یوکرین کے دارالحکومت کیف میں ہفتے کے روز ایک مسلح شخص نے گلیوں میں اندھا دھند فائرنگ کر کے کم از کم 6 افراد کو ہلاک کر دیا، جس کے بعد پولیس نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے حملہ آور کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔
حکام کے مطابق ملزم نے فائرنگ کے بعد قریبی سپر مارکیٹ میں گھس کر لوگوں کو یرغمال بنا لیا تھا اور خود کو وہاں محصور کر لیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: ماسکو میں مغربی پابندیوں کے شکار روسی انٹیلیجنس عہدیدار فائرنگ سے زخمی
یوکرین کے وزیر داخلہ ایہور کلیمینکو نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں بتایا کہ پولیس کے خصوصی یونٹس نے اس وقت اسٹور پر دھاوا بولا جب مذاکرات کار کے ذریعے ملزم سے رابطہ کرنے کی تمام کوششیں ناکام ہو گئیں۔
وزیر داخلہ کے مطابق حملہ آور نے گرفتاری کے خلاف مزاحمت کی جس پر پولیس نے اسے گولی مار کر ہلاک کر دیا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ ملزم نے پہلے سڑک پر چار راہگیروں کو قتل کیا، پھر سپر مارکیٹ میں داخل ہو کر پانچویں شخص کی جان لی، جبکہ میئر وٹالی کلِٹسکو کے مطابق ایک زخمی نوجوان خاتون نے اسپتال میں دم توڑ دیا، جس سے مرنے والوں کی مجموعی تعداد 6 ہو گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: روس اور یوکرین کے درمیان ایسٹر کے موقع پر عارضی جنگ بندی نافذالعمل ہوگئی
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ملزم کے پاس ایک قانونی طور پر رجسٹرڈ کاربین رائفل تھی اور اس نے دسمبر 2025 میں ہی اپنے اسلحہ لائسنس کی تجدید کے لیے طبی سرٹیفکیٹ سمیت تمام دستاویزات جمع کرائی تھیں۔
پولیس نے تقریباً 40 منٹ تک ملزم کو ہتھیار ڈالنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کی اور زخمیوں کے لیے طبی امداد کی پیشکش بھی کی، لیکن اس کی جانب سے کوئی جواب نہ ملنے پر اسے ختم کرنے کا حکم دیا گیا۔
واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج میں پولیس اہلکاروں کو شاپنگ مال میں پوزیشن لیتے ہوئے اور شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے، جبکہ واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔












