پاک ترکیہ عدالتی تعاون میں پیشرفت، پاکستانی جوڈیشل وفد کا استنبول کا اہم دورہ

بدھ 6 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سپریم کورٹ آف پاکستان کے اعلامیے کے مطابق پاکستان کا پہلا اعلیٰ سطح جوڈیشل وفد مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کے تحت ترکیہ کے سرکاری دورے پر استنبول پہنچ گیا، جہاں وہ 3 سے 8 مئی 2026 تک مختلف عدالتی سرگرمیوں میں حصہ لے رہا ہے۔

مزید پڑھیں:27ویں آئینی ترمیم کے بعد سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ: سپریم کورٹ اور وفاقی آئینی عدالت ہم پلہ قرار

یہ وفد چیف جسٹس آف پاکستان کی نامزدگی پر تشکیل دیا گیا ہے، جس میں سپریم کورٹ کے جسٹس محمد علی مظہر، گلگت بلتستان کے چیف جسٹس علی بیگ اور ضلعی عدلیہ کے منتخب ججز شامل ہیں۔

وفد کو ترکیہ کی آئینی عدالت کی دعوت پر یہ دورہ کرایا جا رہا ہے، جس کا مقصد عدالتی تعاون کو فروغ دینا اور جدید تقاضوں سے ہم آہنگ اصلاحات کو آگے بڑھانا ہے۔

دورے کے دوران پاکستانی ججز نے استنبول میں ترکیہ کی آئینی عدالت کے حکام سے ملاقاتیں کیں، جہاں جدید عدالتی نظام، آئی ٹی انفراسٹرکچر، کیس مینجمنٹ سسٹمز اور عدالتی امور میں ٹیکنالوجی کے استعمال پر خصوصی سیشنز کا انعقاد کیا گیا۔

اعلامیے کے مطابق وفد کو مختلف اداروں کے دورے بھی کرائے گئے تاکہ بین الاقوامی عدالتی طریقہ کار اور بہترین عملی نمونوں سے آگاہی حاصل کی جا سکے۔ اس موقع پر باہمی تعاون، عدالتی تربیت اور جدید ٹیکنالوجی کے مؤثر استعمال پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

مزید پڑھیں:اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز ٹرانسفر کا معاملہ سپریم کورٹ پہنچ گیا، آئینی ترامیم اور شفافیت پر سوالات، بار ایسوسی ایشن کی درخواست دائر

اس دورے کا بنیادی مقصد پاکستانی عدالتی نظام کی استعداد کار میں اضافہ، ادارہ جاتی روابط کو مضبوط بنانا اور عوام کو تیز، شفاف اور مؤثر انصاف کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

سفید جادو، مثبت اور مددگار

متحدہ اپوزیشن کی تشکیل پر اتفاق: کیا مولانا فضل الرحمان کی سربراہی میں یہ اتحاد حکومت کے لیے خطرہ بن سکتا ہے؟

شام کے وزیر خارجہ کا دورہ پاکستان مکمل: باہمی تعاون اور تعلقات کو فروغ دینے پر اتفاق

برونائی کے سلطان نے بہو سے شاہی اعزازات کیوں واپس لے لیے؟

عمران خان کو عین وقت پر شفا اسپتال کی بجائے پمز کیوں لے جایا گیا؟ طارق فضل چوہدری نے بتادیا

ویڈیو

ایک سال تک مفت اے آئی سہولت، پاکستانی طلبہ اسے کیسے حاصل کرسکتے ہیں؟

عمران خان کا علاج الشفا انٹرنیشنل کے بجائے پمز سے، حقائق کیا؟ پمز منتقلی کے خلاف پی ٹی آئی کا بڑا اقدام، خان کا سہیل آفریدی کے لیے پیغام

امریکی صدر پر گانا چرانے کا الزام، گلوکارہ آریانا گرانڈے ڈونلڈ ٹرمپ پر برس پڑیں

کالم / تجزیہ

سفید جادو، مثبت اور مددگار

عینی آپا ’آگ کا دریا‘ پار کیوں نہ کرسکیں؟

’ايسا ابّا کہاں سے لبھّا تھا‘