واشنگٹن اور تہران کے درمیان جاری جنگ بندی کے باوجود آبنائے ہرمز میں کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کرگئی ہے جہاں امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے خلیج عرب میں تجارتی بحری جہازوں کو نشانہ بنانے والی ایران کی 6 چھوٹی کشتیوں کو تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی تحویل میں لیا گیا ایرانی جہاز عملے کے 22 ارکان سمیت پاکستان کے حوالے
سینٹکام کے مطابق یہ آپریشن فوجی ہیلی کاپٹروں اور گائیڈڈ میزائل ڈیسٹرائرز کی مدد سے اس وقت کیا گیا، جب ایرانی فورسز نے امریکی تحفظ میں موجود جہازوں کی جانب کروز میزائل، ڈرونز اور کشتیاں روانہ کیں، تاہم امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ان تمام خطرات کو کامیابی سے ناکام بنا دیا گیا ہے۔
دوسری جانب ایران نے امریکی دعوے کو مسترد کرتے ہوئے اسے جھوٹا قرار دیا ہے، البتہ ایرانی سرکاری میڈیا نے یہ تسلیم کیا ہے کہ ان کی بحریہ نے امریکی جنگی جہازوں کی علاقے میں آمد پر ان کے قریب انتباہی فائرنگ کی اور کروز میزائل و ڈرونز داغے ہیں۔
— Rapid Response 47 (@RapidResponse47) May 4, 2026
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کی جانب سے فائرنگ کی گئی ہے تاہم ایک جنوبی کوریائی جہاز کو پہنچنے والے معمولی نقصان کے علاوہ کوئی بڑا نقصان نہیں ہوا، جبکہ اس تازہ کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں بھی اضافہ دیکھا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایران کیخلاف بحری ناکہ بندی ’دوستانہ‘ ہے، ایرانی تجاویز کا جلد جائزہ لوں گا، صدر ٹرمپ
امریکی ایڈمرل بریڈ کوپر نے صحافیوں کو بتایا کہ اپاچی اور سی ہاک ہیلی کاپٹروں نے تجارتی جہاز رانی کے لیے خطرہ بننے والی 6 کشتیوں کو نشانہ بنایا اور ان تمام میزائلوں کو فضا ہی میں تباہ کردیا جو امریکی یا تجارتی جہازوں کی طرف چھوڑے گئے تھے۔
امریکی بحریہ کے مطابق یہ کارروائی ’پروجیکٹ فریڈم‘ کا حصہ ہے جس کا مقصد خلیج میں تجارتی جہازوں کے لیے محفوظ راستہ بحال کرنا ہے، اور اس مشن کے تحت 2 امریکی مال بردار جہاز آبنائے ہرمز سے بحفاظت گزر چکے ہیں۔
U.S. Navy guided-missile destroyers are currently operating in the Arabian Gulf after transiting the Strait of Hormuz in support of Project Freedom. American forces are actively assisting efforts to restore transit for commercial shipping. As a first step, 2 U.S.-flagged merchant… pic.twitter.com/SVDxDhK72I
— U.S. Central Command (@CENTCOM) May 4, 2026
واضح رہے کہ آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے ایک انتہائی اہم راستہ ہے جہاں سے دنیا کی 20 فیصد تیل اور گیس کی سپلائی گزرتی ہے۔
تہران نے 28 فروری سے شروع ہونے والی امریکہ اسرائیل فوجی مہم کے جواب میں اس راستے کو بند کر رکھا ہے جبکہ واشنگٹن نے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کر رکھی ہے۔
اگرچہ پاکستان کی ثالثی میں ہونے والی دو ہفتوں کی ابتدائی جنگ بندی میں صدر ٹرمپ نے غیر معینہ مدت تک توسیع کردی تھی، لیکن حالیہ جھڑپوں نے اس عمل کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے اور فریقین کے درمیان تاحال کوئی مستقل حل سامنے نہیں آسکا ہے۔














