ویمنز فٹ بال ایشین کپ کا آغاز ہو چکا تھا۔ گزشتہ روز ایران اور جنوبی کوریا کی قومی ویمنز فٹ بال ٹیمیں ایک دوسرے کے مدمقابل تھیں۔ حسبِ روایت کھیل سے پہلے دونوں ملکوں کے قومی ترانے بجائے گئے؛ ایران کا ترانہ بھی گونجا مگر کھلاڑیوں کے لب خاموش رہے پر آنکھیں نم تھیں۔ عین ٹورنامنٹ کے آغاز سے پہلے ایران پر 2 جنونی ملکوں نے جنگ مسلط کر دی تھیـ ایک اسکول پر فضائی حملے میں 150 سے زائد بچیاں شہید ہوئیں۔ اس لمحے ایرانی کھلاڑی لڑکیوں کے پاس احتجاج کا صرف ایک ہی ہتھیار تھا … خاموشی … شاید اسی طرح وہ اپنے وطن اور خاندان کی سلامتی پر تشویش کا اظہار کر سکتی تھیں۔
ایسے ہی جیسے جعفر پناہی کا کیمرا، ان کی فلمیں اور ان کی موجودگی کئی برسوں سے اپنے ہی نظام کے خلاف خاموش احتجاج کرتے رہے ہیں۔
کھیل کے میدان اور سرحد کے بیچ ایک باریک سی لکیر واضح دکھائی دے رہی تھی۔ ایک طرف آزادی تھی تو دوسری جانب تہذیبی شناختـ حافظ کے حسن و عشق، سعد شیرازی کی انسان دوستی، فردوسی کی قومی روح، رومی کی باطنی روشنی والی تہذیبـ اس لکیر کے ایک سرے پر کھڑی تھیں ایرانی خواتین کھلاڑی اور دوسرے سرے پر ایرانی ہدایت کار جعفر پناہی….. جن کے سامنے مغربی دنیا کی شہریت ایک کھلے دروازے کی طرح تھی اور ایران واپسی شاید ایک بند دروازے کی طرف پلٹنے جیسی۔ مگر بعض دروازے بند نہیں ہوتے بس وہ اندر کی جانب کھلتے ہیں۔
یہ منظر جعفر پناہی کی فلم Offside جیسا تھاـ
فرق یہ تھا کہ اس بار لڑکیاں اسٹیڈیم کے اندر کھڑی تھیں بطور ایرانی ویمنز فٹ بال ٹیم کےـ اس بار انہیں اندر جانے سے نہیں روکا جا رہا، بلکہ باہر نکلنے اور آزاد ہونے کا راستہ دیا جا رہا ہے۔ مگر کیا آزادی صرف جگہ بدلنے کا نام ہے؟ یا اپنی زمین پر کھڑے ہو کر اس کے معنی بدلنے کا؟
جعفر پناہی کی فلمیں محض کہانیاں نہیں، بند دروازوں کی ریخوں سے جھانکتی سچائیاں ہیں۔ کبھی وہ ایک ٹیکسی ڈرائیور بن کر شہر کی نبض سنتے ہیں، کبھی گھر میں قیدی بن جانے کے باوجود بھی پوری دنیا کو اپنی آنکھ میں سمیٹ لیتے ہیں۔ اصل میں وہ معاشرے کے باطن کے مسافر ہیں۔ جعفر جیسے فلمسازوں کی کہانیوں کو قید نہیں کیا جا سکتا جن کے لیے ایران محض جغرافیہ نہیں، بلکہ ایک ایسا اسٹیج ہے جہاں سچ اور خاموشی کی کشمکش جاری ہےـ
یہ بھی پڑھیں: ہیٹ کرائم یا اسالٹ
جعفر پناہی کی فلم آف سائڈ میں کچھ لڑکیاں مردوں کا بھیس بدل کر اسٹیڈیم میں داخل ہونا چاہتی ہیں، کیونکہ ان کے اپنے ہی ملک میں ایک عورت کو صرف تماشائی بننے کا حق بھی نہیں۔ وہ میدان کے بہت قریب ہوتی ہیں ـ ہجوم کی آوازیں سن سکتی ہیں، میچ کا جوش محسوس کر سکتی ہیں، مگر خود اسے دیکھ نہیں سکتیں۔ بظاہر وہ ہنستی ہیں، جھگڑتی ہیں، سپاہیوں سے بحث کرتی ہیں ..مگر دراصل وہ اپنے وجود پر اُٹھائے گئے ایک بڑے سوال سے لڑ رہی ہوتی ہیں: ’ہم اگر یہاں کے نہیں تو پھر کہاں کے ہیں ؟‘
اور آج، جب یہی سوال حقیقت کے میدان میں اُترا تو جواب اتنا سادہ نہیں تھاـ آسٹریلیا کی پیشکش تمام کھلاڑی لڑکیوں کے لیے ایک محفوظ پناہ گاہ تھی، ایک ایسا میدان جہاں کھیلنے کی اجازت بھی تھی اور جیتنے کا حق بھی۔ مگر شناخت کوئی جرسی تو نہیں ہے کہ میچ کے ساتھ بدل لی جائے۔ وہ تو جلد کی طرح ہوتی ہے جسے اتارنے کے لیے آدمی کو خود سے الگ ہونا پڑتا ہے۔
محدثہ ذولفی، مونا حمودی، زہرا سربالی اور قنبری اپنے اپنے کمروں میں بظاہر خاموش لیٹی ہیں، جیسے نیند نے انہیں اپنی آغوش میں لے لیا ہو ـ مگر حقیقت اس کے برعکس ہے۔ ان کی آنکھیں بند ضرور ہیں، مگر نیند ان سے کوسوں دور، کہیں اپنے ایران کی گلیوں میں بھٹک رہی ہیں ۔ باہر کی دنیا سو رہی ہے، مگر ان کمروں میں تاریخ، خوف، محبت اور مزاحمت سب جاگ رہے ہیں۔
محدثہ آہستہ آہستہ گنگنانے لگتی ہے :
’چو ایران نباشد، تنِ من مباد
بدین بوم و بر، زنده یک تن مباد‘
(اگر ایران نہ رہے تو میرا وجود بھی نہ رہے
اس سرزمین کے بغیر زندگی بے معنی ہے۔)
اس کی آواز میں دبے ہوئے درد کی تھرتھراہٹ تھی ـ
زہرہ سوچ رہی تھی: مہیسا کی دردناک موت کے بعد سماج بدل رہا ہے۔ اصل تبدیلی ہمیں خود ہی لانی ہے، اپنی لڑائی ہمیں خود لڑنی ہے۔
مزید پڑھیے: کنسپیریسی تھیوری اور ایپسٹین فائلز
اسی دوران قنبری کو جعفر پناہی کی فلم آف سائیڈ یاد آئی۔ اس نے سوچا؛ میں تو ٹیم کی کپتان ہوں ـ میں بھلا فرار کی روایت کیسے ڈالوں، اور کیوں؟ جب آف سائیڈ کا خالق، جعفر پناہی، ان حالات میں اپنے وطن لوٹ کر واپس آرہا ہے، تو میں کیوں نہیں؟
یہ لڑکیاں، پناہی کی فلم کی کرداروں کی طرح، جانتی ہیں کہ اسٹیڈیم کے دروازے ابھی بھی بند ہو سکتے ہیں، مگر وہ خود دروازہ بننے کا ارادہ لے کر لوٹنے کا فیصلہ کرتی ہیں۔ یہ واپسی کسی جیت کا جشن نہیں بلکہ ایک نامکمل میچ کو دوبارہ کھیلنے کا عزم تھی۔
بالکل جعفر پناہی کی طرح جسے معلوم ہے کہ سزا اسکی منتظر ہے پھر بھی اس نے کہا کہ ’یہ کوئی حادثہ نہیں‘ بلکہ باعث فخر ہے کہ ایران میرا ملک ہےـ اور شاید اسی لیے، جعفر پناہی کی واپسی صرف ایک ہدایتکار کی واپسی نہیں بلکہ ایک تخلیقی عزم کی واپسی ہے جو ہر حال میں اپنے وطن اپنی تہذیب سے محبت کرتا ہے ۔
ایران کی خواتین فٹبال کھلاڑیوں کا آسٹریلیا میں پناہ لینے کی پیشکش ٹھکرا کر واپس لوٹ آنا، اور جعفر پناہی کا بارہا خطرات کے باوجود ایران واپس آنا ، یہ دونوں واقعات محض بریکنگ نیوز نہیں، بلکہ ایک ہی کہانی کے دو باب ہیں۔ وہ کہانی جو سرحدوں سے نہیں، تہذیب سے وابستہ رہ کر لکھی جاتی ہے۔
مزید پڑھیں: وفاق اور گل پلازہ
نظریے بنتے ہیں بگڑتے ہیں مگر تہذیب وہ زیر زمین پانی کی طرح ہے جو اوپر سے راستہ بند کرنے پر نیچے سے نئی راہ نکال لیتا ہے۔
ایران کی فضا زخمی ہے، مگر ان کے بیچ کہیں ایک کیمرا اب بھی آن ہے اور ایک گیند اب بھی لڑھک رہی ہے۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔












