ڈاکٹر بننے اور بیرون ملک جانے کی خواہش کبھی کبھی انسان کو ایسے راستے پر لے جاتی ہے جہاں واپسی مشکل ہو جاتی ہے۔
کچھ ایسا ہی واقعہ کوئٹہ میں پیش آیا، جہاں ایک میڈیکل کی طالبہ نے اپنے خواب کی تکمیل کے لیے ایسا قدم اٹھایا جس نے اسے سیدھا حوالات پہنچا دیا۔
پولیس کے مطابق 15 اپریل کو مشرقی بائی پاس کے رہائشی محب اللہ نے تھانہ خالق شہید میں رپورٹ درج کرائی کہ ان کا 4 سالہ بیٹا مزمل احمد گھر کے باہر کھیلتے ہوئے اچانک لاپتا ہو گیا۔
یہ بھی پڑھیں: گوادریونیورسٹی کے وائس چانسلر کا ڈرائیور کوئٹہ سے اغوا، تاوان طلب
واقعہ نے اہلِ خانہ کو شدید پریشانی میں مبتلا کر دیا، جبکہ پولیس نے فوری طور پر مقدمہ درج کر کے کیس سیریس کرائم انوسٹی گیشن ونگ کے حوالے کر دیا۔
ایس ایس پی اصغر عثمان ملک کی ہدایت پر ایس پی علی رضا اور ایس پی عبدالستار اچکزئی کی سربراہی میں خصوصی ٹیم تشکیل دی گئی۔
جدید ٹیکنالوجی اور مسلسل محنت کے بعد ٹیم نے اغوا کاروں کا سراغ لگا لیا۔
مزید پڑھیں: کوئٹہ میں داعش سے منسلک اغوا کار گروہ کے خلاف بڑی کارروائی، 2 دہشتگرد ہلاک
جمعہ اور ہفتے کی درمیانی شب پولیس نے مشرقی بائی پاس کی ایک نجی ہاؤسنگ اسکیم میں چھاپہ مارا، جہاں ایک گھر کے کمرے میں بیڈ کے نیچے سے ننھے مزمل احمد کو بحفاظت بازیاب کرا لیا گیا۔
اس دوران ایک نوجوان لڑکی کو گرفتار کر لیا گیا، جو کوئی اور نہیں بلکہ بچے کی اپنی خالہ نکلی۔
ابتدائی تفتیش میں ملزمہ نے حیران کن انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ اس نے پری میڈیکل میں انٹر کیا ہے اور ڈاکٹر بننے کے لیے بیرون ملک جانا چاہتی تھی۔
مزید پڑھیں: کوئٹہ: پکنک پوائنٹ سے پنجاب کے 10 افراد اغوا
مگر مالی مشکلات کے باعث اس کے والدین اس کی مدد نہیں کر پا رہے تھے، اپنے خواب کو حقیقت بنانے کے لیے اس نے اپنی ہی کزن کے بیٹے کو اغوا کرنے کا منصوبہ بنایا۔
ملزمہ کے مطابق اس نے بچے کو مٹھائی کا لالچ دے کر اپنے ساتھ لے جا کر گھر کے ایک الگ کمرے میں چھپا دیا، جبکہ گھر کے دیگر افراد کو اس بات کا علم تک نہیں تھا۔
بعد ازاں اس نے فرانس کے نمبر سے 60 ہزار ڈالر تاوان طلب کیا۔
مزید پڑھیں: کوئٹہ: اسسٹنٹ کمشنر زیارت کی لاش تاحال برآمد نہ ہو سکی، ڈپٹی کمشنر ہرنائی کی وضاحت
پولیس کی بروقت کارروائی نے نہ صرف ایک معصوم بچے کو بحفاظت بازیاب کر لیا بلکہ ایک بڑے سانحے کو بھی ٹال دیا۔
مغوی بچے کے والد نے خوشی اور اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے بازیابی میں حصہ لینے والی ٹیم کے لیے نقد انعام کا اعلان کیا ہے۔
یہ واقعہ اس تلخ حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ خواب کی تکمیل کے لیے اگر درست راستے نہ اپنائے جائیں تو ایسی ناعاقبت اندیشی انسان کو اندھیری گلیوں میں بھی لے جا سکتی ہے۔













