امریکی ٹیکنالوجی کمپنی ایپل نے اپنی وائس اسسٹنٹ ’سری‘ میں مصنوعی ذہانت کے مجوزہ فیچرز کی تاخیر سے متعلق شیئر ہولڈرز کے مقدمے کو 25 کروڑ ڈالر میں نمٹانے پر رضامندی ظاہر کر دی ہے۔
یہ مقدمہ 2024 میں امریکی ریاست کیلیفورنیا کی وفاقی عدالت میں پیٹر لینڈشیفٹ نامی شیئر ہولڈر کی جانب سے دائر کیا گیا تھا۔ دعوے میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ ایپل نے اپنی سالانہ ڈویلپر کانفرنس کے دوران اے آئی اپ گریڈز کا اعلان کیا اور ان کی تشہیر بھی شروع کر دی، یہ کہتے ہوئے کہ یہ فیچرز اسی سال آنے والے نئے آئی فونز میں دستیاب ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیے ایپل 50 سال کا ہوگیا: سالگرہ پر ڈسکاؤنٹ آفرز، پاکستان میں کیا فائدہ ہوسکتا ہے؟
تاہم جب آئی فونز لانچ کیے گئے تو ان میں یہ فیچرز شامل نہیں تھے، جس سے شیئر ہولڈرز کو نقصان پہنچا۔ بعد ازاں 2025 میں ایپل نے اعلان کیا کہ سری کی اے آئی اپ گریڈ اب اس سال متعارف کروائی جائے گی، جبکہ کمپنی کے حکام نے تصدیق کی ہے کہ نئے فیچرز آئندہ ماہ ہونے والی سالانہ ڈویلپر کانفرنس میں پیش کیے جائیں گے۔
ایپل نے اس تصفیے میں کسی بھی قسم کی غلطی تسلیم نہیں کی، جبکہ اس معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے عدالت کی منظوری درکار ہوگی۔
کمپنی نے اپنے بیان میں کہا کہ 2024 میں ’ایپل انٹیلیجنس‘ متعارف کروانے کے بعد وہ متعدد دیگر اے آئی فیچرز جاری کر چکی ہے۔
یہ بھی پڑھیے ایپل صارفین کے لیے انتباہ، لاکھوں آئی فونز ہیک ہونے کا خطرہ!
ایپل کے مطابق، ’ہم نے 2 اضافی فیچرز کی فراہمی سے متعلق دعوؤں کو حل کرنے کے لیے تصفیہ کیا ہے۔ ہم نے یہ معاملہ اس لیے نمٹایا تاکہ ہم اپنی اصل ترجیح، صارفین کے لیے جدید اور منفرد مصنوعات و خدمات فراہم کرنے پر توجہ مرکوز رکھ سکیں۔‘














