بنگلہ دیش کے وزیر اعظم طارق رحمان نے اعلان کیا ہے کہ ملکی و غیرملکی سرمایہ کاری میں اضافے کے لیے اہم اداروں کے اشتراک سے 180 روزہ ایکشن پلان تیار کر لیا گیا ہے، جس کا مقصد معیشت کی بنیادوں کو مزید مضبوط بنانا ہے۔
بدھ کے روز جاتیہ سنگساد (پارلیمنٹ) میں سوال و جواب کے سیشن کے دوران خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے بتایا کہ اس قلیل مدتی منصوبے کا محور انتظامی، ادارہ جاتی اور بنیادی ڈھانچے میں اصلاحات کے ذریعے کاروباری ماحول کو بہتر بنانا ہے۔
ان کے مطابق یہ روڈ میپ بنگلہ دیش انویسٹمنٹ ڈیولپمنٹ اتھارٹی، بنگلہ دیش اکنامک زونز اتھارٹی، پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اتھارٹی اور مہیش کھالی انٹیگریٹڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی نے مشترکہ طور پر تیار کیا ہے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ اس منصوبے کے بنیادی مقاصد میں مقامی کاروبار کے فروغ میں مدد، روزگار کے مواقع پیدا کرنا، سرمایہ کاروں کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنا، لاجسٹکس نظام کو بہتر بنانا اور سرکاری خدمات کو آسان بنانا شامل ہے۔
انہوں نے بتایا کہ منصوبے میں 3 بڑے ستونوں کے تحت 25 ترجیحی اقدامات شامل کیے گئے ہیں۔
انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ (50 فیصد)
اس شعبے میں بندرگاہوں کی جدید کاری، درآمدات و برآمدات کی رفتار تیز کرنے، کارگو کلیئرنس کے وقت میں کمی اور لاجسٹکس اخراجات کم کرنے جیسے اقدامات شامل ہیں۔ اس کے علاوہ اقتصادی زونز کی تیز رفتار ترقی، 50 سے زائد صنعتی پلاٹس کی تیاری اور توانائی کے متبادل منصوبوں کو فروغ دینے کی منصوبہ بندی بھی کی گئی ہے تاکہ توانائی کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔
سرمایہ کاری میں سہولت (30 فیصد)
اس حصے میں ادارہ جاتی اصلاحات، سرمایہ کاری خدمات کو آسان بنانا اور پالیسی سپورٹ کو مضبوط کرنا شامل ہے۔ اس کے تحت متعلقہ اداروں کے درمیان ہم آہنگی، وزیر اعظم اور نجی شعبے کے درمیان مشاورت، جنوبی کوریا کے ساتھ فری ٹریڈ معاہدے کی پیش رفت اور چین میں بنگلہ دیش انویسٹمنٹ ڈیولپمنٹ اتھارٹی کا دفتر قائم کرنا شامل ہے۔
مزید برآں ’بنگلا بز‘ کے نام سے ڈیجیٹل ون ونڈو پلیٹ فارم کو وسعت دی جائے گی تاکہ لائسنس، اجازت نامے اور سرمایہ کاری سے متعلق خدمات کو مزید آسان بنایا جا سکے۔
سرمایہ کاری کا فروغ (20 فیصد)
حکومت ڈیڑھ ارب ڈالر سے زائد مالیت کے سرمایہ کاری منصوبوں کی لائن تیار کرے گی، بلیو اکانومی کو فروغ دے گی، ملک گیر صنعتی نقشہ سازی کرے گی اور غیرملکی براہ راست سرمایہ کاری کے لیے 1.25 فیصد مراعاتی اسکیم متعارف کرائے گی۔
وزیر اعظم نے کہا کہ یہ منصوبہ روزگار کے مواقع بڑھانے، صنعتی ترقی کو تیز کرنے، حکومتی خدمات کو بہتر بنانے، لاجسٹکس کی کارکردگی میں اضافہ کرنے اور طویل مدتی معاشی ترقی میں مددگار ثابت ہوگا۔
ایک الگ پارلیمانی جواب میں انہوں نے بتایا کہ اس وقت بنگلہ دیش ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز اتھارٹی کے تحت آٹھ ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز فعال ہیں، جبکہ جیسور اور پٹوکھالی میں نئے زونز کی تیاری جاری ہے۔














