امریکی ڈیموکریٹس کا اسرائیل کے جوہری ابہام سے پردہ اٹھانے کا مطالبہ

بدھ 6 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکی ایوانِ نمائندگان کے ڈیموکریٹ ارکان کے ایک گروپ نے ٹرمپ انتظامیہ سے اسرائیل کے غیر اعلانیہ جوہری ہتھیاروں کے پروگرام کو سرِعام تسلیم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

یہ اقدام دہائیوں پر محیط امریکی پالیسی سے انحراف ہوگا، تاہم اس حقیقت کی تصدیق بھی کرے گا جسے 1960 کی دہائی کے اواخر سے انٹیلیجنس حلقوں میں ایک کھلا راز سمجھا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: اسرائیل کے جوہری پروگرام سے متعلق انتہائی حساس دستاویزات ایران کے ہاتھ لگ گئیں

میڈیا رپورٹس کے مطابق 2 درجن سے زائد ارکانِ کانگریس کےدستخطوں کے ساتھ وزیرِ خارجہ مارکو روبیو کو لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ اور فوجی کشیدگی کے بڑھتے خطرات کے تناظر میں اسرائیل کے جوہری پروگرام پر واشنگٹن کی خاموشی ناقابلِ دفاع ہے۔

ٹیکساس سے رکنِ کانگریس خواکین کاسٹرو کی قیادت میں لکھے گئے اس خط میں کہا گیا ہے کہ اس ماحول میں غلط اندازے، کشیدگی میں اضافے اور جوہری ہتھیاروں کے استعمال کے خطرات محض نظریاتی نہیں ہیں۔

’کانگریس کی آئینی ذمہ داری ہے کہ اسے مشرقِ وسطیٰ میں جوہری توازن، اس تنازع میں کسی بھی فریق کی جانب سے کشیدگی بڑھانے کے خطرات، اور ایسے ممکنہ حالات کے لیے انتظامیہ کی منصوبہ بندی کے بارے میں مکمل آگاہی ہو۔‘

میڈیا رپورٹس کے مطابق، ٹرمپ انتظامیہ کے اندر بھی کچھ افراد جوہری کشیدگی کے خطرات سے متعلق فکرمند ہیں اور ان کا مؤقف ہے کہ اسرائیل کی ’ریڈ لائنز‘ پوری طرح سمجھ میں نہیں آ رہیں۔

اسرائیل اپنے جوہری ہتھیاروں کے پروگرام کو تسلیم نہیں کرتا، جو 1950 کی دہائی کے آخر میں خفیہ طور پر شروع کیا گیا تھا، اور اس نے کبھی یہ واضح نہیں کیا کہ وہ ایسے ہتھیار کن حالات میں استعمال کر سکتا ہے۔

مزید پڑھیں: ایران سے مذاکرات اور میزائل پروگرام: نیتن یاہو اور ٹرمپ کی واشنگٹن میں بدھ کو اہم ملاقات

یہ خط ڈیموکریٹک پارٹی کے اندر اسرائیل کے حوالے سے بدلتے ہوئے مؤقف کی تازہ علامت ہے، جہاں غزہ، مغربی کنارے اور لبنان میں شہریوں کی ہلاکتوں اور ایران کے خلاف جنگ کے لیے واشنگٹن میں اسرائیل کی سرگرم لابنگ پر بڑھتی ہوئی تشویش پائی جاتی ہے۔

اسرائیل کے جوہری پروگرام کے معروف مؤرخ ایونر کوہن کے مطابق یہ خط ایک ایسی ممنوعہ حد کو توڑتا ہے جو نصف صدی سے زیادہ عرصے سے برقرار تھی۔

’یہ وہ کام ہے جس کی پہلے کوئی جرات نہیں کرتا تھا۔ محض ان سوالات کو عوامی سطح پر اٹھانا بھی ایک بڑی تبدیلی ہے۔‘

کوہن کے مطابق امریکا اور اسرائیل کے درمیان اس معاملے پر خاموشی کی بنیاد 1969 میں صدر رچرڈ نکسن اور اسرائیلی وزیرِ اعظم گولڈا مئیر کے درمیان ایک غیر رسمی معاہدے سے پڑی۔

مذکورہ معاہدے کے تحت امریکا نے اسرائیل کی ’جوہری ابہام‘ کی پالیسی کو قبول کیا اور اسے بین الاقوامی نگرانی سے بچانے پر رضامندی ظاہر کی۔

خط لکھنے والے ارکان کا مؤقف ہے کہ یہ پالیسی اب امریکا کی ساکھ کو نقصان پہنچا رہی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب واشنگٹن ایران، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے جوہری پروگرامز کو محدود کرنے کی کوشش کر رہا ہے لیکن اسرائیل کے پروگرام پر خاموش ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

نمرہ خان کے نکاح کی تصاویر وائرل، دلہے کی پہلی جھلک سامنے آگئی

ٹرمپ کے امن معاہدے کے اشارے پر تیل کی قیمتوں میں مسلسل کمی

سولر، ونڈ اور ہائیڈرو پاور کے ذریعے توانائی کے حصول پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب

مغربی بنگال: 15 سال بعد شکست، وزیراعلیٰ ممتا بینرجی کا استعفیٰ دینے سے انکار

ایچ آئی وی پھیلاؤ روکنے کے لیے قومی ایکشن پلان کا مطالبہ

ویڈیو

معرکہ حق: بھارت اب پاکستان کی طرف دشمنی کی نظر سے دیکھنے کی ہمت نہیں کرے گا، اسلام آباد کے عوام کی رائے

خیبرپختونخوا حکومت کا بجٹ، عوام کیا کہتے ہیں، کیا ان کے مسائل حل ہوں گے؟

امریکی صدر کی اسٹریٹجی ناکام، ایران سے مذاکرات کی جلدی

کالم / تجزیہ

اگر مولانا فضل الرحمان اپوزیشن لیڈر ہوتے؟

انڈین بنگال میں ممتا بنرجی کو کیسے ہرایا گیا؟

ٹریل 5: فطرت، تنہائی اور خودکلامی