برطانوی جامعات میں طلبہ کی خفیہ نگرانی کا انکشاف، فلسطین کے حق میں بولنے والے نشانہ بننے لگے

بدھ 22 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

برطانیہ کی جامعات میں فلسطین کے حق میں آواز اٹھانے والے طلبہ اور اساتذہ کی نگرانی کا انکشاف ہوا ہے، جہاں ایک نجی سکیورٹی کمپنی کو لاکھوں پاؤنڈ ادا کرکے سوشل میڈیا کی نگرانی اور خفیہ جانچ پڑتال کرائی گئی۔ اس پیش رفت نے تعلیمی آزادی، پرائیویسی اور قانونی حدود سے متعلق سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

’الجزیرہ‘ انگلش اور لبرٹی انویسٹیگیٹس کی مشترکہ تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ برطانیہ کی 12 جامعات نے ایک نجی سکیورٹی کمپنی کو طلبہ مظاہرین اور اساتذہ، خصوصاً فلسطین کے حامی افراد، کی نگرانی کے لیے خدمات حاصل کیں۔ یہ انکشاف سامنے آیا ہے۔

تحقیقات کے مطابق ہورس سکیورٹی کنسلٹنسی لمیٹڈ نامی کمپنی، جسے سابق فوجی انٹیلی جنس افسران چلاتے ہیں، نے طلبہ کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی نگرانی کی اور بعض کیسز میں خفیہ طور پر انسداد دہشتگردی کے خطرات کا جائزہ بھی لیا۔

یہ بھی پڑھیے برطانیہ کی ’فلسطین ایکشن گروپ‘ پر پابندی غیر قانونی قرار

رپورٹ کے مطابق 2022 سے اب تک اس کمپنی کو جامعات کی جانب سے کم از کم 4 لاکھ 40 ہزار پاؤنڈ (تقریباً 5 لاکھ 94 ہزار ڈالر) ادا کیے گئے۔ نگرانی کی زد میں آنے والوں میں مانچسٹر میٹروپولیٹن یونیورسٹی میں مدعو ایک فلسطینی اسکالر اور لندن اسکول آف اکنامکس کے ایک پی ایچ ڈی طالب علم شامل تھے، جو غزہ کے حق میں سرگرم تھے۔

اکتوبر 2024 میں یونیورسٹی آف برسٹل نے اس کمپنی کو طلبہ کے ان احتجاجی گروپوں کی فہرست فراہم کی جن پر وہ نظر رکھنا چاہتی تھی، جس میں فلسطین کے حامی اور جانوروں کے حقوق کے کارکن شامل تھے۔

دیگر جامعات میں یونیورسٹی آف آکسفورڈ، امپیریل کالج لندن، یونیورسٹی کالج لندن، کنگز کالج لندن، یونیورسٹی آف شیفیلڈ، یونیورسٹی آف لیسٹر، یونیورسٹی آف ناٹنگھم اور کارڈف میٹروپولیٹن یونیورسٹی شامل ہیں۔

اگرچہ اس سرگرمی کو غیر قانونی قرار نہیں دیا گیا، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سے تعلیمی آزادی اور طلبہ کے بنیادی حقوق متاثر ہو سکتے ہیں۔

نگرانی اور ڈیٹا کا استعمال

کمپنی کی جانب سے ’انسائٹ‘ نامی سروس کے تحت اوپن سورس انٹیلی جنس رپورٹس تیار کی جاتی ہیں، جس میں انٹرنیٹ سے بڑی مقدار میں ڈیٹا اکٹھا کیا جاتا ہے۔ کمپنی 2022 سے مصنوعی ذہانت (AI) کا استعمال بھی کر رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیے آئرش مصنفہ سیلی رونی کا برطانیہ میں فلسطین ایکشن سے منسلک قیدیوں کی مبینہ بدسلوکی پر اظہارِ تشویش

اقوام متحدہ کی نمائندہ جینا رومیرو نے خبردار کیا کہ طلبہ کے ڈیٹا کو AI کے ذریعے جمع اور تجزیہ کرنا سنگین قانونی خدشات کو جنم دیتا ہے اور اس سے نجی معلومات کے غلط استعمال کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

طلبہ اور اساتذہ کی نگرانی کے واقعات

تحقیق کے مطابق لزّی ہوبز نامی پی ایچ ڈی طالبہ کی سوشل میڈیا پوسٹس کو یونیورسٹی کو رپورٹ کیا گیا، جو غزہ کے حق میں احتجاجی کیمپ کا حصہ تھیں۔ انہیں اس نگرانی کا علم اس وقت ہوا جب صحافیوں نے ان سے رابطہ کیا۔

اسی طرح فلسطینی نژاد امریکی اسکالر رباب عبدالہادی پر 2023 میں ایک لیکچر سے قبل خفیہ ’خطرے کا جائزہ‘ لیا گیا، جس میں ان کے سوشل میڈیا اور ماضی کے الزامات کا جائزہ شامل تھا، حالانکہ وہ الزامات بعد میں بے بنیاد قرار دیے جا چکے تھے۔

برطانیہ میں 2015 کے انسداد دہشتگردی قانون کے تحت جامعات کو مقررین کے خیالات کا جائزہ لینے کی ذمہ داری دی گئی ہے، تاہم انسانی حقوق کی تنظیمیں اس پروگرام کو مسلمانوں اور فلسطین کے حامیوں کے خلاف امتیازی قرار دیتی رہی ہیں۔

یونیورسٹی اینڈ کالج یونین (UCU) کی سربراہ جو گریڈی نے کہا کہ یہ انتہائی شرمناک ہے کہ جامعات نے اپنے ہی طلبہ کی نگرانی پر لاکھوں پاؤنڈ خرچ کیے۔

بڑھتی ہوئی تشویش

اقوام متحدہ کی نمائندہ جینا رومیرو کے مطابق اس طرح کی نگرانی نے طلبہ میں خوف کی فضا پیدا کر دی ہے، جس کے باعث کئی افراد ذہنی دباؤ اور تھکن کا شکار ہو کر سرگرمیوں سے کنارہ کش ہو رہے ہیں۔

دوسری جانب کمپنی کے ایک سینئر عہدیدار ٹم کولنز نے مغربی ممالک میں غزہ کے حق میں بڑھتے مظاہروں کو روس اور ایران کی میڈیا مہم کا نتیجہ قرار دیا، جبکہ انہوں نے غیر ملکی مظاہرین کی ملک بدری کا بھی مطالبہ کیا۔

کمپنی نے الزامات پر بارہا رابطے کے باوجود کوئی جواب نہیں دیا، تاہم اپنی ویب سائٹ پر اس کا کہنا ہے کہ وہ تمام سرگرمیاں قانونی اور شفاف طریقے سے انجام دیتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ایران کے خلاف ممکنہ جنگ میں جوہری ہتھیار استعمال کرنے کا کوئی ارادہ نہیں، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ

اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی میں 3 ہفتوں کی توسیع، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا اعلان

امریکا نے اپنا بحری بیڑا ’جارج بش‘ بحیرہ ہند میں اتار دیا

بنگلہ دیشی بارڈر گارڈز کی اسمگلنگ کے خلاف بڑی کارروائی، 84 لاکھ ٹکا مالیت کی بھارتی ساڑیاں برآمد

سکھ رہنماؤں کو بھارتی دھمکیاں، سکھ فار جسٹس نے بھارتی سفارتکار کی مبینہ آڈیو لیک کردی

ویڈیو

سعودی عرب سے 3 بلین ڈالرز ملنے پر پاکستانی کیا کہتے ہیں؟

خیبر پختونخوا: دہشتگردی کے واقعات میں کمی، پشاور کے شہری کیا کہتے ہیں؟

پہلگام حملہ: کیا یہ خود ساختہ منصوبہ تھا؟

کالم / تجزیہ

عالمی دن پر کتاب سے مکالمہ

جنگ اور جنگ بندی کے مابین مرتب کیے 9 نتائج

لاہور پر ’مغل اعظم‘ کی یلغار