دنیا بھر میں مہلک امیبا کے پھیلاؤ پر سائنسدانوں نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ یہ جراثیم عالمی صحت کے لیے ایک نیا خطرہ بن سکتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ‘فری لیونگ امیبا’ مٹی اور پانی میں پائے جاتے ہیں اور بعض اقسام ایسی ہیں جو انسانوں میں خطرناک انفیکشن کا باعث بنتی ہیں۔
تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ زیادہ تر امیبا بے ضرر ہوتے ہیں اور قدرتی ماحولیاتی نظام میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، تاہم کچھ اقسام انتہائی مہلک ثابت ہو سکتی ہیں۔ ان میں سب سے خطرناک ‘نیگلریا فاؤلری’ ہے، جو ناک کے ذریعے دماغ تک پہنچ کر جان لیوا انفیکشن کا سبب بنتا ہے اور اکثر کیسز میں موت واقع ہو جاتی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: ٹوتھ برش ایک کروڑ جراثیم کا مسکن، کب تبدیل کرلینا چاہیے؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ امیبا کی خاص بات یہ ہے کہ یہ سخت ترین حالات میں بھی زندہ رہ سکتے ہیں۔ یہ نہ صرف زیادہ درجہ حرارت برداشت کرتے ہیں بلکہ کلورین جیسے جراثیم کش عمل سے بھی بچ نکلتے ہیں، حتیٰ کہ پانی کی ترسیلی لائنوں میں بھی موجود رہ سکتے ہیں جہاں پانی کو محفوظ سمجھا جاتا ہے۔
تحقیق کے مرکزی مصنف لونگ فی شو کے مطابق امیبا ‘ٹروجن ہارس’ کی طرح کام کرتے ہیں، یعنی یہ خطرناک بیکٹیریا کو اپنے اندر محفوظ رکھتے ہیں اور انہیں پانی کی صفائی کے عمل سے بچاتے ہیں، جس کے نتیجے میں اینٹی بایوٹک مزاحمت میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
سائنسدانوں نے خبردار کیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی اور بڑھتا ہوا عالمی درجہ حرارت امیبا کے پھیلاؤ کو تیز کر رہا ہے، کیونکہ یہ جاندار گرم ماحول میں زیادہ تیزی سے بڑھتے ہیں، جس سے ان کے نئے علاقوں میں پھیلنے کا خدشہ ہے۔
یہ بھی پڑھیے: بھارت میں ’دماغ کھانے والے جراثیم‘ کی وبا شدت اختیار کرگئی، 19 افراد ہلاک
ماہرین نے اس خطرے سے نمٹنے کے لیے ‘ون ہیلتھ’ حکمت عملی اپنانے پر زور دیا ہے، جس کے تحت صحت، ماحولیات اور پانی کے نظام سے متعلق ماہرین مل کر نگرانی بہتر بنائیں اور پانی کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط کریں تاکہ عوام کو اس پوشیدہ خطرے سے محفوظ رکھا جا سکے۔














