جے یو آئی حکومت بلوچستان سے نالاں کیوں ہیں؟

بدھ 6 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

جمعیت علمائے اسلام (ف) بلوچستان کے صوبائی امیر سینیٹر مولانا عبدالواسع نے الزام عائد کیا ہے کہ بلوچستان حکومت نے صوبے بھر میں دینی مدارس کے خلاف کارروائیوں کا سلسلہ شروع کرتے ہوئے متعدد مدارس کو سیل کر دیا ہے اور انتظامیہ کو بھی دباؤ میں رکھا جا رہا ہے۔ جس قانون کے تحت یہ کارروائیاں کی جا رہی ہیں وہ نہ پارلیمنٹ اور نہ ہی صوبائی اسمبلی سے منظور شدہ ہے، جبکہ ملک کے دیگر صوبوں میں ایسی کوئی کارروائی دیکھنے میں نہیں آئی۔ انہوں نے واضح کیا کہ مدارس جمعیت علمائے اسلام کی ریڈ لائن ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:آپ کو پارٹی نمائندہ خود نامزد کرنے کا اختیار کس نے دیا؟ جے یو آئی کی الیکشن کمیشن کے فیصلے پر تنقید

اس معاملے پر جمعیت علمائے اسلام حکومتی وفد کے درمیان مذاکرات بھی ہوئے۔ صوبائی وزیر داخلہ میر ضیا اللہ لانگو کی قیادت میں وفد نے اپوزیشن رہنماؤں، جن میں مولانا عبدالواسع اور اپوزیشن لیڈر میر یونس عزیز زہری شامل تھے، سے ملاقات کی۔ ملاقات میں مدارس کی رجسٹریشن اور دیگر سیاسی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا اور دونوں جانب سے بات چیت کا سلسلہ جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔ حکومتی نمائندوں کا کہنا تھا کہ مدارس اسلامی معاشرے کے اہم ادارے ہیں اور ان کے حوالے سے حکومتی مؤقف کو سمجھنے کی ضرورت ہے، جبکہ حکومت نے ہمیشہ سیاسی و مذہبی جماعتوں کو اعتماد میں لینے کی کوشش کی ہے۔

تاہم مذاکرات کی دونوں نشستوں پر اپوزیشن اور حکومت کے درمیان ڈیڈ لاک برقرار ہے۔

ادھر جمعیت علمائے اسلام بلوچستان کی قیادت نے ایک مشترکہ بیان میں 6 مئی کو صوبے بھر میں مکمل شٹر ڈاؤن ہڑتال کا اعلان کر دیا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ یہ احتجاج مدارس کے خلاف کسی بھی اقدام کے خلاف ایک فیصلہ کن مرحلہ ہوگا، جس میں تمام بازار اور تجارتی مراکز بند رہیں گے۔ قیادت نے خبردار کیا کہ اگر مدارس کے خلاف کارروائیاں نہ روکی گئیں تو بھرپور عوامی تحریک چلائی جائے گی، جس میں جلسے، جلوس اور دیگر جمہوری ذرائع استعمال کیے جائیں گے۔ انہوں نے اس تاثر کو بھی مسترد کیا کہ مدارس کے خلاف اقدامات کسی بیرونی دباؤ یا ایجنڈے کے تحت ہو رہے ہیں اور حکومت سے فوری طور پر پالیسی پر نظرثانی کا مطالبہ کیا۔

یہ بھی پڑھیں:اگر مولانا فضل الرحمان اپوزیشن لیڈر ہوتے؟

سیاسی تجزیہ نگاروں کے مطابق بلوچستان میں مدارس کے معاملے نے ایک سنجیدہ سیاسی اور مذہبی کشیدگی کو جنم دیا ہے۔ ایک طرف حکومت رجسٹریشن اور ریگولیشن کے مؤقف پر قائم دکھائی دیتی ہے، جبکہ دوسری جانب جمعیت علمائے اسلام اسے دینی اداروں میں مداخلت قرار دے کر سخت ردعمل دے رہی ہے۔ شٹر ڈاؤن ہڑتال اور سوشل بائیکاٹ جیسے اقدامات سے سیاسی درجہ حرارت میں مزید اضافہ متوقع ہے۔

تاہم حکومتی وفد اور اپوزیشن کے درمیان جاری مذاکرات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ مسئلے کا حل مکالمے کے ذریعے تلاش کرنے کی گنجائش موجود ہے۔ اگر دونوں فریق لچک کا مظاہرہ کریں تو کشیدگی کم ہو سکتی ہے، بصورت دیگر یہ معاملہ وسیع احتجاجی تحریک میں تبدیل ہو کر صوبے کے امن و استحکام پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

مغربی بنگال: 15 سال بعد شکست، وزیراعلیٰ ممتا بینرجی کا استعفیٰ دینے سے انکار

ایچ آئی وی پھیلاؤ روکنے کے لیے قومی ایکشن پلان کا مطالبہ

آبنائے ہرمز کشیدگی: قطر کی ترسیل متاثر، پاکستان کا اسپاٹ ایل این جی خریدنے کا فیصلہ

امریکی ایئر لائنز کا بڑا فیصلہ، اب مسافروں کو مفت کھانا اور مشروبات نہیں ملیں گے

امریکی ڈیموکریٹس کا اسرائیل کے جوہری ابہام سے پردہ اٹھانے کا مطالبہ

ویڈیو

معرکہ حق: بھارت اب پاکستان کی طرف دشمنی کی نظر سے دیکھنے کی ہمت نہیں کرے گا، اسلام آباد کے عوام کی رائے

خیبرپختونخوا حکومت کا بجٹ، عوام کیا کہتے ہیں، کیا ان کے مسائل حل ہوں گے؟

امریکی صدر کی اسٹریٹجی ناکام، ایران سے مذاکرات کی جلدی

کالم / تجزیہ

اگر مولانا فضل الرحمان اپوزیشن لیڈر ہوتے؟

انڈین بنگال میں ممتا بنرجی کو کیسے ہرایا گیا؟

ٹریل 5: فطرت، تنہائی اور خودکلامی