بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے ایران اور امریکا کے درمیان طے پانے والے عبوری امن معاہدے کا خیرمقدم کیا ہے۔
تاہم ادارے نے توانائی بحران کے قومی معیشتوں پر پڑنے والے بالواسطہ اثرات کے حوالے سے اپنی تشویش برقرار رکھتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ صورتحال اب بھی غیر یقینی ہے اور تنازع دوبارہ بھڑکنے کا امکان موجود ہے۔
آئی ایم ایف کی مینجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جورجیوا نے پیر کو ادارے کےاپنے بلاگ میں لکھا کہ بہت کچھ توانائی بحران کی مدت اور شدت پر منحصر ہے، جتنا جلد یہ بحران ختم ہوگا اتنا ہی بہتر ہوگا، خصوصاً اس لیے کہ بنیادی ڈھانچے کو پہنچنے والے بڑے نقصانات کے باعث توانائی کی فراہمی کی مکمل بحالی میں وقت لگے گا۔
یہ بھی پڑھیں: آئی ایم ایف نے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں بجلی سبسڈی کی اجازت دے دی
’اتوار کو جنگ بندی کے اعلان کا خیرمقدم کیا جانا چاہیے، تاہم اگر تنازع یا رسد میں رکاوٹیں دوبارہ بڑھتی ہیں تو یہ عالمی اقتصادی ترقی کے لیے واضح خطرہ ہوگا۔‘
انہوں نے موجودہ ’مسلسل غیر یقینی صورتحال‘ کے پیش نظر مالیاتی اور مانیٹری حکام پر زور دیا کہ وہ افراطِ زر کو قابو میں رکھنے اور مالیاتی توازن برقرار رکھنے کے لیے نظم و ضبط اور لچک کا مظاہرہ کریں۔
ان کے مطابق ایسے مخصوص اور عارضی اقدامات کیے جانے چاہییں جو سرکاری مالیات کو نقصان نہ پہنچائیں۔
So far, the global economy is holding up despite war, but this masks significant differences across countries and regions. Energy importers and countries with limited policy space are most vulnerable. See my latest blog. https://t.co/AXdzNq99lh pic.twitter.com/TZrjiFLETb
— Kristalina Georgieva (@KGeorgieva) June 15, 2026
ایرانی اور امریکی حکام نے 3 ماہ سے زائد عرصے سے جاری تنازع کے خاتمے کے لیے ایک عبوری معاہدہ کیا، جس کے نتیجے میں آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی بھی ختم ہوگئی۔
اس ناکہ بندی کے باعث عالمی تیل منڈی شدید دباؤ کا شکار رہی تھی۔
تاہم آئی ایم ایف نے خبردار کیا ہے کہ اس معاہدے کے باوجود آنے والے مہینوں میں عالمی معیشت کو منفی اثرات کا سامنا رہے گا۔
مزید پڑھیں: حکومت پاکستان کی اصلاحات کے مثبت نتائج ظاہرہونا شروع ہوگئے، منیجنگ ڈائریکٹر آئی ایم ایف کا اعتراف
فنڈ کا کہنا ہے کہ یہ بحران مختلف ممالک پر یکساں اثرات مرتب نہیں کرے گا، اگرچہ بیشتر ممالک اب تک اس کے شدید ترین اثرات کو محدود رکھنے میں کامیاب رہے ہیں۔
آئی ایم ایف کے مطابق تیل کی قیمتیں اب بھی تنازع سے پہلے کی سطح سے بلند ہیں، اگرچہ دنیا کی 2 بڑی معیشتیں، امریکا اور چین ذخائر کے استعمال اور امریکا میں پیداوار بڑھانے جیسے اقدامات کے باعث اپنی معاشی مضبوطی برقرار رکھنے میں کامیاب رہی ہیں۔
دوسری جانب توانائی کی قیمتوں میں اضافے نے متعدد معیشتوں میں افراطِ زر کو بڑھا دیا ہے، جیسا کہ امریکا اور یورپی یونین کے رکن ممالک میں دیکھا گیا۔
مزید پڑھیں: سرکاری ملازمین کے لیے بُری خبر، حکومت نے آئی ایم ایف کا اہم مطالبہ مان لیا
آئی ایم ایف نے اس بات پر بھی زور دیا کہ حکومتیں گھریلو صارفین اور کاروباری اداروں کی قوتِ خرید میں کمی کے خطرات پر گہری نظر رکھیں۔
کرسٹالینا جورجیوا کے مطابق یہ اطمینان بخش ہے کہ عالمی معیشت اب تک اس بحران کا مقابلہ کرنے میں کامیاب رہی ہے، لیکن اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ خطرات ٹل گئے ہیں، آئی ایم ایف مسلسل ہائی الرٹ پر ہے۔
’ہم اس معاشی نقصان سے بھی بخوبی آگاہ ہیں جس کا سامنا ہمارے بعض رکن ممالک پہلے ہی کر رہے ہیں، ہم ان کے ساتھ مل کر بحران کے انتظام اور اس کے منفی اثرات، خصوصاً کمزور طبقات پر پڑنے والے اثرات، کو محدود کرنے کے لیے کام جاری رکھیں گے۔‘














