بنگلہ دیش کے شمال مشرقی ہاؤر علاقوں میں حالیہ شدید سیلاب نے ملک کی اہم بورو چاول کی فصل کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچایا ہے، جبکہ سرکاری تخمینوں اور زمینی صورتحال کے درمیان فرق نے نقصانات کے درست اندازے پر خدشات کو جنم دیا ہے۔
محکمہ توسیع زراعت کے مطابق سنام گنج، کشور گنج، نیتروکونا، حبیب گنج، سلہٹ، مولوی بازار اور براہمن باریا سمیت سات اضلاع میں 46 ہزار 700 ہیکٹر سے زائد رقبہ زیر آب آ چکا ہے۔ ادارے کا کہنا ہے کہ تقریباً 10.27 فیصد زرعی زمین متاثر ہوئی جبکہ 71 فیصد فصل پہلے ہی کاٹ لی گئی تھی۔
تاہم متاثرہ علاقوں کے کسانوں کا کہنا ہے کہ اصل نقصان سرکاری دعوؤں سے کہیں زیادہ ہے۔ ان کے مطابق کئی کھیت کئی روز سے پانی میں ڈوبے ہوئے ہیں، جس کے باعث فصل کی بحالی کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ کسانوں نے اس مفروضے پر بھی سوال اٹھایا کہ زیر آب زمین سے قابلِ استعمال فصل حاصل ہو سکے گی، ان کا کہنا ہے کہ طویل عرصے تک پانی میں رہنے سے چاول انسانی استعمال کے قابل نہیں رہتا۔
سب سے زیادہ تباہی سنام گنج میں رپورٹ ہوئی جہاں وسیع زرعی رقبہ مکمل طور پر برباد ہو چکا ہے، جبکہ براہمن باریا میں نقصان نسبتاً کم بتایا جا رہا ہے تاہم پانی کی بلند سطح کے باعث غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔ نیتروکونا میں ہاؤر سے باہر کے کچھ علاقوں میں فصل بچانے کے امکانات موجود ہیں، مگر دلدلی علاقوں میں نقصان شدید ہے۔
اعداد و شمار میں اختلاف نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ انوائرمنٹ اینڈ ہاؤر ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن کے مطابق کم از کم 75 ہزار ہیکٹر زرعی زمین متاثر ہوئی ہے، جو سرکاری اعداد سے کہیں زیادہ ہے، جبکہ ژالہ باری نے نقصان میں مزید اضافہ کیا ہے۔
محکمہ توسیع زراعت کے ضلعی ڈپٹی ڈائریکٹر محمد عمر فاروق کے مطابق ابتدائی اندازوں سے کہیں زیادہ نقصان ہونے کا خدشہ ہے اور فیلڈ افسران کو دوبارہ جائزہ لینے کی ہدایت کی گئی ہے۔ ادارے کے ایڈیشنل ڈائریکٹر ڈاکٹر جمال الدین نے بھی تصدیق کی کہ حتمی رپورٹ تیار ہونے میں وقت درکار ہوگا۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اعداد و شمار میں تضاد سے امدادی اور بحالی کے اقدامات متاثر ہو سکتے ہیں، کیونکہ یہ تمام تر انحصار درست تخمینوں پر ہوتا ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا ہے کہ دیگر اداروں اور آزاد تنظیموں کے ساتھ مل کر جامع اور مستند رپورٹ تیار کی جائے، جس میں متاثرہ خاندانوں اور نقصانات کی مکمل تفصیلات شامل ہوں۔
زمینی سطح پر کسان شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ کٹی ہوئی فصل دھوپ نہ ملنے کے باعث خراب ہو رہی ہے جبکہ زیر آب کھیتوں تک رسائی ممکن نہیں۔ مزدوروں کی کمی اور بڑھتی اجرتوں نے بحران کو مزید سنگین بنا دیا ہے، اور بعض علاقوں میں کٹائی کے اخراجات تقریباً دوگنا ہو چکے ہیں۔
کشور گنج میں کسانوں کا کہنا ہے کہ کٹی ہوئی فصل بھی خشک نہ ہونے کے باعث خراب ہو رہی ہے اور دانے اُگنے لگے ہیں، جس سے معیار متاثر ہوا اور مارکیٹ قیمتیں گر گئی ہیں، نتیجتاً کاشتکار اپنی لاگت بھی پوری نہیں کر پا رہے۔
انسانی نقصان بھی سامنے آیا ہے، جہاں کشور گنج میں ایک کسان اپنی ڈوبی ہوئی فصل بچانے کی کوشش کے دوران دل کا دورہ پڑنے سے جاں بحق ہو گیا۔
باوجود اس بڑے بحران کے، تاحال بڑے پیمانے پر امدادی کارروائیاں شروع نہیں ہو سکیں۔ وزارت برائے ڈیزاسٹر مینجمنٹ اینڈ ریلیف کے حکام کے مطابق متاثرہ اضلاع کی مقامی انتظامیہ سے مشاورت جاری ہے۔ وزارت کے جوائنٹ سیکریٹری شیخ فرید احمد نے کہا ہے کہ وزیر اعظم کی ہدایت کے مطابق آئندہ 3 ماہ کے دوران ضرورت کے تحت انسانی و غذائی امداد فراہم کی جائے گی۔
غیر متوقع موسم، مسلسل بارشوں اور آسمانی بجلی کے واقعات نے پہلے ہی کمزور کسانوں پر مزید دباؤ ڈال دیا ہے، اور خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اگر فوری اور مربوط اقدامات نہ کیے گئے تو اس بحران کے اثرات مزید سنگین ہو سکتے ہیں۔














