سپریم کورٹ آف پاکستان کے اعلامیے کے مطابق پاکستان کا پہلا اعلیٰ سطح جوڈیشل وفد مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کے تحت ترکیہ کے سرکاری دورے پر استنبول پہنچ گیا، جہاں وہ 3 سے 8 مئی 2026 تک مختلف عدالتی سرگرمیوں میں حصہ لے رہا ہے۔
مزید پڑھیں:27ویں آئینی ترمیم کے بعد سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ: سپریم کورٹ اور وفاقی آئینی عدالت ہم پلہ قرار
یہ وفد چیف جسٹس آف پاکستان کی نامزدگی پر تشکیل دیا گیا ہے، جس میں سپریم کورٹ کے جسٹس محمد علی مظہر، گلگت بلتستان کے چیف جسٹس علی بیگ اور ضلعی عدلیہ کے منتخب ججز شامل ہیں۔
وفد کو ترکیہ کی آئینی عدالت کی دعوت پر یہ دورہ کرایا جا رہا ہے، جس کا مقصد عدالتی تعاون کو فروغ دینا اور جدید تقاضوں سے ہم آہنگ اصلاحات کو آگے بڑھانا ہے۔
دورے کے دوران پاکستانی ججز نے استنبول میں ترکیہ کی آئینی عدالت کے حکام سے ملاقاتیں کیں، جہاں جدید عدالتی نظام، آئی ٹی انفراسٹرکچر، کیس مینجمنٹ سسٹمز اور عدالتی امور میں ٹیکنالوجی کے استعمال پر خصوصی سیشنز کا انعقاد کیا گیا۔
اعلامیے کے مطابق وفد کو مختلف اداروں کے دورے بھی کرائے گئے تاکہ بین الاقوامی عدالتی طریقہ کار اور بہترین عملی نمونوں سے آگاہی حاصل کی جا سکے۔ اس موقع پر باہمی تعاون، عدالتی تربیت اور جدید ٹیکنالوجی کے مؤثر استعمال پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
اس دورے کا بنیادی مقصد پاکستانی عدالتی نظام کی استعداد کار میں اضافہ، ادارہ جاتی روابط کو مضبوط بنانا اور عوام کو تیز، شفاف اور مؤثر انصاف کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔












