میڈیکل کے تعلیمی اداروں کی منظوری سے متعلق اجلاس، اسحاق ڈار کا معیار تعلیم کو بہتر بنانے کی اہمیت پر زور

منگل 12 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کی زیر صدارت میڈیکل، ڈینٹسٹری اور متبادل طب کے تعلیمی اداروں کی منظوری سے متعلق کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا۔

اجلاس میں متعلقہ قوانین کے تحت میڈیکل، ڈینٹسٹری اور متبادل طب کے تعلیمی اداروں کی منظوری سے متعلق مختلف کیسز کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور ان کی جانچ پڑتال کی گئی۔

نائب وزیراعظم نے اجلاس میں معیارِ تعلیم کو یقینی بنانے اور بین الاقوامی معیار کے تقاضوں پر مکمل عملدرآمد کی اہمیت پر زور دیا۔

کمیٹی نے اس بات کا بھی اعادہ کیا کہ بیرون ملک میڈیکل تعلیم حاصل کرنے کے خواہشمند پاکستانی طلبہ کو پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کے مقررہ طریقہ کار کے تحت پہلے سے رجسٹریشن لازمی کروانی ہوگی تاکہ مستقبل میں کسی بھی قسم کی مشکلات سے بچا جا سکے۔

اجلاس میں وفاقی وزیر برائے قومی صحت خدمات و ضوابط، وزیر قانون و انصاف، وزیراعظم کے معاون خصوصی طارق باجوہ، سیکریٹری صحت، سیکریٹری تعلیم اور متعلقہ وزارتوں و اداروں کے سینیئر حکام نے شرکت کی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار سے شاہ غلام قادر کی ملاقات، آزاد کشمیر کی سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال

اعلیٰ عدلیہ کے ججز کی تنخواہوں اور مراعات میں بڑا اضافہ

مچل اسٹارک کا نیا ریکارڈ، بائیں ہاتھ سے بولنگ کرنے والے ٹیسٹ کرکٹ کے کامیاب ترین بولر بن گئے

روس اور ایران کے خطرات کے پیشِ نظر جرمنی کا خفیہ اداروں کو مزید طاقت دینے کا فیصلہ

ایران امریکا جنگ میں پاکستان کے ثالثی کردار کی بھرپور حمایت کرتے ہیں، نارویجن وزیرِ خارجہ کی اسحاق ڈار کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس

ویڈیو

ایران امریکا جنگ میں پاکستان کے ثالثی کردار کی بھرپور حمایت کرتے ہیں، نارویجن وزیرِ خارجہ کی اسحاق ڈار کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس

آزاد کشمیر کے عوام نے عوامی ایکشن کمیٹی کو مسترد کر دیا، تشدد کسی صورت برداشت نہیں ہوگا،  ترجمان آزاد جموں و کشمیر پولیس

‘’میرا پاکستان’ آپ کے نزدیک کس احساس کا نام ہے؟’

کالم / تجزیہ

انڈین خارجہ پالیسی کی ارتھی

ہمیں کاکروچ نہیں، خرگوش چاہئیں

13 برس بعد معلوم ہوا