وفاقی آئینی عدالت نے مقررہ مدت کے اندر فیصلہ نہ سنانا قانون کی خلاف ورزی قرار دے دیا

پیر 4 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وفاقی آئینی عدالت نے عدالتی فیصلوں کو طویل عرصے تک محفوظ رکھنے اور بعد از مقررہ مدت سنائے جانے سے متعلق اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے اس عمل کو قانون کی خلاف ورزی قرار دے دیا ہے۔

یہ فیصلہ جسٹس عامر فاروق نے جاری کیا، جو 7 صفحات پر مشتمل ہے۔

عدالت نے قرار دیا ہے کہ ہائیکورٹس محفوظ شدہ فیصلے 90 دن کے اندر سنانے کی پابند ہیں، اور مقررہ مدت کے بعد سنایا جانے والا فیصلہ اسی بنیاد پر کالعدم بھی قرار دیا جا سکتا ہے۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ اور ہائیکورٹس کے رولز اور قوانین کو قانونی حیثیت حاصل ہے، اور ان کی خلاف ورزی کرنے والے کو نتائج کا سامنا کرنا ہوگا۔

عدالت نے واضح کیا کہ بینچ کے ارکان کی جانب سے فیصلے کے اجرا سے قبل کسی بھی قسم کی لیکج یا معلومات کا افشا عدالتی قواعد کے خلاف ہے۔ تمام ججز اور عدالتی عملہ ان قواعد پر مکمل طور پر عملدرآمد کا پابند ہے۔

عدالت کے مطابق بینچ کا سربراہ قبل از وقت فیصلے یا اس کے نکات کے لیک ہونے کی صورت میں ازسرنو سماعت کا حکم دے سکتا ہے، جبکہ مقدمے کی دوبارہ سماعت اسی بینچ یا کسی نئے بینچ کے ذریعے بھی ہو سکتی ہے۔

ہائیکورٹس میں ایسے معاملات چیف جسٹس جبکہ سپریم کورٹ میں ججز کمیٹی کو بھیجے جائیں گے۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ زیر التوا مقدمات کا بوجھ ہونے کے باوجود انصاف کی بروقت فراہمی ضروری ہے۔ عدالت نے اس رجحان پر تشویش کا اظہار کیا کہ حالیہ عرصے میں فیصلے محفوظ کرنے کے رجحان میں اضافہ ہوا ہے، جس سے فریقین کو طویل انتظار کرنا پڑتا ہے۔

موجودہ کیس میں سندھ ہائیکورٹ نے ایک محفوظ شدہ فیصلہ 10 ماہ بعد سنایا تھا۔ اس معاملے پر عدالت نے آبزرویشنز دیتے ہوئے کہاکہ اس نوعیت کے عمل پر نظرثانی ضروری ہے۔

وفاقی آئینی عدالت نے پاکستان شپنگ کارپوریشن کی اپیل نمٹا دی اور سندھ ہائیکورٹ کی بعض آبزرویشنز حذف کرنے کا حکم دیا۔

یہ اپیل پینشن کی ادائیگی سے متعلق مقدمے میں سندھ ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف دائر کی گئی تھی۔

عدالت نے اپنے فیصلے کو تمام ہائیکورٹس میں عملدرآمد کے لیے بھجوانے کا حکم بھی دیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

روسی ’شیڈو فلیٹ‘ کے خلاف برطانوی کارروائی، بھارتی کپتان کو 10 سال قید کا سامنا

جو روٹ ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے زیادہ کیچز پکڑنے والے فیلڈر بن گئے

نوجوانوں کی مزاحمت نے مودی کو ’جن زی‘ بننے پر مجبور کردیا، سوشل میڈیا مہم مذاق بن گئی،برطانوی میڈیاکی رپورٹ

ایلون مسک نے مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس کے ذریعے عالمی نظامِ صحت میں انقلابی تبدیلی کی پیش گوئی کردی

الاسکا میں امریکی فضائیہ کے ریڈار مرکز کے قریب طیارہ تباہ، 8 افراد ہلاک

ویڈیو

کرائے کے جوتے، 6 ہزار میٹر بلند چوٹی: 14 سالہ ملائکہ خلجی کی حیران کن کہانی

ایک سال تک مفت اے آئی سہولت، پاکستانی طلبہ اسے کیسے حاصل کرسکتے ہیں؟

عمران خان کا علاج الشفا انٹرنیشنل کے بجائے پمز سے، حقائق کیا؟ پمز منتقلی کے خلاف پی ٹی آئی کا بڑا اقدام، خان کا سہیل آفریدی کے لیے پیغام

کالم / تجزیہ

سفید جادو، مثبت اور مددگار

عینی آپا ’آگ کا دریا‘ پار کیوں نہ کرسکیں؟

’ايسا ابّا کہاں سے لبھّا تھا‘