وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان علمائے کونسل کے زیر اہتمام چھٹی بین الاقوامی پیغامِ اسلام کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان عالمی سطح پر امن، مکالمے اور اعتماد کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے کانفرنس کے انعقاد پر پاکستان علماء کونسل اور بین الاقوامی تحفظِ حرمین کونسل کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ یہ اجتماع امتِ مسلمہ کے اتحاد اور محبت کی بہترین مثال ہے۔
PM Shehbaz Sharif attends Sixth International Paigham-e-Islam Conference
Tune in to PakistanTV for latest updateshttps://t.co/wbSwGh128t#PMShehbazSharif #PaighamEIslam #IslamicConference #PeaceMessage #PakistanTV pic.twitter.com/e66NhKDioa
— Pakistan TV (@PakTVGlobal) May 6, 2026
وزیراعظم نے اپنے خطاب میں کہا کہ دنیا بھر سے آئے علما، مشائخ اور معزز مہمانوں کی موجودگی اس بات کا ثبوت ہے کہ اسلام امن، رواداری اور بھائی چارے کا دین ہے۔ انہوں نے کہا کہ امتِ مسلمہ کو درپیش مسائل کا حل باہمی محبت، اتحاد اور مثالی کردار کے ذریعے نکالا جا سکتا ہے۔
انہوں نے ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ مذاکرات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی دعوت پر دونوں ممالک کی قیادت کا ایک پلیٹ فارم پر آنا عالمی سطح پر پاکستان پر اعتماد کا واضح ثبوت ہے، جو خطے میں امن کے لیے ایک مثبت پیش رفت ہے۔
سعودی ولی عہد کے کردار کو خراجِ تحسین
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان نے عالمی امن اور مسلم اُمہ کے اتحاد کے لیے تاریخی کردار ادا کیا ہے، جبکہ ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سمیت برادر ممالک کی کوششیں قابلِ تحسین ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں ہونے والی حالیہ پیش رفت عالمی اعتماد کا مظہر ہے اور یہ خطے میں پائیدار امن کی بنیاد بن سکتی ہے۔
وزیراعظم نے پاکستان علمائے کونسل کے زیر اہتمام چھٹی بین الاقوامی پیغامِ اسلام کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے منتظمین اور شریک علماء و مشائخ کو مبارکباد دی اور اسے امتِ مسلمہ کے اتحاد، محبت اور بھائی چارے کی بہترین مثال قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ 1979 کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ امریکی اور ایرانی قیادت آمنے سامنے اسلام آباد میں بیٹھی اور مذاکرات کیے، جو ایک تاریخی پیش رفت ہے۔ وزیراعظم کے مطابق یہ پاکستان کی ایک اہم خدمت ہے جو اس نے اسلام اور عالمی امن کے لیے انجام دی، اور یہ کامیابی حکمت عملی، اخلاص اور پختہ عزم کا نتیجہ ہے۔
انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ یہ مذاکرات جلد دیرپا امن میں تبدیل ہوں گے اور خطے میں مزید جانی نقصان سے بچا جا سکے گا۔ وزیراعظم نے سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان کو خصوصی خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے امن مذاکرات میں بھرپور اور مؤثر کردار ادا کیا۔
وزیراعظم نے چین، ترکیہ اور دیگر برادر ممالک کی کوششوں کو بھی سراہا، جبکہ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی سفارتی کاوشوں کو اہم قرار دیا۔ اس کے ساتھ انہوں نے عاصم منیر کا خصوصی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے فریقین کو جنگ بندی اور مذاکرات کی میز پر لانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ یہ تمام کوششیں تاریخ میں سنہری حروف سے لکھی جائیں گی اور پاکستان کا کردار ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
’پروجیکٹ فریڈم‘ کی عارضی معطلی خطے میں کشیدگی کم کرنے کی سمت ایک اہم اور بروقت قدم ہے
وزیر اعظم شہباز شریف نے امریکی صدر کے اس فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے جس کے تحت آبنائے ہرمز میں پروجیکٹ فریڈم کو عارضی طور پر روک دیا گیا ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں شہباز شریف نے ڈونلڈ ٹرمپ کے اس فیصلے کو خطے میں کشیدگی کم کرنے کی سمت ایک اہم اور بروقت قدم قرار دیا۔
یہ بھی پڑھیں:
وزیر اعظم نے کہا کہ وہ صدر ٹرمپ کی جرات مندانہ قیادت اور اس فیصلے پر ان کے شکر گزار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ اقدام پاکستان اور دیگر برادر ممالک خصوصاً سعودی عرب کی درخواست پر کیا گیا، جس میں سعودی ولی عہد اور وزیر اعظم شہزادہ محمد بن سلمان کا کردار بھی اہم تھا۔
I am grateful to President Donald Trump for his courageous leadership and timely announcement regarding the pause in Project Freedom in the Strait of Hormuz.
President Trump's gracious response to the request made by Pakistan and other brotherly countries, particularly the…
— Shehbaz Sharif (@CMShehbaz) May 6, 2026
وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ یہ پیش رفت موجودہ نازک صورتحال میں خطے میں امن، استحکام اور مفاہمت کو آگے بڑھانے میں مددگار ثابت ہوگی۔
مزید پڑھیں: امریکا ایران جنگ، پاکستان کی سفارتکاری جاری، اہم کامیابی مل گئی
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان ہمیشہ سے ایسے تمام اقدامات کی حمایت کرتا آیا ہے جو تحمل، مذاکرات اور سفارتکاری کے ذریعے تنازعات کے پرامن حل کو فروغ دیں۔
وزیر اعظم کے مطابق امید ہے کہ موجودہ مثبت پیش رفت ایک ایسے پائیدار معاہدے کی طرف لے جائے گی جو نہ صرف خطے بلکہ اس سے باہر بھی دیرپا امن اور استحکام کو یقینی بنائے گا۔












