مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاروں اور فوج کی جانب سے مبینہ جنسی تشدد اور دیگر زیادتیوں کے باعث فلسطینیوں کی نقل مکانی میں اضافہ ہو رہا ہے، ایک نئی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے۔
الجزیرہ کے مطابق ایک غیر سرکاری تنظیم کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی آبادکاروں اور فوجیوں کی جانب سے کم از کم 16 ایسے واقعات سامنے آئے ہیں جن میں تنازع سے متعلق جنسی تشدد شامل ہے، اور یہ صورتحال فلسطینی آبادی کو اپنے گھروں سے نکلنے پر مجبور کر رہی ہے۔
The Norwegian Refugee Council (NRC) revealed that sexual violence and related forms of humiliation are being used by Israeli forces and settlers in the West Bank as a form of pressure to push Palestinians to leave their homes.
These practices, along with other factors,… pic.twitter.com/EsKtd0UtMp
— Quds News Network (@QudsNen) April 21, 2026
ویسٹ بینک پروٹیکشن کنسورشیم کی تیار کردہ رپورٹ کے مطابق جنسی نوعیت کی ہراسانی، دھمکیاں اور تذلیل کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے، جبکہ اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے کیونکہ بہت سے کیسز رپورٹ ہی نہیں ہوتے۔ محققین کے مطابق ایسے واقعات کا مقصد کمیونٹیز پر دباؤ ڈالنا اور ان کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرنا ہے تاکہ وہ اپنے علاقے چھوڑ دیں۔
یہ بھی پڑھیں:برطانوی جامعات میں طلبہ کی خفیہ نگرانی کا انکشاف، فلسطین کے حق میں بولنے والے نشانہ بننے لگے
تحقیق کے دوران 10 مختلف علاقوں سے 83 فلسطینیوں کے انٹرویوز کیے گئے، جن میں 70 فیصد سے زائد افراد نے بتایا کہ خواتین اور بچوں کو لاحق خطرات، خاص طور پر جنسی تشدد، ان کے نقل مکانی کے فیصلے کی بڑی وجہ بنے۔ اس صورتحال کے باعث خاندان خواتین اور بچوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے یا کم عمری کی شادی جیسے اقدامات پر مجبور ہو رہے ہیں۔
متاثرین نے بتایا کہ انہیں جنسی نوعیت کی گالیاں، دھمکیاں، برہنہ کرنے، تشدد اور نجی مقامات کی نگرانی جیسے واقعات کا سامنا کرنا پڑا۔ بعض کیسز میں حملہ آوروں نے ان زیادتیوں کی ویڈیوز بنا کر شیئر بھی کیں، جبکہ موجود اسرائیلی فوجیوں نے ان واقعات کو روکنے یا تحقیقات کرنے میں ناکامی دکھائی۔

دوسری جانب انسانی حقوق کی تنظیموں نے حالیہ اس فیصلے پر بھی شدید تنقید کی ہے جس کے تحت ایسے اسرائیلی فوجیوں کو دوبارہ ڈیوٹی پر بحال کیا گیا جن پر ایک فلسطینی قیدی کے ساتھ جنسی زیادتی کے الزامات تھے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات نہ صرف انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہیں بلکہ خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا رہے ہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی اور مذاکرات نے پورے خطے کو غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر رکھا ہے۔












