حکومتِ پاکستان میں سرکاری افسران اور سفارتکاروں کی دوہری شہریت سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں نئے قواعد و ضوابط کا مسودہ وزیراعظم کو پیش کر دیا گیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے سیکریٹریز کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں مجوزہ رولز تیار کیے ہیں، جن میں سروس رولز میں نمایاں ترامیم تجویز کی گئی ہیں۔
مجوزہ قواعد کے تحت تمام سرکاری ملازمین کو 3 ماہ کے اندر اپنی اور اپنے اہل خانہ کی دوہری شہریت یا گرین کارڈ کی تفصیلات ظاہر کرنا لازمی ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: بیوروکریٹس کو بھی دوہری شہریت رکھنے سے روکا جائے، نور عالم خان
اس سلسلے میں باضابطہ ڈیکلیئریشن جمع کرانا ہوگا، جبکہ خلاف ورزی کی صورت میں سخت کارروائی کی جا سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق نئے رولز میں یہ تجویز بھی شامل ہے کہ جو سرکاری ملازمین پہلے سے دوہری شہریت رکھتے ہیں، انہیں اسے برقرار رکھنے کی اجازت دی جائے۔
تاہم مستقبل میں نئی شہریت حاصل کرنے سے قبل حکومت سے پیشگی اجازت لینا لازمی ہوگا۔
دوسری جانب بیرون ملک تعینات پاکستانی سفارتکاروں کے لیے دوہری شہریت پر مکمل پابندی عائد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
مزید پڑھیں: وزارت داخلہ کا اسپینش ریزیڈنٹ کارڈ کے حوالے سے شہریوں کو مکمل سہولیات فراہم کرنے کا فیصلہ
مجوزہ ترامیم کے مطابق دورانِ سروس تمام سفیروں کو اپنی دوہری شہریت ترک کرنا ہوگی، جبکہ ریٹائرمنٹ کے بعد انہیں دوبارہ دوہری شہریت رکھنے کی اجازت ہوگی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے سیکریٹری نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ اعلیٰ سطح کے افسران کی دوہری شہریت پر مکمل پابندی ہونی چاہیے تاکہ ریاستی مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
مجوزہ قواعد کی منظوری کے بعد سفارتکاروں کے لیے دوہری شہریت مکمل طور پر ختم کیے جانے کا امکان ہے، جس سے سرکاری سروس اسٹرکچر میں شفافیت اور جوابدہی کو مزید مضبوط بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔














