بھارت کی اسٹرٹیجک الجھن اور سفارتی تنہائی کا سفر

منگل 5 مئی 2026
author image

محمد اقبال

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اپریل 2026 میں نئی دہلی میں منعقد ہونے والا ’برکس پلس اتحاد‘ کا اجلاس تاریخ کے ایک ایسے موڑ پر منعقد ہوا جب دنیا ’یونی پولر‘ سے ’ملٹی پولر‘ نظام کی جانب تیزی سے گامزن تھی۔ بھارت کے پاس موقع تھا کہ وہ ’گلوبل ساؤتھ‘ کی قیادت کرتے ہوئے خود کو ایک عالمی منصف اور توازن برقرار رکھنے والی ایشیائی قوت کے طور پر منواتا۔

تاہم نئی دہلی میں منعقدہ یہ اجلاس کسی مشترکہ اعلامیے کے بغیر ختم ہو گیا جو بھارت کی نہ صرف ایک سفارتی ناکامی ہے بلکہ اس بات کا اعلان ہے کہ نئی دہلی کی ’دو کشتیوں کی سواری‘ کی پالیسی اب اپنے منطقی انجام کو پہنچ چکی ہے۔

بھارت کی صدارت میں ہونے والا یہ اجلاس کسی ٹھوس نتیجے کے بجائے محض ’چیئر سمری‘ تک محدود رہا، جو اس بات کا غماز ہے کہ ’برکس اتحاد‘ بھارتی روّیے کے باعث اندرونی تضادات اور اختلافات کا شکار ہو چکا ہے۔

’برکس اتحاد‘ کی بنیاد ایک ایسے متبادل عالمی نظام پر رکھی گئی تھی جو مغربی بالادستی، بالخصوص امریکی ڈالر اور سیاسی اجارہ داری کو چیلنج کر سکے۔ لیکن 2026 کے نئی دہلی اجلاس نے ثابت کیا کہ اتحاد میں شامل بھارت اس وقت ایک عجیب کشمکش کا شکار ہے۔

ایک طرف روس، چین اور ایران جیسے ممالک ہیں جو ’برکس اتحاد‘ کو ایک ’اینٹی ویسٹ‘ (مغرب مخالف) پلیٹ فارم بنانا چاہتے ہیں اور دوسری طرف بھارت ہے جو امریکا اور اسرائیل کے ساتھ اپنے ’اسٹرٹیجک‘ مفادات کو ہر قیمت پر تحفظ فراہم کرنا چاہتا ہے۔

فلسطین، غزہ، لبنان اور ایران اسرائیل کشیدگی نے اس خلیج کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ جہاں جنوبی افریقہ جیسا ملک عالمی عدالتِ انصاف میں فلسطین کے حق میں مقدمہ لڑ رہا ہے، وہاں بھارت کی ’خاموشی‘ نے اسے گروپ کے دیگر ارکان کی نظر میں مشکوک بنا دیا ہے۔ روس اور چین اب بھارت کو ’برکس اتحاد‘ کے اندر ایک خود مختار ملک کے بجائے ایک ’مغربی مہرے‘ کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔

’برکس اتحاد‘ کا سب سے اہم ایجنڈا ’ڈی ڈالرائزیشن‘ یا مقامی کرنسیوں میں تجارت کا فروغ رہا ہے۔ ایران اور روس کی جانب سے اس مطالبے پر اصرار کیا گیا کہ امریکی ڈالر پر انحصار ختم کیا جائے تاکہ مغربی پابندیوں کے ہتھیار کو ناکارہ بنایا جا سکے۔ تاہم مودی حکومت نے اس تجویز کو مسترد کر کے یہ ثابت کیا کہ بھارت اپنی عالمی معاشی پالیسیوں میں آج بھی امریکی مالیاتی نظام کے زیرِ اثر ہے۔

بھارت کی یہ ہچکچاہٹ برکس کے بنیادی مقاصد سے متصادم ہے۔ جب ایک اتحاد کا رکن اپنے ہی گروپ کے معاشی مفادات کے بجائے ایک بیرونی قوت (امریکا) کے معاشی تحفظات کو ترجیح دیتا ہے، تو اس اتحاد کی ساکھ مجروح ہوتی ہے۔ مقامی کرنسیوں کی مخالفت نے برکس کے نئے اراکین، بشمول مصر اور یو اے ای کو بھی یہ پیغام دیا ہے کہ بھارت معاشی خودمختاری کے معاملے میں سنجیدہ نہیں ہے۔

اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ کسی بھی ریاست کی عالمی طاقت صرف اس کی معیشت یا ہتھیاروں سے نہیں، بلکہ اس کے ’اخلاقی جواز‘ سے بھی ناپی جاتی ہے۔ بھارت نے دہائیوں تک ’غیر وابستہ تحریک‘ (نام) کے ذریعے دنیا کو یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ وہ ہمیشہ حق اور انصاف کا ساتھ دے گا۔ لیکن امریکا ایران تنازع اور 2026 کے ’برکس‘ اجلاس میں فلسطین اور ایران کے مسئلے پر بھارت کا روّیہ اس کے دیرینہ اصولوں کے ’جنازے‘ کے مترادف تھا۔

یہ بات بھی کھل کر سامنے آئی ہے کہ اسرائیل کے ساتھ بڑھتی ہوئی قربت اور ایران کے خلاف کارروائیوں پر خاموشی نے بھی مسلم دنیا اورعرب ممالک میں بھارت کی ’دو رخی سفارتی پالیسی‘ کو بے نقاب کیا ہے۔ ایران میں ہونے والی شہادتوں اور مودی حکومت کے دورہ اسرائیل کے وقت کے انتخاب اور پھر ایران پر حملے نے یہ تاثر پختہ کیا کہ بھارت اب مسلم ممالک کے لیے ایک قابلِ اعتماد دوست نہیں رہا ہے۔ خلیجی ممالک کے دورے کے دوران علاقائی سلامتی کے بجائے صرف اپنے شہریوں کی حفاظت کی بات کرنا بھارت کی ایک ’خود غرض ریاست‘ کی نشانی ہے جو صرف ضرورت پڑنے پر تعلقات کا استعمال کرتی ہے۔

بھارت کی خارجہ پالیسی میں حالیہ تبدیلی کی ایک بڑی وجہ امریکی دباؤ، بالخصوص ڈونلڈ ٹرمپ کی تجارتی پالیسیوں اور محصولات کا خوف معلوم ہوتی ہے۔ بھارت اپنی برآمدات کے ایک بڑے حصے کو بچانے کے لیے اپنے دفاعی اور توانائی کے شراکت داروں، جیسے روس اور ایران، کو نظر انداز کرنے پر مجبور نظر آتا ہے۔

اس ’بزدلانہ سفارت کاری‘نے عالمی سطح پر بھارت کے قد کو انتہائی چھوٹا کر دیا اور یہ واضح کر دیا ہے کہ جب ایک ابھرتی ہوئی معیشت اپنے فیصلے ’وژن‘ کے بجائے ’خوف کی بنیاد پر کرنے لگے، تو اس کا’وشو گرو‘(عالمی رہنما) بننے کا خواب کبھی پورا نہیں ہو سکتا۔ بھارت کا ٹرمپ کے محصولات کے سامنے گھٹنے ٹیکنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ نئی دہلی کی خودمختاری اب بیرونی دباؤ کے سامنے ریت کی دیوار ثابت ہو رہی ہے۔

بھارت مسلسل خود کو ’گلوبل ساؤتھ‘ کی آواز کے طور پر پیش کرتا رہا ہے۔ لیکن ’برکس اتحاد‘ کا 2026 کا اجلاس اس دعوے کی نفی کرتا ہے۔ گلوبل ساؤتھ کے ممالک (ترقی پذیر ریاستیں) ایک ایسے نظام کے خواہاں ہیں جو استعمار پسندی اور مغربی مداخلت سے پاک ہو۔ جب بھارت برکس جیسے پلیٹ فارم پر بیٹھ کر مغربی مفادات کی وکالت کرتا ہے، تو وہ خود بخود ان مظلوم اور ترقی پذیر ریاستوں کی صف سے نکل جاتا ہے۔

روس، چین، جنوبی افریقہ اور اب ایران و مصر جیسے ممالک برکس کو ایک ’متبادل عالمی نظام‘ کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ بھارت کی ’محتاط خاموشی‘ اور ’موقع پرستی‘ نے اسے اس متبادل نظام کی تشکیل کے عمل میں غیر مؤثر ریاست کے طور پر ثابت کر دیا ہے۔ اب ’برکس اتحاد‘ کا کوئی بھی ملک بھارت کی کارکردگی سے مطمئن نہیں ہے، جس کا نتیجہ مستقبل میں بھارت کی فیصلہ سازی کی طاقت میں کمی کی صورت میں ہی نکلے گا۔

یہ واضح ہے کہ کسی بھی ملک کی خارجہ پالیسی کی کامیابی اس کے نظریاتی تسلسل میں پنہاں ہوتی ہے۔ بھارت نے ’دنیا ایک خاندان ہے‘ کا نعرہ تو لگایا، لیکن عملی طور پر اس نے صرف اپنے تجارتی مفادات کو مقدم رکھا۔ مظلوم ریاستوں پر ہونے والے حملوں پر خاموشی اور جارحیت کی مذمت نہ کرنا بھارت کے اخلاقی زوال کی واضح دلیل ہے۔

بھارت کا یہ خیال کہ وہ اسرائیل اور عرب دنیا یا امریکا اور روس کے درمیان توازن برقرار رکھ سکے گا، اب ایک خام خیالی ثابت ہو رہا ہے۔ دنیا اب ’سیاہ و سفید‘ میں تقسیم ہو رہی ہے، جہاں غیر جانبداری اکثر بزدلی یا موقع پرستی کے طور پر دیکھی جاتی ہے۔ 2026 کا بھارت خود مختاری کے بجائے ’اسٹرٹیجک الجھن‘کا شکار نظر آتا ہے۔

نئی دہلی میں برکس اتحاد کے اجلاس کی ناکامی کے اثرات طویل مدتی واضح ہیں، بھارت نے اپنے مشرق اور جنوب کے فطری اتحادیوں کو کھو دیا ہے۔ اس کے نتیجے میں بھارت جلد ہی خود کو ایک ایسے جزیرے پر پائے گا جہاں اس کے پاس تجارتی معاہدے تو ہوں گے، لیکن کوئی ایسا اسٹرٹیجک دوست نہیں ہوگا جو مشکل وقت میں اس کے ساتھ کھڑا ہو۔

مجموعی طور پر اپریل 2026 کا برکس اتحاد کا اجلاس بھارت کے لیے ایک آئینے کی مانند ثابت ہوا، جس میں اسے اپنی خارجہ پالیسی کے زخم صاف دکھائی دیے۔ بھارت کا سفر جو ’وشو گرو‘ بننے کی تڑپ سے شروع ہوا تھا، اب ’عالمی تنہائی‘ کی تاریک راہوں پر نکل کھڑا ہوا ہے۔ ایک ایسی ریاست جو اصولوں کے بجائے خوف پر فیصلے کرے، وہ شور تو پیدا کر سکتی ہے لیکن تاریخ کے صفحات میں اس کی آواز کی کوئی اہمیت نہیں رہتی۔

بھارت کو یہ سمجھنا ہوگا کہ عالمی قیادت صرف معاشی اعداد و شمار سے نہیں ملتی، بلکہ اس کے لیے جرات مندانہ فیصلے اور مظلوم کے ساتھ کھڑا ہونے کا حوصلہ بھی چاہیے۔ نئی دہلی اجلاس کی ناکامی صرف ایک کانفرنس کی ناکامی نہیں، بلکہ ایک نظریے کی شکست ہے جس نے بھارت کو بین الاقوامی برادری میں ایک ’ناقابل بھروسا‘ ملک بنا کر چھوڑ دیا ہے۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

آبی تنازع: بنگلہ دیش کا مسئلے کے حل کے لیے تمام ممکنہ آپشنز استعمال کرنے کا اعلان

اسلام قبول کرنے والی لڑکی کو دارالامان بھیجنے کا حکم، آئینی عدالت میں اہم ریمارکس

بہاولپور پلازہ تنازع کیس: وکیل کی فیس واپسی اور ’ڈن بیسز ریلیف‘ پر اہم عدالتی فیصلہ

پشاور: امریکی قونصل خانہ کی بندش، اب سفارتی امور کہاں انجام دیے جائیں گے؟

27ویں آئینی ترمیم کے بعد سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ: سپریم کورٹ اور وفاقی آئینی عدالت ہم پلہ قرار

ویڈیو

معرکہ حق: بھارت اب پاکستان کی طرف دشمنی کی نظر سے دیکھنے کی ہمت نہیں کرے گا، اسلام آباد کے عوام کی رائے

خیبرپختونخوا حکومت کا بجٹ، عوام کیا کہتے ہیں، کیا ان کے مسائل حل ہوں گے؟

امریکی صدر کی اسٹریٹجی ناکام، ایران سے مذاکرات کی جلدی

کالم / تجزیہ

اگر مولانا فضل الرحمان اپوزیشن لیڈر ہوتے؟

انڈین بنگال میں ممتا بنرجی کو کیسے ہرایا گیا؟

ٹریل 5: فطرت، تنہائی اور خودکلامی