واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس کرسپونڈنٹس ایسوسی ایشن کے عشائیے کے دوران ہونے والے حملے نے امریکی ہوٹل انڈسٹری کے دیرینہ اور مہنگے سیکیورٹی مسائل کو ایک بار پھر دنیا کے سامنے نمایاں کردیا ہے۔
ہفتے کے روز ہونے والے اس حملے میں ایک ملزم نے سیکیورٹی چیک پوائنٹ پر حملہ کیا اور شاٹ گن سے فائرنگ کی، جس کے بعد اس نے واشنگٹن ہلٹن کے سیکیورٹی انتظامات کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا کہ اسے توقع تھی کہ وہاں ہر موڑ پر کیمرے اور ہر 10 فٹ پر مسلح ایجنٹ ہوں گے، لیکن اسے وہاں کچھ بھی نہیں ملا۔
یہ بھی پڑھیں: صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی موجودگی میں تقریب میں فائرنگ، حملہ آور گرفتار، فائرنگ کرنیوالا بھیڑیا اور ذہنی بیمار ہے، صدر ٹرمپ
اس حملے کے وقت سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ ہوٹل کے بال روم میں 2,600 صحافیوں اور سرکاری حکام کے ساتھ موجود تھے، تاہم انہیں بحفاظت نکال لیا گیا اور تمام مہمان محفوظ رہے۔
اس واقعے نے ہوٹل انڈسٹری کے لیے اس چیلنج کو مزید مشکل بنا دیا ہے کہ مہمان نوازی اور گرمجوشی کے ماحول کو برقرار رکھتے ہوئے سیکیورٹی کو کیسے سخت کیا جائے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ہوٹل کے حملوں میں ہمیشہ ایک جیسی کمزوریوں کا فائدہ اٹھایا جاتا ہے، جن میں داخلے کے متعدد راستے، مہمانوں کی ہمہ وقت آمد اور عوامی و محفوظ علاقوں کے درمیان واضح فرق کا نہ ہونا شامل ہے۔
سیکیورٹی فرموں کا کہنا ہے کہ ہوٹل انتظامیہ اکثر بیرونی خطرات پر توجہ دیتی ہے لیکن رجسٹرڈ مہمانوں سے لاحق خطرات کو نظر انداز کر دیتی ہے، اور اس کی بڑی وجہ بجٹ کی کمی اور عملے کی قلت ہے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ماضی میں کب مسلح حملوں اور دھمکیوں کا سامنا رہا؟
اگرچہ کچھ نئی سیکیورٹی فرمیں آرٹیفیشل انٹیلیجنس (اے آئی) پر مبنی نگرانی کے حل پیش کر رہی ہیں، لیکن ہوٹل انڈسٹری اخراجات میں اضافے اور مہمانوں کی پرائیویسی متاثر ہونے کے خوف سے ان ٹیکنالوجیز کو اپنانے میں سستی کا مظاہرہ کر رہی ہے۔
نیویارک یونیورسٹی کے پروفیسر نکولس گراف کے مطابق، ‘سیکیورٹی کو ٹیکنالوجی کے ذریعے بہتر بنایا جا رہا ہے، لیکن آخر کار یہ ایک مہمان نوازی کا کاروبار ہے جہاں گاہکوں کا خود کو خوش آمدید محسوس کرنا ضروری ہے’۔
ہوٹلوں کی بڑی کمپنیوں نے 2025 میں 102 بلین ڈالر کی آمدنی حاصل کی، لیکن حالیہ برسوں میں ان پر منافع برقرار رکھنے کا شدید دباؤ رہا ہے جس کی وجہ سے وہ مہنگے سیکیورٹی اپ گریڈ سے گریز کر رہے ہیں۔
واشنگٹن ہلٹن، جہاں یہ واقعہ پیش آیا، ماضی میں بھی ایسے واقعات کا مرکز رہا ہے۔ 1981 میں صدر رونالڈ ریگن کو بھی اسی ہوٹل کے باہر گولی ماری گئی تھی، جس کے بعد یہاں ایک محفوظ گیراج بنایا گیا تھا تاکہ صدور کی گاڑیاں عمارت کے اندر آ سکیں۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی صدر ٹرمپ کی تقریب میں فائرنگ کرنے والا شخص کون تھا؟
حالیہ حملے کے بعد امریکی قانون نافذ کرنے والے ادارے واشنگٹن ہلٹن کی سیکیورٹی کا نئے سرے سے جائزہ لے رہے ہیں، کیونکہ ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اس عمارت کو ‘خاص طور پر محفوظ عمارت نہیں’ قرار دیا ہے۔
دنیا بھر میں ممبئی کے تاج محل ہوٹل پر 2008 کے حملے اور 2017 میں لاس ویگاس کے مینڈالے بے ہوٹل کی فائرنگ جیسے واقعات نے سیکیورٹی میں بہتری کی ترغیب دی ہے، لیکن حالیہ واقعہ ظاہر کرتا ہے کہ ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔














