صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی موجودگی میں تقریب میں فائرنگ، حملہ آور گرفتار، فائرنگ کرنیوالا  بھیڑیا اور ذہنی بیمار ہے، صدر ٹرمپ

اتوار 26 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

واشنگٹن ڈی سی میں میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی موجودگی میں ایک تقریب میں فائرنگ کا واقعہ پیش آیا ہے جس کے بعد امریکی صدر کو فوری طور پر محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا۔

یہ واقعہ ہفتہ کی شام واشنگٹن ہلٹن ہوٹل میں پیش آیا، جہاں وائٹ ہاؤس نامہ نگاروں کی سالانہ تقریب جاری تھی جس میں صدر ٹرمپ، خاتونِ اول اور کابینہ کے ارکان تقریب میں موجود تھے۔ حکام کے مطابق فائرنگ ہوٹل کے باہر سیکیورٹی چیک پوائنٹ کے قریب ہوئی۔

یہ بھی پڑھیے: ایران پر حملہ غیرضروری اور خطرناک، کانگریس اپنے اختیار سے ٹرمپ کو روکے، کملا ہیرس

بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایک شخص متعدد ہتھیاروں کے ساتھ سیکیورٹی حصار توڑنے کی کوشش کر رہا تھا، جسے سیکرٹ سروس کے اہلکاروں نے قابو کر لیا۔ صدر ٹرمپ نے بتایا کہ ایک سیکیورٹی اہلکار گولی لگنے سے زخمی ہوا، تاہم بلٹ پروف جیکٹ کی وجہ سے اس کی جان بچ گئی۔

حملہ آور  بھیڑیا اور ذہنی بیمار ہے، صدر ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں فائرنگ کے مرتکب شخص کو ’بھاری ہتھیاروں سے لیس، بیمار آدمی اور اکیلا بھیڑیا قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وائٹ ہاؤس کے نامہ نگاروں کے عشائیہ پر فائرنگ کرنے والا ملزم بھاری ہتھیاروں سے لیس تھا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ وائٹ ہاؤس کرسپانڈنٹ ایسوسی ایشن کے عشائیے میں فائرنگ کرنے والا ملزم بھاری ہتھیاروں سے لیس تھا اور اس نے ایک سیکیورٹی چیک پوائنٹ پر ایک سے زیادہ سروس چیک پوائنٹ پر فائرنگ کرنے سے پہلے ہم پر الزام لگایا تھا۔

صدر ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں واقعات کی ترتیب کو بیان کرتے ہوئے کہا ایک شخص نے متعدد ہتھیاروں سے لیس ایک سیکیورٹی چوکی پر چارج کیا، اور اسے سیکرٹ سروس کے کچھ انتہائی بہادر ارکان نے نیچے اتار دیا۔

امریکی خفیہ سروس کے مطابق ایک مشتبہ شخص کو حراست میں لے لیا گیا ہے جبکہ واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔

عینی شاہدین اور واقعے کے ویڈیوز کے مطابق فائرنگ کی آواز سنتے ہی تقریب میں موجود افراد نے زمین پر لیٹ کر پناہ لی، جبکہ سیکرٹ سروسز ایجنٹ کے اہلکاروں نے صدر کو فوری طور پر وہاں سے نکال لیا۔

واضح رہے کہ صدر ٹرمپ اس سے قبل بھی متعدد حملوں کا نشانہ بن چکے ہیں، جن میں 2024 میں پنسلوانیا میں ایک انتخابی جلسے کے دوران ہونے والا حملہ بھی شامل ہے۔

امریکی صدر ٹرمپ کی تقریب میں فائرنگ کرنے والا شخص کون تھا؟

واشنگٹن ڈی سی میں وائٹ ہاؤس نامہ نگاروں کی سالانہ تقریب کے دوران فائرنگ کے واقعے کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو فوری طور پر محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا، جبکہ ایک مسلح مشتبہ شخص کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

یہ واقعہ ہفتہ کی شب واشنگٹن ہلٹن ہوٹل میں پیش آیا، جہاں وائٹ ہاؤس کوریسپونڈنٹس ڈنر جاری تھا۔ تقریب میں صدر ٹرمپ، خاتونِ اول، کابینہ کے ارکان، صحافی اور دیگر اہم شخصیات موجود تھیں۔

سی این این کے مطابق ملزم کی شناخت 31 سالہ کول ٹومس ایلن کے نام سے ہوئی ہے، جو امریکی ریاست کیلیفورنیا کا رہائشی بتایا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: واشنگٹن: صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی موجودگی میں تقریب میں فائرنگ، حملہ آور گرفتار

میٹروپولیٹن پولیس کے عبوری سربراہ جیفری کیرول نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق گرفتار مشتبہ شخص ہوٹل کا مہمان تھا۔ پولیس نے ہوٹل میں اس کے کمرے کو سیل کر دیا ہے اور وہاں موجود اشیا کی مکمل تلاشی لی جا رہی ہے۔

پولیس چیف نے بتایا کہ ملزم کئی ہتھیاروں کے ساتھ خفیہ سروس کے سیکیورٹی چیک پوائنٹ کی طرف بڑھا اور رکاوٹ عبور کرنے کی کوشش کی، جس پر اہلکاروں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے اسے قابو کر لیا۔

صدر ٹرمپ نے بعد ازاں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ملزم کا تعلق غالباً کیلیفورنیا سے تھا جسے گرفتار کیا جاچکا ہے اور قانون نافذ کرنے والے ادارے اس کے رہائشی مقام اور پس منظر کی جانچ کر رہے ہیں۔ انہوں نے مبینہ حملہ آور کو بیمار ذہنیت کا حامل شخص قرار دیتے ہوئے کہا کہ ‘ہم نہیں چاہتے کہ ایسے واقعات دوبارہ پیش آئیں۔’

صدر ٹرمپ نے مزید بتایا کہ واقعے کے دوران ایک سیکرٹ سروس اہلکار کو گولی لگی، تاہم بلٹ پروف جیکٹ پہننے کی وجہ سے اس کی جان بچ گئی۔

یہ بھی پڑھیے: ایران پر حملہ غیرضروری اور خطرناک، کانگریس اپنے اختیار سے ٹرمپ کو روکے، کملا ہیرس

واشنگٹن کی میئر میوریل باؤزر نے کہا کہ تاحال ایسا کوئی ثبوت نہیں ملا کہ اس واقعے میں کوئی دوسرا شخص بھی شامل تھا، اور حکام کا خیال ہے کہ ملزم نے اکیلے کارروائی کی۔

عینی شاہدین کے مطابق فائرنگ کی آواز آتے ہی تقریب میں موجود افراد نے زمین پر لیٹ کر پناہ لی، جبکہ سیکیورٹی اہلکاروں نے فوری طور پر صدر ٹرمپ کو ہال سے باہر منتقل کر دیا۔ کچھ دیر بعد علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کیا گیا۔

یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب صدر ٹرمپ پہلے بھی متعدد سیکیورٹی خطرات کا سامنا کر چکے ہیں، جن میں 2024 میں پنسلوانیا کے انتخابی جلسے میں ہونے والا حملہ بھی شامل ہے۔

امریکی صدر ٹرمپ کی تقریب میں فائرنگ کرنے والا شخص کون تھا؟

واشنگٹن ڈی سی میں وائٹ ہاؤس نامہ نگاروں کی سالانہ تقریب کے دوران فائرنگ کے واقعے کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو فوری طور پر محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا، جبکہ ایک مسلح مشتبہ شخص کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

یہ واقعہ ہفتہ کی شب واشنگٹن ہلٹن ہوٹل میں پیش آیا، جہاں وائٹ ہاؤس کوریسپونڈنٹس ڈنر جاری تھا۔ تقریب میں صدر ٹرمپ، خاتونِ اول، کابینہ کے ارکان، صحافی اور دیگر اہم شخصیات موجود تھیں۔

سی این این کے مطابق ملزم کی شناخت 31 سالہ کول ٹومس ایلن کے نام سے ہوئی ہے، جو امریکی ریاست کیلیفورنیا کا رہائشی بتایا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: واشنگٹن: صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی موجودگی میں تقریب میں فائرنگ، حملہ آور گرفتار

میٹروپولیٹن پولیس کے عبوری سربراہ جیفری کیرول نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق گرفتار مشتبہ شخص ہوٹل کا مہمان تھا۔ پولیس نے ہوٹل میں اس کے کمرے کو سیل کر دیا ہے اور وہاں موجود اشیا کی مکمل تلاشی لی جا رہی ہے۔

پولیس چیف نے بتایا کہ ملزم کئی ہتھیاروں کے ساتھ خفیہ سروس کے سیکیورٹی چیک پوائنٹ کی طرف بڑھا اور رکاوٹ عبور کرنے کی کوشش کی، جس پر اہلکاروں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے اسے قابو کر لیا۔

صدر ٹرمپ نے بعد ازاں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ملزم کا تعلق غالباً کیلیفورنیا سے تھا جسے گرفتار کیا جاچکا ہے اور قانون نافذ کرنے والے ادارے اس کے رہائشی مقام اور پس منظر کی جانچ کر رہے ہیں۔ انہوں نے مبینہ حملہ آور کو بیمار ذہنیت کا حامل شخص قرار دیتے ہوئے کہا کہ ‘ہم نہیں چاہتے کہ ایسے واقعات دوبارہ پیش آئیں۔’

صدر ٹرمپ نے مزید بتایا کہ واقعے کے دوران ایک سیکرٹ سروس اہلکار کو گولی لگی، تاہم بلٹ پروف جیکٹ پہننے کی وجہ سے اس کی جان بچ گئی۔

یہ بھی پڑھیے: ایران پر حملہ غیرضروری اور خطرناک، کانگریس اپنے اختیار سے ٹرمپ کو روکے، کملا ہیرس

واشنگٹن کی میئر میوریل باؤزر نے کہا کہ تاحال ایسا کوئی ثبوت نہیں ملا کہ اس واقعے میں کوئی دوسرا شخص بھی شامل تھا، اور حکام کا خیال ہے کہ ملزم نے اکیلے کارروائی کی۔

عینی شاہدین کے مطابق فائرنگ کی آواز آتے ہی تقریب میں موجود افراد نے زمین پر لیٹ کر پناہ لی، جبکہ سیکیورٹی اہلکاروں نے فوری طور پر صدر ٹرمپ کو ہال سے باہر منتقل کر دیا۔ کچھ دیر بعد علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کیا گیا۔

یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب صدر ٹرمپ پہلے بھی متعدد سیکیورٹی خطرات کا سامنا کر چکے ہیں، جن میں 2024 میں پنسلوانیا کے انتخابی جلسے میں ہونے والا حملہ بھی شامل ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف اور صدر مملکت آصف زرداری کی واقعے کی مذمت

وزیر اعظم شہباز شریف نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تقریب میں فائرنگ کے واقعے پر شدید صدمے اور ٹرمپ، خاتون اوّل کے محفوظ رہنے پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔

وزیرِ اعظم نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پر اپنے بیان میں کہا کہ وہ اس افسوسناک واقعے سے شدید صدمے میں ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ انہیں یہ جان کر اطمینان ہوا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، خاتونِ اول اور دیگر شرکاء محفوظ ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: ٹرمپ کی تقریب میں فائرنگ: ’شدید صدمہ ہوا‘، وزیراعظم شہباز شریف

دوسری طرف، صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے وائٹ ہاؤس کریسپانڈنٹس ڈنر میں فائرنگ کے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے دہشت گردی کی ایک گھناؤنی شکل قرار دیا ہے۔

صدر زرداری نے ڈونلڈ ٹرمپ اور خاتونِ اوّل کے محفوظ رہنے پر اطمینان کا اظہار کیا۔

صدر ٹرمپ پر کب کب حملے ہوئے؟

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو گزشتہ کئی برسوں کے دوران متعدد سیکیورٹی خطرات، حملوں کی کوششوں اور مبینہ قتل کی سازشوں کا سامنا رہا ہے۔

امریکی حکام اور بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ واقعات مختلف ریاستوں اور ممالک میں پیش آئے، جن میں براہ راست فائرنگ، مسلح افراد کی گرفتاری، زہریلے خطوط اور فضائی حدود کی خلاف ورزیاں شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیے:” واشنگٹن: صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی موجودگی میں تقریب میں فائرنگ، حملہ آور گرفتار

تازہ ترین واقعہ آج یعنی 26 اپریل کو پیش آیا جب واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس کوریسپانڈنٹس ڈنر کے دوران فائرنگ نے ہال میں شدید خوف و ہراس پھیلا دیا۔ تقریب کے دوران باہر سیکیورٹی چیک پوائنٹ کے قریب گولیوں کی آوازیں سنی گئیں، جس کے بعد خفیہ سروس نے فوری طور پر ڈونلڈ ٹرمپ، ان کی اہلیہ میلانیا ٹرمپ، نائب صدر جے ڈی وینس اور دیگر اعلیٰ حکام کو محفوظ مقام پر منتقل کر دیا۔

حکام کے مطابق ایک مشتبہ شخص کو گرفتار کیا گیا جبکہ ایک سیکیورٹی اہلکار کو گولی لگی تاہم بلٹ پروف جیکٹ کے باعث وہ محفوظ رہا۔

فروری 2026 میں فلوریڈا کے علاقے مارا-لاگو میں ایک 21 سالہ شخص مبینہ طور پر مسلح حالت میں داخل ہوا۔ سیکیورٹی اہلکاروں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے اسے ہلاک کر دیا۔ رپورٹ کے مطابق اس کے پاس شاٹ گن اور مشکوک سامان موجود تھا۔ اس واقعے نے ٹرمپ کی رہائش گاہوں کی سیکیورٹی پر نئے سوالات کھڑے کر دیے۔

یہ بھی پڑھیے: امریکی صدر ٹرمپ کی تقریب میں فائرنگ کرنے والا شخص کون تھا؟

مارچ 2026 میں اسی علاقے میں ایک طیارہ ممنوعہ فضائی حدود میں داخل ہوا، جسے امریکی فضائی دفاعی نظام نے روک لیا۔ حکام نے اسے سیکیورٹی خلاف ورزی قرار دیا اور تحقیقات شروع کر دی گئیں۔

اکتوبر 2025 میں فلوریڈا میں ایئر فورس ون کے ممکنہ لینڈنگ ایریا کے قریب ایک مشکوک اونچا ڈھانچہ پایا گیا جس کے بارے میں خدشہ ظاہر کیا گیا کہ اس سے صدر کی نقل و حرکت کو نشانہ بنایا جا سکتا تھا۔ اس پر ایف بی آئی نے تحقیقات شروع کیں۔

اگست 2025 میں ورجینیا کے ایک گالف کلب میں ایک شخص غلطی سے لوڈڈ پستول لے آیا جبکہ ٹرمپ وہاں موجود تھے۔ اگرچہ اس نے خود اس بات کی اطلاع دی، لیکن اس واقعے کے بعد سیکیورٹی نظام پر سوالات اٹھے۔ اسی مہینے ایک اور کیس میں ایک خاتون کو آن لائن قتل کی دھمکیوں کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔

مئی 2025 میں ایک مبینہ جعلی خط سامنے آیا جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ٹرمپ کو ریلی کے دوران نشانہ بنایا جائے گا۔ بعد میں تفتیش میں معلوم ہوا کہ یہ خط ایک اور شخص نے سازش کے طور پر لکھا تھا تاکہ ایک گواہ کو متاثر کیا جا سکے۔

اکتوبر 2024 میں کیلیفورنیا کے علاقے کوچیلا کے قریب ایک ریلی کے باہر ایک مسلح شخص کو گرفتار کیا گیا جس کے پاس جعلی نمبر پلیٹس، متعدد پاسپورٹس اور ہتھیار موجود تھے۔

یہ بھی پڑھیے: ٹرمپ کی تقریب میں فائرنگ: ’شدید صدمہ ہوا‘، وزیراعظم شہباز شریف

سب سے سنگین واقعہ ستمبر 2024 میں پیش آیا جب فلوریڈا کے گالف کلب کے قریب ایک شخص کو جھاڑیوں میں رائفل کے ساتھ دیکھا گیا۔ سیکیورٹی اہلکار نے فائرنگ کی جس کے بعد حملہ آور فرار ہو گیا مگر بعد میں گرفتار کر لیا گیا۔ امریکی حکام کے مطابق اس کا مقصد ٹرمپ کو قتل کرنا تھا۔

trump-capitol-hill-congress-attack-pardon

جولائی 2024 میں پنسلوانیا میں انتخابی ریلی کے دوران فائرنگ کا بڑا واقعہ پیش آیا جس میں ٹرمپ کے کان پر گولی لگی جبکہ ایک شخص ہلاک اور 2 زخمی ہوئے۔ حملہ آور کو موقع پر ہی مار دیا گیا۔ اس واقعے کو امریکی تاریخ کے سنگین ترین حملوں میں شمار کیا گیا۔

2024 میں امریکی حکام نے ایران سے منسوب کئی مبینہ قتل کی سازشوں کا بھی ذکر کیا جن میں غیر ملکی نیٹ ورکس کے ذریعے حملے کی منصوبہ بندی کے الزامات شامل تھے۔

یہ بھی پڑھیے: صدر ٹرمپ خطرناک مجرموں کو سزائے موت دینے کے لیے فائرنگ اسکواڈ بحال کریں گے، امریکی محکمہ انصاف

اس سے قبل 2020 اور 2018 میں بھی ٹرمپ کو زہریلے خطوط، مشکوک پیکجز اور سیکیورٹی خلاف ورزیوں کا سامنا رہا۔ 2016 میں انتخابی مہم کے دوران ریلیوں میں مسلح افراد کی کوششیں بھی رپورٹ ہوئیں، جنہیں سیکیورٹی اداروں نے ناکام بنایا۔

امریکی خفیہ سروس کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ دنیا کی ان شخصیات میں شامل ہیں جنہیں سب سے زیادہ سیکیورٹی خطرات لاحق رہے ہیں، اور ان کی حفاظت کے لیے مسلسل ہائی الرٹ نظام برقرار رکھا جاتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پاکستان اور سری لنکا کی مشترکہ فوجی مشق ’شیک ہینڈز II‘ کا تربیلا میں آغاز

شرح سود میں اضافے پر تاجر تنظیمیں مایوس، معاشی بحالی سے متصادم قرار دیدیا

ایران نے آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کی پیشکش کردی، صدر ٹرمپ تجاویز کا جائزہ لے رہے ہیں، ترجمان وائٹ ہاؤس

فیلڈ مارشل کو اللہ نے عزت دی، ایسا مقام پاکستان کو اس سے قبل کبھی نہیں ملا، گورنر پنجاب

سیکیورٹی فوسز نے فتنہ الخوارج کے دہشتگردوں کی پاکستان میں داخل ہونے کی کوشش ناکام بنادی، طالبان چوکیاں تباہ

ویڈیو

پاکستانی فلم انڈسٹری کی بحالی کی کوششیں: شاندار ماضی، موجودہ زوال اور پنجاب حکومت کے بڑے فیصلے

خیبرپختونخوا حکومت آئینی ذمہ داریاں پوری نہیں کررہی، وفاق کے ساتھ بہتر تعلقات ہونے چاہییں، سابق گورنر حاجی غلام علی

کیا ایران امریکا مذاکرات بحال ہوں گے؟پاکستانی شہری کیا سوچتے ہیں؟

کالم / تجزیہ

ٹرمپ کا بلف

ایران، امریکا مذاکرات: اعصاب کی جنگ کون جیتے گا؟

مذاکرات میں پاکستان اتنی دلچسپی کیوں لے رہا ہے؟