عمران خاور صدیقی

منگل 2 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

مرحوم کالم نگار، شاعر اور مسلم لیگ (ن) کے سینیئر رہنما عرفان صدیقی کے صاحبزادے عمران خاور صدیقی نے کہا ہے کہ ان کے والد آخری ایام میں شدید علالت کے باوجود اپنے قارئین سے وابستگی اور صحافتی ذمہ داری نبھانے کے لیے کالم لکھنے پر مصر رہے، حتیٰ کہ اسپتال میں آکسیجن لگی ہونے کے باوجود انہوں نے اپنا آخری کالم خود تحریر کیا۔

وی نیوز کے پروگرام وی ایکسکلوسیو میں گفتگو کرتے ہوئے عمران خاور صدیقی نے اپنے والد کی تدریسی، صحافتی اور سیاسی زندگی پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ان کے عرفان صدیقی نے طویل عرصہ تدریس کے شعبے میں خدمات انجام دیں اور سرسید کالج میں قریباً 25 سال گزارے، جہاں ہزاروں طلبہ نے ان سے علم حاصل کیا۔

مزید پڑھیں: عرفان صدیقی بہترین انسان اور اصولی سیاست کے علمبردار تھے، وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ

انہوں نے بتایا کہ عرفان صدیقی صحافت میں بطور کالم نگار ایک منفرد مقام رکھتے تھے اور ان کے کالم وسیع پیمانے پر پڑھے جاتے تھے، خصوصاً افغانستان اور خطے کی صورتحال پر ان کی تحریروں کو خاص توجہ حاصل رہی۔

عمران خاور صدیقی کے مطابق عرفان صدیقی کی مسلم لیگ (ن) سے وابستگی محض سیاسی نہیں بلکہ نظریاتی تھی، جبکہ سابق وزیراعظم نواز شریف کے ساتھ ان کے تعلقات بھی انتہائی قریبی تھے، اور یہ جنرل مشرف کے دور میں اس وقت زیادہ مضبوط ہوئے جب نواز شریف جدہ میں مقیم تھے۔

انہوں نے بتایا کہ عرفان صدیقی کی بیماری کے دوران نواز شریف خود ان کی عیادت کے لیے اسپتال پہنچے، حالانکہ وہ اپنی سرجری کے بعد صحت یابی کے مرحلے سے گزر رہے تھے۔ ان کے مطابق یہ دونوں شخصیات کی آخری ملاقات تھی، جو اکتوبر کے آخری ہفتے میں ہوئی، جبکہ عرفان صدیقی کا انتقال 10 نومبر کو ہوا۔

عمران خاور صدیقی نے کہاکہ نواز شریف کی جانب سے عرفان صدیقی کو صبح کے وقت باقاعدگی سے پیغامات موصول ہوتے تھے اور دونوں کے درمیان قریبی رابطہ آخری وقت تک برقرار رہا۔

انہوں نے عرفان صدیقی کی پیشہ ورانہ وابستگی کا ایک واقعہ بیان کرتے ہوئے کہاکہ وفات سے چند روز قبل وہ اسپتال میں زیر علاج تھے، طبیعت انتہائی ناساز تھی اور آکسیجن بھی لگی ہوئی تھی، مگر انہوں نے اپنے ہفتہ وار کالم کی تیاری ترک نہیں کی۔ ان کے مطابق والد نے کہاکہ قارئین ہر ہفتے کالم کے منتظر ہوتے ہیں، اس لیے اسے چھوڑا نہیں جا سکتا۔

عمران خاور صدیقی نے بتایا کہ انہوں نے والد کو مشورہ دیا تھا کہ وہ کالم ڈکٹیٹ کر دیں مگر عرفان صدیقی نے مسکراتے ہوئے انکار کیا کیونکہ وہ ہمیشہ اپنے ہاتھ سے لکھنے کے عادی تھے۔

ان کے مطابق عرفان صدیقی نے 2 نومبر کو اسپتال میں اپنا آخری کالم خود تحریر کیا، جو 4 نومبر کو شائع ہوا، تاہم اگلے ہفتے وہ اس دنیا میں نہیں رہے۔

اپنے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے عمران خاور صدیقی نے کہا کہ اگرچہ ان کا بنیادی شعبہ بینکاری ہے اور انہوں نے 25 سال سے زیادہ عرصہ کارپوریٹ بینکنگ میں گزارا، جس میں 17 سے 18 سال متحدہ عرب امارات اور خلیجی ممالک میں کام کیا، تاہم والد کے مشورے پر وہ پاکستان واپس آئے۔

انہوں نے بتایا کہ واپس آ کر پہلے بورڈ آف انویسٹمنٹ کے ساتھ کام کیا، بعد ازاں پنجاب حکومت میں وزیراعلیٰ پنجاب کے مشیر کی ذمہ داریاں سنبھالیں، جہاں وہ سرمایہ کاری اور اس سے متعلق امور دیکھ رہے ہیں۔

عمران خاور صدیقی کے مطابق پنجاب میں ’گلوبل انویسٹمنٹ گیٹ وے‘ کے نام سے ایک جدید پلیٹ فارم پر کام جاری ہے، جس کا مقصد سرمایہ کاروں کو پاکستان اور بیرون ملک سے راغب کرنا، انہیں مکمل سہولت فراہم کرنا اور کاروبار شروع کرنے کے مراحل کو تیز کرنا ہے۔

انہوں نے کہاکہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا وژن واضح ہے اور وہ فیصلوں پر عملدرآمد کو یقینی بنانے پر خاص توجہ دیتی ہیں۔ پنجاب میں سرمایہ کاری، صفائی اور دیگر شعبوں میں جدید اور فعال نظام متعارف کرانے کی کوششیں جاری ہیں۔

بلوچستان کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے عمران خاور صدیقی نے کہا کہ وہاں بدامنی میں بیرونی مداخلت ایک بڑا عنصر ہے اور بعض تنظیمیں دشمن ممالک کی معاونت سے سرگرم ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی حالیہ سفارتی کوششوں اور عالمی سطح پر بہتر ہوتے امیج سے اس حوالے سے مثبت نتائج سامنے آنا شروع ہوئے ہیں۔

خیبر پختونخوا کی سیاسی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہاں حکومتی ترجیحات گورننس کے بجائے ایک شخصیت کے گرد گھومتی نظر آتی ہیں، جس سے ترقیاتی عمل متاثر ہوا ہے۔

مزید پڑھیں: عرفان صدیقی کی وفات پر اپنا دکھ بیان نہیں کر سکتا، نواز شریف کے مرحوم سینیٹر کے گھر آمد، اہل خانہ سے تعزیت

وفاقی حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے تعلقات کے حوالے سے عمران خاور صدیقی کا کہنا تھا کہ موجودہ سیٹ اپ میں ہم آہنگی پائی جاتی ہے اور وزیراعظم شہباز شریف اور عسکری قیادت کے درمیان بہتر کوآرڈینیشن کے باعث سفارتی اور معاشی محاذ پر پیش رفت ہوئی ہے۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ مستقبل قریب میں معاشی صورتحال مزید بہتر ہوگی اور عام آدمی کو ریلیف ملے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp